حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

بدھ، 24 اکتوبر، 2012

کیااہل مغرب کو محض کوسنا ہی مسئلے کا حل ہے؟


میڈیا رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ دارالحکومت دہلی ، جو آل انڈیا ملی وسماجی تنظیموں کا مرکز بھی ہے ،کے سندر نگری علاقہ (مشرقی دہلی) میں ایک ایسا مدرسہ دین اسلام کی خدمت میں مصروف عمل ہے جس کا خرچ کوئی مسلم تنظیم نہیں بلکہ ایک عیسائی مشنری ادارہ سینٹ اسٹیفن ہیلتھ کیئر سنٹر اٹھا رہا ہے۔ یہ ادارہ دہلی میں طویل عرصے سے صحت کے میدان میں خدمات انجام دے رہا ہے گویا اس ادارے نے اب اس مدرسے کو گود لے لیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسٹیفن ہیلتھ کیئر سنٹر کی جانب سے غریب آبادیوں میں چلائی جانے والی صحت چیک اپ مہم کے دوران صحت ٹیم کو سلیمن بی ‘ نامی ایک ضعیف العمر خاتون ملیں جو متعدد بیماریوں کا شکار تھیں۔کسی زمانہ میںیہ خاتون لڑکیوں کا ایک مدرسہ چلایا کرتی تھیں لیکن تین برس قبل مدرسہ کے بند ہو جانے کی وجہ سے ان کی حالت دن بدن خراب ہوتی چلی گئی، انھیں مدرسہ کے بند ہونے کا صدمہ اس قدرہوا کہ انھوں نے اپنا ذہنی توازن بھی کھو دیا ،اورپاگلوں کی طرح گلیوں میں بھٹکنے لگیں ،جسم پر جگہ جگہ زخم نکل آئے ، سر پر جووں نے اپنا مسکن بنا لیا ، اکثروہ اکیلے میں ہی بڑ بڑانا شروع کر دیتیں۔اس صورتحال میں اپنوں نے تو کیا غیروں نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا ،محلے کے بچے ان کو پاگل عورت سمجھ کر پریشان کرنے لگے نیز کسی کو ان کی خیریت دریافت کرنے کی نوبت نہ آئی۔حتی کہ آس پاس رہنے والے ان مسلمانوں کو بھی نہیں جن کے مذہب میں خدمت خلق کو اعلی درجہ دیا گیا ہے،سلیمن بی کی اس حالت پر ترس آیا توایک عیسائی مشنری کے اسٹیفن ہیلتھ کیئر سنٹر کو جن کے عملے نے ان کی دادرسی کی، نیز انہیںہر طرح کی طبی مدد پہنچانے کا کام کیا۔چنانچہ اس درمیان جب مشنری کے افراد کو یہ معلوم ہوا کہ سلیمن بی بچیوں کی دینی تعلیم کے لئے ایک مدرسہ بھی چلاتی تھیں جو گزشتہ تین برس سے بند پڑا ہے ۔ تو انھیں کافی تشویش ہوئی اورٹیم کے سربراہ ڈاکٹر آمود کمار نے سلیمن بی کو یقین دلایا کہ آپ قطعی پریشان نہ ہوں ہم آپ کے مدرسے کو دوبارہ شروع کرنے میں آپ کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ادارے کے افراد اب انہیں سلیمن بی کہہ کر نہیں پکارتے ہیںبلکہ انھوں نے انہیں منھ بولی ’اماں‘ بنا لیا ہے۔
عام طور پر مسلمانوں کا جو پہلا تاثر اس قسم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے وہی یہاں بھی ہوا اور مشنری کو مقامی مسلمانوں کے عتاب کا شکار ہونا پڑا ،لیکن اس درمیان مشنری کی مسلسل کوششیں جاری رہیں جس کے نتیجے میں یہ مدرسہ دوبارہ شروع ہوا اور اب انتہائی منظم ڈھنگ سے چل رہا ہے ۔ فی الوقت مدرسے میں دس تا چودہ برس کی عمر کی تیس بچیاں زیر تعلیم ہیں جنہیں قرآن ، عربی ، اردو اور دینیات کے اہم امور سکھائے جاتے ہیں، مدرسے کی معلمات بھی اب کافی مطمئن ہیں کیونکہ انہیں معقول مشاہرہ صرف چند گھنٹے کی خدمت کے عوض مل جاتا ہے، اب سلیمن بی کی صحت کی بلاناغہ مانیٹرنگ ہوتی ہے اور ان کے کھانے پینے کا انتظام مذکورہ سینٹر کے تحت چلنے والے ایک ’اولڈ ایج ہوم‘ نے سنبھال رکھا ہے۔یہاں پر یہ بات بھی عرض کر دینے کی ہے کہ یہ خاص فیچررپورٹر نے کسی سازش کو طشت از بام کرنے کی غرض سے نہیں پیش کیا ہے بلکہ فیچر کو پیش کرنے کے پیچھے رپورٹر کا جذبہ موجودہ عالمی تناظر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال کے طور پر پیش کرنا ہے ، جس کا برملا اظہار رپورٹ میں کیاگیا ہے۔ ظاہر ہے یہ خبر عام قاری کے لئے توحیرت انگیز ہوسکتی ہے لیکن باخبر افراد کے لئے اس میں کوئی حیرت انگیز پہلو اس لئے نہیں ہے، کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلکہ اب تو یورپی ممالک اور امریکی حکومت اس طرح کی ’اسکیموں‘ کی باقاعدہ سرپرستی کر رہی ہے، ان کی مالی و اخلاقی امداد بھی جاری ہے۔ اور اب توعالمی سطح پر مدارس اسلامیہ کو گود لینے کے منصوبے ترتیب دیئے جارہے ہیں ، کچھ مقامات پر امریکہ نے اسے پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع بھی کردیا ہے۔

 آج سے کوئی چھ برس قبل دسمبر 2006 میں ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے شہر حیدرآباد میں امریکی امدادی ادارہ USAID کی ہندوستانی شاخ کے سربراہ جارج ڈیکن اور ریاست کے وزیر اوقاف محمد فریدالدین نے مشترکہ طور پر ایک تقریب میں27 دسمبر2006 کو یہ اعلان کیا تھا کہ ریاست کے تقریباً 1200مدارس میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے امریکی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس پروگرام کی شروعات2003 میں ہوئی تھی جس پر باقاعدہ عمل کا آغاز 2006 میں ہوا۔ پروگرام کے اعلان سے متعلق پریس ریلیز دہلی میں امریکی سفارتخانے سے جاری کی گئی تھی جس کا عنوان تھا ”مدرسہ تعلیم میں آندھرا پردیش کو امریکہ کی مدد“ پریس ریلیز میں یو ایس ایڈ کے ہندوستانی شاخ کے سربراہ جارج ڈیکن نے جو گزارش کی ہے ملاحظہ فرمائیں ”مدارس کے منتظمین سے گزارش ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تال میل کو فروغ دینے میں قائدانہ کردار ادا کریں ۔ امریکہ آندھرا پردیش حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہشمند ہے فی الحال پروگرام کی توسیع کرتے ہوئے ریاست کے تقریباً 1200 مدارس اس میں شامل کرلئے گئے ہیںباقی منصوبہ پر بعد میںکام کیا جائے گا “ ۔پریس ریلیز کے آخری حصے کے اقتباس کچھ اس طرح ہیں ”امریکہ نے حیدرآباد کے گیارہ سو مدرسوں کے نصاب میں رسمی تعلیم کو شامل کرنے اور مدارس وآندھرا پردیش کی حکومت کے درمیان تال میل پیدا کرنے کی کوششوں کے ساتھ 2003 میں اس پروگرام کی شروعات کی تھی، ان مدارس میں پہلے سال ہی لڑکیوں کے داخلے میں 16 فیصد کا اضافہ ہوا اور طلبہ کی بڑی تعداد نے کامیابی کے ساتھ امتحان میں شرکت کی“۔حالانکہ امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اس پریس ریلیز میں آندھرا پردیش کے علاوہ کسی اور ریاست میں مدارس کو امداد دینے کا ذکر تو نہیں ملتا لیکن ہم یہ یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ آندھراپردیش پہلی تجربہ گاہ ہے ان کی نظر یںتو ہندوستان بھر کے مدارس اسلامیہ پر ہےں لیکن بقیہ ریاستوں کے منصوبے کا بلیو پرنٹ آنا ابھی باقی ہے۔ ملک کی صرف ایک ریاست میں بارہ سو مدارس کو صرف تین برس کی جدوجہد کے نتیجے میں امریکہ متبنیٰ بنا چکا ہے۔
اس معاملے کے دو پہلو ہیں ۔ ایک پہلو کا تعلق ان کوششوں سے ہے جو مذکورہ طریقے سے کی جارہی ہیں اور دوسرے پہلو کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو ان کوششوں کے نشانے پر ہیں اور دونوں یکساں توجہ کے طالب ہیں۔بظاہر خدمت خلق کے نام پر عیسائی مشنریاں اس کی آڑ میں اپنے جن مقاصد کو بروئے کار لانا چاہتی ہیںاس میں انھیں کامیابی بھی مل رہی ہے ۔یہ صرف امریکہ کی ہی بات نہیں ہے بلکہ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی حکومت کی جانب سے باضابطہ ایسے منصوبہ ترتیب دئے جا رہے ہیں۔ جس کی ایک شکل گذشتہ دنوں مدرسہ بورڈ کے قیام کی کوشش کے طور پر سامنے آ چکی ہے ،حالانکہ متعدد مسلم قائدین کی جانب سے اسکی مخالفت کے بعد اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا تاہم اس سبق کو آگے بڑھانے کے لئے منموہن سنگھ سرکار برابرکوشاںہے چنانچہ اسی تناظر میں جون کے آخری ہفتے میں متذکرہ بالا امریکی فارمولے اور ہدایت کی روشنی میں مدارس کے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے طور طریقوں پر غوروخوض کرنے کے لئے ایک خصوصی پینل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیاہے اور اس کی ذمے داری فروغ انسانی وسائل کی وزارت کو سونپی گئی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں مدرسہ بورڈ کے قیام کی بحث اسی تناظر میں شروع ہوئی تھی۔
ظاہر ہے یہ انقلاب رات کے اندھیرے میں چوری چھپے زیر زمین تو نہیں آیا ہے، آخر مسلمانانِ ہند اور ان کے مدارس کے تئیں امریکہ کے دل میں امنڈنے والے اس جذب  شفقت و محبت کے اصل محرکات کیا ہیں؟ ان سازشوں سے ہم اتنے بے خبر کیوں ہیں؟ کیا اہل مغرب کو محض کوسنا ہی مسئلے کا حل ہے؟ امریکہ کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ جب تک اسلامی مدارس کی بنیادیں نہ ہلا دی جائیں ، مسلمانوں کی ایسی نسلیں پیدا ہوتی رہیں گی جو کتاب وسنت سے راست وابستگی کے سبب دنیا کے واحد سپر پاور کو چیلنج کرتی رہیں گی۔ لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ عزائم ، منصوبے اور خطرناک سازشیں ہیں اور دوسری جانب ہماری بے بسی اور بے حسی ہے، مالیات کی نوازشوں کی لذت نے ہمارے اعصاب پر اپنی گرفت اس قدر مضبوط کرلی ہے کہم نے خود کو زمانے کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے ۔
E-mail: ashrafbastavi@gmail.com

1 تبصرہ کریں:

unani doctor نے لکھا ہے کہ

bahut durust baat kahi bp ne.hamara haal to ye hai ke saudi hakumat se ,IDB,se madaris,masajid banane ke naam pe log apna karo baar chala rahe hain.
Khuloos se khali khidmat e khalq ke phal kia nataej den ge wo hum dekh hi rahe hain.

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔