حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

منگل، 5 مارچ، 2013

غیروں پہ" ستم" اپنوں پہ "کرم" اے جا ن وفا ۔۔۔۔۔



غیروں پہ" ستم" اپنوں پہ "کرم" اے جا ن وفا ۔۔۔۔۔

بھارت میں  دہشت گردی کے نام پر تفتیشی ایجنسیا ں حکومت اور ملک کے عوام کوکس طرح  دھوکہ دے رہی ہیں اس کا  پتہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل میں بند ہندوستانی فوج کے میجر رمیش اپادھیائے کے اس خط سے لگایا جا سکتا ہے جو اس نے گذشتہ دنوں  ممبر آف پارلیمنٹ راجیہ  سبھا کے رکن محمد ادیب  کو ارسال کیا تھا. رمیش اپادھیائے نے جیل سے لکھے ایک خط میں یہ  سنسنی خیز انکشا ف کیا ہے . رمیش کو آر ٹی ائی سے ملی معلومات کے مطابق  بھات میں کئی بڑے دہشت گردانہ واقعات انجام دینے  کے  ملزم کرنل سری کانت پرشاد  پروہت کو پانچ سال سے جیل میں بند ہونے کے باوجود بھارتی فوج  اسے پوری تنخواہ دے رہی ہے ۔
وزارت دفاع کے آرمی محکمہ نے  آرٹی آءی  کا یہ جواب  تیرہ  جون ۲۰١۲کو ارسال کیا  تھا ۔ آرٹی آءی  کے تحت ملی معلومات کے مطابق مالیگاؤں بلاسٹ  معاملے میں2008 سے گرفتار کرنل پرساد شری کانت پروہت کو مسلسل تنخواہ اور دیگر  الاؤنس مل رہا ہے. آر ٹی ائی کے جواب میں پرنسپل کنٹرولر آف ڈیفنس اکاؤنٹ (افسر)، پونے (خط نمبر LW/05/084/182292) کا کہنا ہے کہ کرنل پروہت کو فوج مسلسل پوری سیلری ادا کر رہی ہے. جواب میں کہا گیا ہے، 'لیفٹیننٹ کرنل شري كانت  پروهت کو مسلسل مکمل تنخواہ اور بھتے دیے جا رہے ہیں۔

سوال یہ  ہے کہ دہشت گردی کے سنگین الزام  میں جیل میں بند  فوجی جس کے خلاف  چارج شیٹ  داخل ہے کو  کیوں اور کس بنیاد پر تنخواہ دی جارہی ہے  ؟ یہی نہیں، کرنل پروہت کے ساتھ ہی گرفتار ہوئے والا فوجی  میجر رمیش اپادھیائے مزید سگين الزام لگا یا ہے . جیل سے لکھے اس خط میں رمیش اپادھیائے نے دعوی کیا ہے کہ پروہت نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار کی سپاری بھی لی تھی. رمیش اپادھیائے نے اس کی اطلاع مہاراشٹر اے ٹی ایس کو بھی دی لیکن اے ٹی ایس چیف راکیش ماریا نے اس مسئلے پر آگے کبھی جانچ نہیں کی. معاملہ فی الحال این آئی اے کے پاس ہے.
میجر رمیش اپادھیائے نے یہ بھی  پوچھا ہے کہ  پروہت نے کن بھارتی فوجی  افسران کو تربیت دی؟ کیا تربیت دی؟ وہ افسر آج کہاں ہیں؟ انہوں نے کتنے ہندو یا مسلمان دہشت گردی کے الزام میں پکڑے یا نہیں پکڑے؟ یہ معلومات ریکارڈ میں ہونا چاہیے.
غور طلب امر یہ بھی ہے کہ کر نل پروہت کی گرفتاری سے قبل ہر دھماکے کے بعد عربی زبان میں تھریر کردہ خط ضرور میڈیا میں موضوع بحث ہو تا تھا لیکن پروہت کی گرفتاری کے بعد ہو نے والے واقعات کے بعد کبھی کوءی عربی زبا ن میں تحریر کردہ خط نہیں آیا ، پروہت کی گرفتاری کے وقت تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آءی تھی کہ وہ عربی زبان سیکھ رہا تھا ۔
یہ تو رہی  کرنل پروہت کی کہانی ، آج سے  کوءی آتھ ماہ  قبل ستمبر ۲۰١۲ میں  بھارت کے شہر بنگلور میں سلسلے وار بم دھماکے ہوءے تھے جس میں کچھ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آءی تھی  سبھی سولہ نوجوانوں میں بھارت کے انتہاءی اہم ساءنسی ادارے DRDO کے جونیر ساءنس داں اعجاز مرزا کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا  سات ماہ بعد تمام تر تفتیش کے بعد اسے مارچ میں اسی ہفتے  ضمانت ملی ہے کوءی ثبوت نہ ہو نے کی وجہ سے بنگلور پولیس چارج شیٹ میں ان کا نام داخل نہیں کر سکی ، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ DRDO نے بارہ فروری ۲۰١۳کو ہی  ان  کو  نوکری سے نکالنے کا حکم نامہ جاری کرد یا تھا ۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اول الذکر معاملے میں فوج کا محکمہ اپنے فوجی کی سروس کو نہ صرف برقرار رکھے ہوءے ہے بلکہ  اسے ماہانہ تنخواہ بھی جاری ہے اور دوسرے  معاملے میں محض شک کی بنیاد پر ایک مسلم ساءنس داں کو سات ماہ تک جیل کی سلاخوں میں ڈال کر رکھا گیا اور بعد میں جب اسے رہا کیا گیا تو DRDO نے اس کو ٹرمنیٹ کردیا ، تشویش ناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ  بی جے پی کے دور اقتدار میں نہیں ہو رہا ہے  جوملک میں   ہندو توا  کی حکمرانی قاءم کرنے  اور فرقہ پرستی کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے بلکہ بھارت کی موجودہ سیکولر سرکار جسکی قیادت کانگریس کر رہی ہے  کی سرپرستی میں ہو رہا ہے ۔

آخر ان سوالوں  کا جواب کون دے گا کہ کرنل پروہت کوتنخواہ کیوں اور کس طرح دی جا رہی ہے؟  اس کا کیا جواز ہے ؟  ا ن دونوں واقعات سے دہشت گردی کے خلاف حکومت کادوہرا معیار کھل کر ظاہر ہو گیا ہے ایسا  کیوں ہے . بے قصور مسلم نو جو ا نوں کی دہشت گردی کے نام پر گرفتاری اور دس پنرہ برس  بعد بری قرار دیئے جانے کا یہ کھیل کب تک چلتا رہے گا ؟.

2 تبصرہ کریں:

geopolitical network system نے لکھا ہے کہ

A very good and investigative story, would help to restore the truth and justice in India , keep it on

ashraf bastavi نے لکھا ہے کہ

Thanks

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔