حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

سوموار، 14 جولائی، 2014

عراق کی طلسم ہوش ربا کواپنے ہیروکی تلاش

تحریر / احمد جاوید:- 
یہ 1915 کا  آخری عشرہ تھا۔ ترکوں نے انگریز افواج کو ناکوں چنےچبوادئے تھے۔انگریزوں کو احساس ہواکہ وہ میدان جنگ میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کےذریعےایک نئےمشن پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کی ،کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس نے فوج کی وردی اتاری، عربی لباس  پہنا ، عربی زبان پہلےہی  اچھی خاصی جانتا تھا،دو عرب نوجوانوںکو  ساتھ لیا، ایک امریکن  یہودی لڑکی بھی اسے مل گئی ۔لارنس کو اب جزیرۃالعرب میں ایسے افراد کی تلاش تھی جو ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہوں۔ان دنوں عراقی ریلوے لائن دریائے فرات تک پہنچ چکی تھی اور دریا پر پل باندھا جارہا تھا۔ لارنس نے آثار قدیمہ کے نگران اعلیٰ کا روپ دھار کراس پل کے قریب  کھدائی شروع کروا دی ۔اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئےاس نے  غداروں اور ضمیر فروشوں کی تلاش شروع کی لیکن کافی تگ ودوکے بعداس  کی سمجھ میں آیا کہ برطانیہ کیلئے قابل اعتماد آلہ کار اس کو پڑھے لکھے، دولت مند اورسیاسی لوگوں میں نہیں مل سکتا۔اب  اس نے مذہب کی آڑ لینا شروع کی۔ وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان  کردیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیئے۔بتدریج وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے ۔ ان  ہی کی مدد سے لارنس نےوالیٔ مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کر لی اور اپنی چرب زبانی سے حسین کو گمراہ کرنے میں اسے زیادہ دقت پیش نہ آئی۔ لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین  کےبیٹوں عبداللہ، علی، فیصل اور زید پر مرکوز کی۔ انکو باور کرایا کہ سيد زاده ہو کرترکوں کی ماتحتی میں زندگی گزارنا ذلت  ہے۔ ابتداء میں تو شہزادوں نے لارنس کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی مگر پھران کے دلوںمیں آہستہ آہستہ ترکوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور پھر وہ  دن آیا جب انہوں نے اپنے مکان کی کھڑکی سےترکوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں ۔شریف مکہ کے بیٹوں نے جس دن ترکوں پر اپنے مکان کی کھڑکی سے پہلی گولی چلائی تھی ،لارنس نے خوش ہوکر انڈیاآفس(لندن) کو اطلاع دی تھی ’ کھیل شروع ہوگیاہے‘۔وہ دن ہے اورآج  کادن، مشرق وسطی کی زمین پرمغربی استعمار کا جوکھیل شروع ہواتھابندنہیں ہوا اور خود مسلمانوں کے ہاتھوں خون مسلم کی ارزانی ہردن بڑھتی ہی چلی گئی۔ 
 اس وقت عراق کے جومناظر نگاہوںکے سامنے ہیں وہ ان سے ذرابھی مختلف نہیں ہیں جوہم ماضی میں افغانستان میں دیکھ چکے ہیں۔روسی افواج کی پسپائی  سے پہلےافغان مجاہدین کی جو کیفیت تھی وہی حالت عراق اور شام میں ان مسلح گروپوں کی ہےجن کو آپ چاہیں تو باغی کہیں چاہیں تو مجاہدین اسلام کا نام دے دیں۔جی ہاں!گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم لوگ یہی کر رہےہیں ،اپنی اپنی سہولت  اور پسند کے مطابق جب چاہتے ہیں ان کودو میں سے ایک نام دے دیتے ہیں ۔عالمی اور علاقائی سیاسی طاقتوں کا بھی یہی وتیرہ ہے۔جوشام تک انکے لیے مجاہدین ہوتےہیں  اگلی صبح  دہشت گردبن جاتےہیں اور جو کل دہشت گردہواکرتےتھےآج مجاہدین ہیں ۔ یہ خود آپس میں بھی یہی رویہ روارکھتے ہیں  اور مغربی استعمار ان کے کندھوں سے بے روک ٹوک اپنا کھیل کھیلتا ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کی بنیادیں مسلک و مذہب میں پیوست ہیں،وہ بھی  جن کی بنیادیں صرف علاقائی ، نسلی  اورثقافتی  ہیں  اوروہ بھی جو ان باتوں سے بلندہیں ۔ ان میں بھی کچھ قومیت عربیہ کے علمبردار ہیں اورکچھ اسلام کےنام لیوا۔اسی طرح کی مختلف مکاتب فکرونظریات اورنسل و علاقہ کی جماعتیں متحدہوگئی تھیں  توافغانستان میں سات جماعتی اتحاد وجود میں آیاتھاجس نے دنیاکی طاقتورترین فوج کوپسپاکردیاتھا لیکن پھر جلدہی یہ جماعتیں باہم دست و گریباں ہوگئیں اورتاریخ کی خونریزترین خانہ جنگی رونماہوئی۔افغانستان میں سات جماعتی اتحاد کے قیام میں بیرونی طاقتوں کی کوششیں بھی شامل تھیں ،عراق میں کسی بیرونی ثالث نے مزاحمت کاروں کو قریب لانے کی کوشش کی ہے یانہیں ، یہ کہناتومشکل ہے لیکن اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہےکہ حالات نےان کونوری کمال المالکی کی حکومت  کے خلاف متحدکردیاہے جس کووہ  بغداد پر صفویوں کا قبضہ تصورکرتے ہیں اور اسوقت سب کا ایک ہی ایجنڈاہےبغداد کی آزادی اور ایک ہی نعرہ’قادم یابغداد‘( اےبغدادہم آرہے ہیں)کے ساتھ وہ  بڑھ رہے ہیں اوربزعم خود صفویوں سے سنیوں کی نسل کشی کا انتقام لیناچاہتے ہیں ۔
عراق اورشام میں گزشتہ چند ماہ کے دوران نئی پیشرفت صرف یہ ہوئی  کہ مزاحمت کاروں نے بعض شہروں اوردیہاتوں سے سرکاری افواج کو کھدیڑکران پر اپناکنٹرول قائم کرلیا۔شہروں اور گاؤوںپر کنٹرول کی یہ  کارروائی بنیادی طورپرشام کے سرحدی علاقوں سے شروع ہوئی تھی اور یہ تجربہ جہادیوں کے لیےکئی لحاظ سے حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ایسانہیں ہے کہ سب کچھ اچانک ہوااورملک کےمتعدد صوبے مالکی حکومت کےکنٹرول سےاچانک نکل گئے۔ پچھلے سال کے اواخر میں صوبہ انبارمیں اس وقت بڑے پیمانےپرتشددپھوٹ پڑاتھاجب فوج نے عام لوگوں کو گولیوں کانشانہ بنایاتھا۔اس سے ایک عام تأثر پیداہواکہ یہ حکومت  سنیوں کی نسلی تطہیرکررہی ہے، اس تأثر کونوری مالکی حکومت کے لیے ایران کی کھلی حمایت  اورعراقی فوجیوں کے شانہ بہ شانہ لڑنے والےایرانی سپاہیوں کی موجودگی نے  تقویت پہنچائی۔ابتک  جو الزامات شام میں سعودی عرب اوردوسرےپڑوسی ملکوں پرلگتے آئے تھے، اب کوئی وجہ نہیں تھی کہ عراق میں وہی الزامات ایران پر نہ لگتے۔
جہاں تک خلافت اسلامیہ کے قیام کے اعلان کا تعلق ہےتویہ بھی بنیادی طورپرکوئی نئی پیشرفت نہیں ہے۔ ابوبکرالبغدادی نےدولۃ اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے قیام کااعلان اپریل ۲۰۱۳ء میں کیاتھا۔اس جماعت کے پرچم پرروزاول سے دولۃ الخلافۃ الاسلامیہ درج ہے۔اس نے اسی وقت مجوزہ دولۃ الخلافہ کانقشہ بھی جاری کیاتھاجس میں خوراسان سےمغرب اورحبشہ سے اندلس تک کے علاقے شامل ہیں۔یمن،حجاز،شام، عراق ،اناطولیہ،ارض حبشہ اور ارض کنانہ اس کے مرکزی حصے ہیں۔لیکن اصل دھماکہ اس وقت ہواجب موصل کی جامع مسجدسے وہ خطبہ جمعہ نشر ہوااور سوشل میڈیا پراسکی  ویڈیوآئی جس میں دولۃ اسلامیہ عراق وشام (داعش ) کے سربراہ نے دنیابھر کے مسلمانوں کو دعوت جہاد دی اورہرمسلمان پرامام یا خلیفہ کی اطاعت واجب قراردی۔یہ نوری المالکی حکومت کے حامیوں کے لیے بھی مبہوت کن پیشرفت تھی اورمخالفین کے لیے بھی لیکن جو لوگ جانتے ہیں کہ داعش کا نیٹ ورک  تیزی کے ساتھ پورے عراق میں پھیل رہاہےاوردنیاکے مختلف حصوں میں اس تحریک کومسلم نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے میں  مقبولیت حاصل ہورہی ہے ،ان کے لیے نہ تو یہ غیرمتوقع تھانہ حیران کن کیونکہ اس کی زمین تیارکرنے میں ایران اور سعودی عرب دونوں پوری تن دہی سے مصروف تھے۔  
خلافت وامامت کامسئلہ مسلمانوں میں ہردورمیں مختلف فیہ رہاہےلیکن اس سے قطع نظر کہ خلافت کی بنیادی شرائط کیا ہیں، خلیفہ کون ہوسکتا ہےاور کون نہیں  ہوسکتا،خلافت کے احیاکی خواہش مسلمانوں کے اندر ہردورمیں زندہ رہی ہے۔خودبرصغیرمیں سیداحمدشہیداورسیداسماعیل شہیدکی تحریک جہادوہجرت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اورترکوں کی سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعدہندوستان سے حجازتک تحریک خلافت کا غلغلہ بھی اسی خواہش کااظہار۔عرصہ درازتک  سلطنت عثمانیہ کی شرعی حیثیت بھی مسلمانوں میں بحث  کا موضوع بنی رہی اورآج تک یہ طے نہیں ہوسکاکہ ترکی کےسلطان عبدالحمیداور ان کے پیشروحکمرانوںکے لیےخلیفہ کالفظ استعمال کرناجائزہے یانہیں توآج ملاعمر یاابوبکربغدادی یا کسی اور کےسلسلے میں یہ بحث کیونکر کسی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔داعش اس وقت یقیناً عراق میںسب سے طاقتورگروپ ہے جس نے بہ مشکل ایک سال میں پورے عراق میں اپنامضبوط نیٹ ورک قائم کرلیاہےاور  اپنی حالیہ کارروائیوں سے  یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہےکہ وہ موصل سے بصرہ تک عراق کے کسی بھی حصے میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےلیکن عوامی اثرورسوخ کےلحاظ سے اب بھی زیادہ بڑاگروپ صوفی بعثسٹ مزاحمت کاروں کا ہے۔ جو جہاد کی کسی عالمی تحریک کا حصہ تونہیں ہیں لیکن عرب ملکوں کوعرب کلچر اور اسلام کی بنیادپرایک قوم دیکھناچاہتے ہیں، بعث عرب سوشلسٹ پارٹی میں اس فکرکے لوگوں کی ایک بڑی مضبوط لابی تھی ۔ پارٹی میں صدام حسین کے بعدسب سے طاقتور لیڈر عزت ابراہیم الدوری اسی دھڑے کے رہنماتھےجن کے بارے میں تصورکیاجاتاتھاکہ امریکی بمباری میں مارےجاچکےلیکن اب یہ حقیقت چھن کر سامنے آرہی ہے کہ وہ زندہ ہیں اورمزاحمت کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔جیش رجال طریقۃ نقشبندیہ ، ریولیوشنریز آف ٹرائبس  اورانتفادہ احرارعراق  اسی گروپ کی تنظیمیں ہیں۔
بغدادی نے اکتوبر2006 میں  دولۃ اسلامیہ عراق(آئی ایس آئی) کے نام سے تنظیم قائم کرکے عراق میں جہادی گروپوں کو منظم قیادت دینے کی شروعات کیتھی۔ اپریل ۲۰۱۳ء میں اس نے اپنادائرہ وسیع کیا اور اس کا نیاورژن دولۃ اسلامیہعراق وشام (داعش) کی شکل میں سامنے آیا اور بتدریج اس میں چھوٹے چھوٹے کئی گروپشامل ہوتے گئے۔یہاں تک کہ داعش یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ وہ کردستان اورموصل سے بصرہ تک عراق کے کسی بھی حصے میں کارروائی کرسکتی ہے۔پھریہ  عراق میں سنیوں کی سب سے بڑی محافظ بن کر ابھریاور نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر متأثرکیا۔یہ بغداد اور اطراف بغداد میں سنیوں کیمبینہ نسلی تطہیر کا انتقام لیناچاہتی ہے۔اس کا دعوی ہے کہ پہلے وہ عراق اور شاممیں خلافت اسلامیہ کا قیام عمل میں لائے گی، پھر پورے عالم اسلام اور اس کے بعدساری دنیاپر اسلام کاپرچم لہرائے گی۔نینوااور انبارکے صحراؤں میں اس کے بڑے بڑےکیمپ ہیں جن میں عرب ملکوں کے مختلف حصوں سے آنے والے جہادیوں کو ٹریننگ دی جارہیہے۔اب ان کے پاس دولت اورہتھیاروں کی کمی بھی نہیں ہے۔ یہ ہتھیارکہاں سے آرہے ہیںیہ بھی اب کوئی سربستہ رازنہیں رہ گیاہے۔ 
داعش کےبعد دوسری بڑی جماعت ’انصار السنہ‘ ہے جوکردستان کے خطے میں 2003 سے سرگرم بتائی جاتی ہے۔ اس جماعت کی سرگرمیاں صدام حسینکے دورمیں بھی سننے میں آتی تھیں ۔اب اس گروہ نے اپنانام جماعۃ انصارالاسلام رکھلیاہے ۔اس گروپ کا منہج بھی  خلافت اسلامیہکا قیام ہے، ماضی میں اس کو کرد القاعدہ کے نام سے بھی پکارا جاتارہا ہے۔یہ جماعتشیعہ کو رافضیہ اور حکومت و انتظامیہ میں شامل دوسرے تمام مسلمانوں کو مرتدین کہتیہے اور بلاامتیازشیعہ سنی  ان پر بے دریغحملہ کرتی ہے۔اس وقت شام کے حساکہ  صوبے پراس گروہ کا قبضہ ہے ۔ اس  نے انصار الشام کےنام سےایک الگ جماعت بھی ترتیب دی ہے۔یہ جماعت عراق کے صوبہ نینوا، کرکک، دیالہاوربغدادو مضافات کے علاوہ صوبہ صلاح دین میں جنگجویانہ کارروائیاں انجام دیتیآئی ہے۔یہ نسبتاً چھوٹاگروپ ہے لیکن مالی وسائل اور اسلحہ وتربیت کے لحاظ سے یہداعش سے زیادہ طاقتورہے۔ان دونوں کے علاوہ کئی قدیم تنظمیں بھی زندہ ہوگئی ہیں جنمیں مجاہدین عراق، انقلاب 1920 بریگیڈ ، حماس عراق اوراسلامک آرمی قابل ذکر ہیں۔اسلامک آرمی کی قیادت سلفی المسلک بتائی جاتی ہے اور یہ  انصار الاسلام اور انقلاب 1920بریگیڈ کی طرحفلوجہ انقلابی کونسل کا حصہ ہیں۔
اس تصویرکو سامنے رکھ کر غورکریں ۔عراق کوایک وسیعتناظر میں دیکھنے  اورفی الفورکچھ کرنے کیضرورت ہے ورنہ یہ بڑی تیزی سے ایک خوفناک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہاہے جوبتدریجپورے عرب کواپنی لپیٹ میں لے لیگی۔عراق کی سیاست میں کرد، شیعہ اور سنی قبائل تینبڑے گروپ ضرورہیں اوریہ اپنی  آبادیوں کےساتھ ملک کو کم وبیش تین متوازی خطوں میں منقسم کرتے ہیں لیکن یہ مان لیناکہ عراقکی آبادی صرف ان ہی تین فرقوں اور خطوں میں منقسم ہے سادہ لوحی ہوگی۔ان میںسےہرخطہ  اورتینوں آبادی مسلکوں اورنظریوں میں بٹی ہوئی ہے۔جب تک یہ خطے، فرقے اور جماعتیں ایک دوسرے کے قریب نہیںآتیں، ان کی آپسی دوریاں کم نہیں ہوتیں ، اقتدارمیں ملک کے ہرخطے ، ہرقبیلےاورہرمکتب فکر کو شریک نہیں کیاجاتااور  ہرفرقےکومناسب نمائندگی نہیں دی جاتی، وہ کھیل جاری رہے گاجو لارنس نے ۱۹۱۵ء میں شروعکیاتھا۔مغربی طاقتیں چاہتی ہیں کہ عراق کم ازکم تین ٹکروں میں تقسیم ہوجائے یاکمازکم کویت کی طرح تیل کی دولت سے مالامال کرکک کا علاقہ ضروراس سے الگ ہوجائے تاکہ مستقبل میں اس کے فوجی طاقت بننے کا خطرہبھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائےجبکہ سعودی عرب عراق کے ایران کی گود میں جاگرنے کےامکان سے خوفزدہ ہے ۔اس کی اور دوسرےپڑوسی ملکوں کے حکمرانوں کی بھی یہی خواہشہےکہ 1918 میں برطانیہ اور فرانس کی قائم کردہ سرحدیں کسی انقلاب کی زد میں نہآئیں کیونکہ وہ اس کھیل کا حصہ ہیں جولارنس نے شروع کیا تھااور اسی میں ان کیبقاکی ضمانت ہے  جبکہ مشرق وسطی کے حالات وواقعات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین اس نقشےپرخطرات کے بادل منڈلاتے دیکھ رہےہیں اوروہ پورے خطے کے نقشے میں تبدیلی کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔خلافت اسلامیہ کےاحیاکی خواہش اور اس کے خوف میں الجھی ہوئی  اس کہانی کا اونٹ کب کس کروٹ بیٹھے اورعالمیاستعماریہاں کب کیا گل کھلائے ،قبل ازوقت کچھ نہیں کہاجاسکتا۔یہ ایک طلسم ہوشرباہےجس کا ہیروکہیں کھوگیاہے ۔ دیکھئے وہ کب طلسم کو توڑکرسات پردوں سے نکلتااورکب اس کھیل کو روک دیتاہے جو پچھلی ایک صدی سے مسلسل جاری ہے۔               
بشکریہ روزنامہ انقلاب
(مضمون نگار روزنامہ انقلاب پٹنہ کے ریزیڈنٹ اڈیٹر ہیں )


0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔