حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

جمعہ، 19 اکتوبر، 2012

محمداحمد کاظمی کو جب گرفتار کیاگیاتھا



محمداحمد کاظمی کو جب گرفتار کیاگیاتھا اس وقت پولیس نے چند دعوے کےے تھے وہ ان کاثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکی۔

 پولیس کا ایک دعویٰ ےہ تھا کہ سینئر صحافی محمد احمد کاظمی2011ءسے کچھ غیر ملکی افراد سے بذریعہ فون رابطے میں تھے ان میں ایرانی شہری ہوشنگ افسر ایرانی بھی تھا۔

 لیکن پولیس ان نمبروں پر ہونے والی تفصیلات عدالت میں پیش نہیں کرسکی۔ 

دوسری بات ےہ کہی گئی تھی کہ اس مبینہ حملے میں جو موٹر سائیکل برآمد کی گئی تھی وہ کالے رنگ کی ہیروہونڈا پیشن تھی

 جب کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعے کے عینی شاہد گوپال کرشن نے اپنا جو بیان ریکارڈ کرایا تھا اس میں لال رنگ بتایا تھا۔

پولیس نے گرفتاری کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں ےہ دعویٰ کیا تھا کہ کاظمی کی اہلےہ کے بنک اکاونٹ میں 21لاکھ روپے بیرون ملک سے منتقل ہوئے تھے۔ جو انہیں مبینہ حملہ کرانے کے عوض فراہم کےے گئے تھے

 اس کا بھی کوئی ثبوت پیش کرنے میں پولیس ناکام رہی ۔


 اس کے علاوہ پولیس نے قرول باغ میں ہوٹل ہائی میں حملہ آوروں کے ٹھہرنے کی بات کہی تھی اور قابل اعتراض مواد کے ساتھ ساتھ دھماکہ خیز مادہ پائے جانے کا دعویٰ کیا تھا. 

 مگر افسوس کہ پولیس اپنے اس دعوے کو بھی عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے ہوٹل کے رجسٹرکے مطابق ۲۶فروری کو ۳۰۵ نمبر کمرے کی کوئی بکنگ نہیں ہوئی تھی۔ 

اس کے علاوہ محمد احمد کاظمی کے بارے میں پولیس نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی ماروتی آلٹو سے حملہ آوروں کو سفارت خانےکے علاقے کا دورہ کرایاتھا اور ان دہشت گردوں نے ہندوستان میں تیرہ دن گزارے تھے.

 لیکن اس دعوے کے حق میں بھی پولیس عدالت میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔  

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔