حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

منگل، 26 نومبر، 2013

ہندوستان میں حکیم سید احمد خان کی کاوشیں اب رنگ لا رہی ہیں


نئی دہلی : ملک کے مختلف حصوں میں نومبر کو ’عالمی یومِ اردو‘ کے موقع پر متعدد تقریبات منعقد کی گئیں جس میں مقررین نے اردو زبان کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی اور اس کے فروغ اور ترقی کے سلسلے میں گفتگو ہوئی۔ خاص طور سے ہندوستان کی سب سے مضبوط زبان اردو کے ساتھ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے رویہ پر لوگوں نے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ اس موقع پر لوگوں نے اردو کے فروغ کے لےے انفرادی و اجتماعی جدوجہد کرنے کا عہد کیا اور زور دیا کہ زندہ قوموں کی پہچان یہ ہے کہ وہ بدحالی کا رونا رونے کی بجائے اپنی قوتِ بازو سے حالات کا رخ پھیرنے کا کردار ادا کریں۔ واضح ہو کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی یومِ پیدائش 9 نومبر کی مناسبت سے منائے جانے والی عالمی یومِ اردو تقریبات کے تحت سب سے بڑا پروگرام قومی دارالحکومت دہلی میں واقع غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین میں یونائیٹڈ مسلم آف انڈیا اور اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے منعقد ہوا، جس کی صدارت ماہر اقبالیات پروفیسر عبدالحق نے کی۔ معروف و معتبر شاعر متین امروہوی اور مولانا مجیب بستوی نےاہنے کلام پیش کیے۔ نظامت کے فرائض سہیل انجم نے ادا کیے۔

سابق ممبرپارلیمنٹ، کانگریس پارٹی کے ترجمان جناب م۔افضل، پدم شری پروفیسر اخترالواسع، جسٹس شکیل احمد خاں، سپریم کورٹ کے وکیل جناب وصی احمد نعمانی، شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر توقیر احمد خاں، جناب رام پرکاش کپور اور عالمی یومِ اردو تقریبات کے کنوینر ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے خطاب کیا۔ اس تقریب میں گنگا جمنی تہذیب کی علامت مشہور شاعر گلزار دہلوی سمیت متعدد صحافی، ادیب، شاعر، دانشور، سیاست داں اور مختلف اسکولوں کے اساتذہ، بچے اور خواتین بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ خاص طور سے ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی، پروفیسر عبدالعلیم قدوائی، پروفیسر عبدالرحیم قدوائی، پروفیسر سلیم قدوائی، پروفیسر خالد حامدی، اسرار جامعی، حکیم عبدالحنان، ڈاکٹر راشداللہ خاں، ڈاکٹر سیّد احسن اعجازی، ڈاکٹر سلیم ملک، ڈاکٹر محمد فاضل خاں، سیّد منصور آغا، جلال الدین اسلم، مودود صدیقی، ڈاکٹر محمد شمعون، ڈاکٹر زین العابدین، محمد عارف اقبال، مولانا ارشد سراج الدین مکی، مولانا عقیدت اللہ قاسمی، ڈاکٹر عقیل احمد، ڈاکٹر سیّد تنویر حسین، عبدالرشید، ماسٹر محمد مبین خاں، اسرار احمد اُجینی، عبدالحلیم خاں، مولانا عبدالمبین بستوی، محمد شکیل خاں، عطاءالرحمن اجملی، جاوید اختر اور محمد عمران قنوجی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
اس موقع پر جناب محمد عتیق (جودھپور) کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ڈاکٹر سیّد صادق علی ٹونکی (ٹونک) کو علامہ اقبال ایوارڈ، ڈاکٹر سیّد مسعودالحسن عثمانی (لکھنو
کو قاضی عدیل عباسی ایوارڈ، جناب معصوم مرادآبادی (دہلی) کو محفوظ الرحمن ایوارڈ، جناب زاہد آزاد جھنڈانگری (نیپال) کو حفیظ میرٹھی ایوارڈ، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ (دہلی) کو منشی نول کشور ایوارڈ، ڈاکٹر منورحسن کمال (نئی دہلی) کو مولانا عبدالماجد دریابادی ایوارڈ اور ڈاکٹر قمرالدین ذاکر (نوح، میوات) کو حکیم اجمل خاں یادگار مومنٹو سے سرفراز کیا گیا۔ اس کے علاوہ حسب روایت عالمی یومِ اردو یادگار مجلہ خصوصی پیش کش مولانا عبدالماجد دریابادی: حیات و خدمات، معروف صحافی رضوان اللہ خاں کی تصنیف عکس خیال، ڈاکٹر منور حسن کمال کی تصنیف جنگ آزادی اور تحریک خلافت اور محترمہ زیبانور (اہلیہ حکیم محمد طارق امروہوی مرحوم) کی مرتب کردہ کتاب ڈاکٹر شریف احمد: شخصیت اور فن کا اجرا بھی عمل میں آیا۔
تقریب میں اتفاق رائے سے طے پایا کہ مرکزی حکومت پر زور دیا جائے کہ وہ رائٹ ٹو ایجوکیشن مہم کو کامیاب بنانے کے لےے مادری زبان اردو کے ساتھ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر اردو اساتذہ کا تقرر کرے نیز صوبائی حکومتیں خاص طور سے دہلی حکومت جس نے اردو کا گلا گھونٹ رکھا ہے، حسب وعدہ اردو اساتذہ کا تقرر یقینی بنائے۔ نیز یہ بھی طے پایا کہ اردو میڈیم اسکولوں کو انگلش میڈیم کی طرح تمام تر سہولیات سے مزین کیا جائے اوران میں پڑھنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خاص منصوبہ بنایا جائے۔

 میں بھی حاضر تھا وہاں ۔۔

ہندوستان میں حکیم سید احمد خان کی کاوشیں اب رنگ لا رہی ہیں

دوستو ، شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش یعنی یو م اردو کے موقع پر غالب اکیڈمی میں یو۔نائٹیڈ مسلم آف انڈیا اور اردو ڈیولپمینٹ ارگنائزیشن کی جانب سےایکا پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں کثیر تعداد میں اردو دوستوں نے شرکت کی
ہندوستان میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش یوم اردو کے طور پر متعارف کرانے والے حکیم سید احمد خان کی کاوشیں اب رنگ لا رہی ہیں۔
پروگرام بحسن خوبی روان دواں تھا کی اسی درمیان ایک اردو دوست ، اردو اکیڈمی کی خدمات کا ذکر خیر سن کر انتہائی جذباتی ہو گئے اور اکیڈمی کے خلاف بولنا شروع کیا ، خیر مجلس کے سنجیدہ افراد کی بر وقت مداخلت سے معاملہ فوری طور پر سنبھل تو گیا لیکن جب باری اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چیر مین کی آئی تو پھر کیا تھا پروفیسر اختر الواسع صاحب نے ان کی جم کر خبر لی ۔۔۔ ۔۔
موصوف کی گفتگو بڑی نصیحت آموز رہی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چیر مین پروگرام کے مہمان خصوصی پروفیسر اختر الواسع کی پر سوز، پرمغز اور پر خلوص تقریر نے ہندوستان میں اردو کے روشن مستقبل کے لیے کوشاں متفکر حلقوں کو خود احتسابی کی دعوت کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کی ترغیب شامل تھی ۔پروفیسر صاحب نے موقع کا خوب فادہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کے اردو دوستوں کا کچا چٹھا ۔ سب سامنے رکھ دیا جو اردو زبان کے تئیں لو گوں کی بے حسی ،لاپروائی ،سست روی ،پر آنسوبہا رہے تھے ۔۔۔ ۔۔۔
پروگرام کی صدارت ہندوستان کے معروف ماہر اقبالیات دہلی یو نیورسٹی کے سابق پروفیسر عبدالحق، آل انڈیا کانگریس کے ترجمان سابق سفیر برائے ترکمانستان میم افضل، وائس امریکہ اردو کے دہلی نمائندے سہیل انجم ، ۔ ضلع کی سرزمین سے تشریف لائے بزرگ شاعر جناب مجیب بستوی نے اردو زبان کے عنوان سے ایک انتہائی دلچسپ نظم پیش کی سینئر صحافی معصوم مرادآبادی، گلزار زتشی دہلوی، سمیت یو نیورسٹیوں سے وابستہ خضرات شریک ہوئے ۔
آج کی گفتگو کا موضوع تھا اردو کا سیاسی کردار ۔ اور قومی زمہ داریاں عنوان کی وضاحت کرتے ہوئے سہیل انجم نے کہا کہ دراصل عنوان آزاد ہندوستان میں اردو کا سیاسی استحصال ہو نا چاہے تھا ۔ اردو کے چاہنے والوں کی یہ مجلس اردو کو دل سے چمٹائے رکھنے کی ہزار قسمیں کھاتے ہوئے عملی اقدامات کے بلند دعووں اور عزائم کے ساتھ چکن بریانی پر اختتام پذیر ہوئی اس وعدے کے ساتھ کہ آئندہ برس پھر ملیں گے کچھ اور نئے عزائم اور شکوے شکایات کے ساتھ ۔ تب تک کے لیے اجازت دیجیے ۔
حکیم سید احمد خان صاحب کا مختصر تعارف
ہماری بس باتیں ہی باتیں ہیں "سید" کام کرتا ہے
حکیم سید احمد خان صاحب ۔ کا تعلق اتر پردیش کے ضلع سنت کبیر نگر سےہے ، یہاں دہلی میں جامعہ نگر میں طویل عرصے سے یونانی ہاسپٹل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں ، ۔ اردو زبان کی ترویج اشاعت ان کی زندگی کا اہم مقصد اور اردو زبان کی ترقی میں عملی دشواریوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں رہنا ان کی ہابی ہے۔ ہندوستان میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدا ئش کو یوم اردو کے طور پر انہوں نے ہی متعارف کرا یا گویا ہندوستان میں یوم اردو کی داغ بیل انہوں نے ہی ڈالی
یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا اور اردوڈیولپمینٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
حیرت کی بات یہ ہے موصوف نام نمود سے کو سوں دور رہتے ہیں ، ہندوستان میں اردو کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا ان کے مزاج کا جزہے۔ 
لیکن آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ ایک ایسا شخص جو اتنے کام کرتا ہو ہمیشہ کیمرے کی چمک سے دور رہتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پروگراموں میں اکثر رفقا ء مجلس فوٹو سیشن کے دوران سید صاحب کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں ۔ اورکسی بھی پروگرام میں ان کی تصویرنمایاں نہیں ہوتی ۔ سید صاحب کوا سٹیج کی زینت بننا بالکل پسند نہیں ۔
ہندوستان میں اردو

کے اس خاموش مگر مخلص خا دم کے لیے گزشتہ دنوں ہفت روزہ اخبار نو نئی دہلی کے دفتر میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نئے ڈائریکٹر پروفیسر خواجہ اکرام کے استقبال میں منعقد اعزازیہ میں معروف اردو اسکالر دہلی یو نیورسٹی کے سابق پروفیسر شریف احمد صاحب نے اردو کے اس بے لوث خادم کے لیے  اکبر الہ آبادی کا یہ شعر کہا تھا۔

"ہماری بس باتیں ہی باتیں ہیں "سید" کام کرتا ہے"

1 تبصرہ کریں:

اشرف علی بستوی نے لکھا ہے کہ

قابل مبارک باد کوشش

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔