حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

ہفتہ, جولائی 26, 2014

ہندوستان کی قیادت سے سترہ سوالات

 ماضی کے نقوش مستقبل کے خطوط، تصویر وطن نئی راہوں کی جستجو، تندئ باد مخالف سے نہ گھبر اے عقاب، اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے۔ طلاطم ہائے دریاہی سے ہے گوہر کی سیرابی، ووٹر زمانہ چال قیامت کی چل گیا باد مخالف سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، بدلے ہوئے حالات میں مسلمانوں لائحہ عمل کیا ہو، ملک میں سیاسی تغیر کا تاریخی پس منظر، حکمت عملی کی تشکیل، موجودی سیاسی تغیر کا تاریخی پس منظر، عہد حاضر کا چیلنج وغیرہ وغیرہ۔
مندرجہ بالا سطریں مسلم دانشوروں اور اہل قلم کے مضامین و تبصروں کے وہ عنوانات ہیں جو لوک سبھا انتخابات کے خلاف توقع نتائج آنے کے فورا بعد سے یعنی 17 مئی سے اخبارات و رسائل میں آنا شروع ہوئے تھے، اب بھی جاری و ساری ہیں اور آثار و قرائن یہ بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ مزید دراز ہو گا بلکہ اس میں مزید وسعت آئے گی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب تحریروں سے آگے مسلمانوں کا لائحہ عمل کے عنوان پر پاور پوائنٹ پرزینٹیشن، گروپ ڈسکشن، سیمینار اور سمپوزیم کا دور شروع ہو گا اور اخبارات و رسائل خصوصی شمارے شائع فرما کر مسلمانوں کی عملی رہنمائی کے فرائض سے بری الذمہ ہو جائیں گے۔ نووارد اور سینئر مبصرین و تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی جماعت اس وقت یہ فرض کفایہ انجام دینے میں مصروف ہے، ملت اسلامیہ ہند کی سر بلندی کے نت نئے فارمولے منظر عام پر آ رہے ہیں، ٹھیک یہی صورت حال آج سے کوئی آٹھ برس قبل پیدا ہوئی تھی۔
باخبر قارئین کو یاد ہو گا جب 17 نومبر 2006 کو ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورت حال پیش کرنے والی سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی اس وقت بھی کم و بیش مسلم دانشوران اور اہل قلم کی یہی صورت حال تھی، سچر کمیٹی رپورٹ کے ایک ایک چیپٹر کا تجزیہ پیش کیا گیا، مختلف علاقائی زبانوں میں رپورٹ کے ترجمے ہوئے، رپورٹ کی تلخیص مختلف زبانوں میں شائع کی گئیں، دارالحکومت دہلی سمیت ملک بھر میں سمپوزیم اور سیمیناروں کا سلسلہ چل پڑا، سچر کمیٹی کے ارکان کو ملک بھر میں مسلم مسائل کے ایکسپرٹ کے طور پر شہرت حاصل ہوئی، پروگراموں میں شرکت کے لیے خوب ہوائی دورے ہوئے جس پر معاشی بدحالی کے شکار ہندوستانی مسلمانوں کے کروڑوں روپئے پانی کی طرح بہا دیے گئے۔ ملک بھر میں ایسی درجنوں انجمنیں وجود میں آ گئیں جن کا کام صرف سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنا قرار پایا۔
لیکن اب آٹھ برس ہونے کو ہیں مسلمانوں کی حالت زار میں کوئی نمایاں تبدیلی تو نہیں ہوئی البتہ ایک کام ضرور یہ ہوا کہ سچر کمیٹی رپورٹ آنے کے بعد مسلم دانشوروں کی ایک نئی جماعت وجود میں آ گئی۔ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی مفلسی کو دور کرنے کے لیے کم از کم نصف درجن مسلم سیاسی جماعتیں اور اتحاد بھی معرض وجود میں آئے۔ جنھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی دور کرنے کا بیڑا اٹھایا، لیکن نتیجہ صفر ہی رہا، تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس درمیان ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی غربت میں مزید اضافہ ہی درج کیا گیا ہے، جس کی تازہ مثال 2014 کے عام انتخابات کے نتائج ہیں، جس میں مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی کھل کر سامنے آ گئی، سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی متناسب نمائندگی کی اگر بات کریں تو گزشتہ دس برس میں 2003 سے لیکر 2013  تک کے درمیان آئی اے ایس کے نتائج یہ بتاتے ہیں مسلم امیدوار 3 فیصد کی لکشمن ریکھا نہیں پار کر سکے، مسلم معاشرے کی سماجی صورت حال کے جائزے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صورت حال پستی کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔

 
اس درمیان ایسا کوئی مشترکہ نمائندہ موثر پلیٹ فارم وجود میں نہیں آ سکا جو سچر کمیٹی کےنشان زد میدانوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی عملی سرپرستی اور رہنمائی کرے انہیں یہ بتائے کہ کیا کریں، کیسے کریں اور کیا نہ کریں۔ مسلم تنظیموں میں باہم ربط و تعلق اس حد تک تو ہے کہ اگر کسی ایشو پر کوئی تنطیم، مظاہرہ، سمپوزیم، سمینار اور کانفرنس کا انعقاد کرے تو اسٹیج کی رونق بڑھانے کے لیے شعلہ بیاں مقرر تو مل جاتے ہیں لیکن شرکاء میں سامعین یا مظاہرین کی تعداد قابل رحم ہوتی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان سب کا اتحاد محض روایتی ہوتا ہے۔ پروگرام میں ان کی شرکت واجبی سی ہوتی ہے ہاں اگر کوئی پریس ریلیز جاری ہو تو اس میں اپنا نام رہ جانے پر انہیں دلی رنج ہوتا ہے۔
 سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ ہندوستانی مسلمانوں کو ٹیکٹکل ووٹنگ کا سبق پڑھانے والی مسلم سیاسی و سماجی تنظیموں نے زبانی رہنمائی کے علاوہ سماجی، سیاسی و تعلیمی میدان میں کیا کیا عملی اقدامات کیے؟ اگر اقدامت کیے گئے تو ایسے مایوس کن نتائج کیوں آئے؟ سوال یہ بھی کہ آخر لائحہ عمل پیش کرنے کا یہ لامتناہی سلسلہ آخر کب تھمے گا؟ قابل توجہ امر یہ ہے کہ کیا مسلم لیڈرشپ مرکز کی نئی سرکار سے مسلم مسائل پر رابطے کا کوئی خاکہ رکھتی ہے؟ کیا ہم میں ماضی کی کوتاہیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کا عزم ہے؟ سچر کمیٹی کا جو حشر ہوا اس سے ہم نے کیا سبق لیا؟ اطلاعاتی حسرت اور ابلاغی غربت کی شکار ملت اسلامیہ ہند کا ابلاغی منصوبہ کیا ہے؟ کیا محض موجودہ سرمایہ دارانہ میڈیا کو کوسنا ہی مسئلے کا حل ہے؟ عملی اقدامات کا یہ فقدان کیوں ہے؟ کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ ہمارے منصوبے پایہ تکمیل سے قبل ہی کیوں دم توڑ دیتے ہیں؟ ہمارے منصوبے طویل مدتی مفادات کے پیش نظر کیوں نہیں ترتیب دیے جاتے؟ وقتی طور پر پیدا ہونے والی بیداری کو دوام کیوں نہیں حاصل ہوتا؟ کیا ہم نے کبھی اپنا جائزہ لیا کہ ہم نے پورے سال کتنی مہمات شروع کیں اور نتائج کیا رہے؟ کتنے مظاہرے کیے اور ان کا حاصل کیا رہا؟ مسلم مسائل پر اہل اقتدار سے کتنی ملاقاتیں اور اس کا نتیجہ کیا رہا؟ ہم اپنا احتساب کرنے سے جی کیوں چراتے ہیں؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا ملت اسلامیہ ہند کے ہر باشعور حلقے کو خود سے کرنا ہو گا۔

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔