حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

اتوار، 28 جولائی، 2013

انا ہزارے کے مبہم موقف کی وجہ کیا ہے؟

 
”میں نریندر مودی کو فرقہ پرست نہیں مانتا، مجھے اب تک نریندر مودی کو فرقہ پرست ماننے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے“ یہ کہنا ہے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے والے گاندھیاءی لیڈرانا ہزارے کا جو ملک میں بدعنوانی کے خلاف عوامی بیداری مہم چلا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بیان 18 جولائی کو اپنی جن تنتر یاترا کے دوران بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے اندورسٹی  پریس کلب میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں دیا ہے۔ ان کے اس تازہ بیان نے ایک بار پھر انہیں سوالات کے گھیرے میں لاکر کھڑا کردیا ہے اور یہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس ماہ کے اوائل میں دہلی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ’چوتھی دنیا‘ کے اردو ایڈیشن کی جانب سےدہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اردو صحافیوں کی پریس کانفرنس میں انا ہزارے نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستانی مسلمان گزشتہ  67برسوں میں ظلم وناانصافی کا شکار ہوئے ہیں، نیز میرے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکوں کہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوا ہےانا ہزارے کے یہ دو الگ الگ بیانات محض چودہ دنوں کے درمیان آئے ہیں۔
انا ہزارے کے ان دونوں بیانات کے آزادانہ تجزیے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان پر آر ایس ایس سے تعلق رکھنے کے جو الزامات لگائے جارہے ہیں ان میں وزن ہے۔ کیا ان کے بیانات سے نریندر مودی کی حمایت اور مسلم اقلیتوں کے مسائل سے عدم دلچسپی صاف نظر نہیں آتی؟ ان کی پوری تحریک میں کیا کوئی ایسی مثال ملتی ہے جب کبھی انھوں نے دلتوں، آدی باسیوں کے ساتھ ساتھ مسلم اقلیتوں کو درپیش دشواریوں کے حل کے لئے بات کی ہو؟حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ اردو صحافیوں کی پریس کانفرنس میں مسلم مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے انا ہزارے کو تیار کیاگیا تھا لیکن اس وقت بھی بار بار کی توجہ دہانی کے باوجود ان کی گفتگو میں ایک بار بھی مسلمان اور مسلم مسائل کا ذکر نہیں آیا جبکہ اس کانفرنس کا مقصد انا ہزارے اور مسلمانوں کو قریب کرنا تھا تاکہ ان کی تحریک میں مسلمان سرگرم شرکت کریں، تقریباً دوگھنٹے تک چلی پریس کانفرنس میں انا ہزارے ہر سوال کے جواب میں دامن بچاتے نظر آئے۔ اس امید کے ساتھ کہ ان کی تحریک میں مسلمان مزید بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
پریس کانفرنس کا مقصد تو انا ہزارے اور مسلمانوں کو قریب کرنا تھا تاکہ ان کے درمیان فاصلے کم ہوں لیکن ہوا یہ کہ انا ہزارے کے ڈانواڈول موقف کی وجہ سے دوریوں میںاضافہ ہی ہوا۔ غلط فہمیوں کے ازالے کے لئے بلائی گئی یہ کانفرنس غلط فہمیوں کے اضافے کا سبب بن گئی اور مسلمانوں کے تئیں انا ہزارے کے نظریے سے بخوبی واقفیت ہوئی۔ اور اب اندور کی اس کانفرنس نے تو اور بھی واضح کردیاکہ انا ہزارے کس سیاسی تبدیلی کے لئے کوشاں ہیں؟ انہیں گجرات کے تین ہزار افراد کے قتل میں ریاست کے وزیراعلیٰ نریندر مودی قصوروار نظر نہیں آئے، جبکہ ایسی متعدد رپورٹیں زیر بحث ہیں جس میں گجرات فساد میں نریندر مودی کے کردار پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے۔
اب ذرا ایک نظر پریس کانفرنس کا انعقاد کرنے والے ادارے ہفت روزہ ’چوتھی دنیا‘ کی رپورٹنگ پر ڈالتے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ ”اس پریس کانفرنس کا مقصد انا ہزارے اور ان کی تحریک سے اردو صحافیوں کی دوری کو کم کرنا تھا تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے۔ لہٰذا انا ہزارے نے اردو صحافیوں کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اردو صحافت اور اس سے وابستہ صحافی ابھی اتنے بالیدہ نہیں ہوپائے ہیں کہ انا کے اشاروں کنایوں کو سمجھ سکیں   ‘ اندور کی پریس کانفرنس میں نریندر مودی کو صاف ستھرا اور بے قصور ہونے کی سند دینے والے انا ہزارے کے اشاروں کنایوں کو مین اسٹریم میڈیا بھلے ہی نہ سمجھ پایا ہو لیکن عدم بالیدگی کے باوجود اردو میڈیا نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ ان کی جن تنتر یاترا کا مقصد کیا ہے؟ اگلے ہی روز اپنے سابقہ بیان کی وضاحت انا ہزارے نے کچھ اس طرح کی کہ ”نریندر مودی کے فرقہ پرست ہونے کا تو ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن وہ جس پارٹی کی انتخابی مہم کے صدر ہیں وہ ضرور فرقہ پرست ہے۔ اب ذرا ان کے اس وضاحتی بیان کی ڈپلومیسی کو دیکھیں کہ کس طرح انھوں نے ایک بار پھر نریندر مودی کو ذاتی طور پر صاف ستھرا قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ آخر انا ہزارے اس طرح کے مبہم اور غیر واضح بیان دے کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، نریندر مودی کے تعلق سے ان کا محتاط موقف اپنانا کیا کسی سیاسی مجبوری کے سبب ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی پارٹی فرقہ پرست ہو اور اس کے لیڈرفرقہ پرست نہ ہوںاس کی وضاحت بھی انہیں صاف طور پر کرنی چاہئے، ورنہ ہوان کی جن تنتر یاترا ”رتھ“ یاترا کے طور پر متعارف جائے گی جس سے خیر کی امید نہیں کی جاسکتی۔





0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔