حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

سوموار، 24 مارچ، 2014

انٹرویو ہو تو ایسا ! کرن تھاپرجس نے مودی کی پیاس بڑھا دی تھی

کرن دیکھو میں دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہوں آپ بھی اس کی کوشش کیجئے، یہ وقت پرانی باتوں کو دہرانے کا نہیں ہے۔ آپ 2002 اور 2003 میں مجھ سے ملے ہوتے، ہماری آپ کی دوستی بنی رہے بس میں یہی چاہتا ہوں، برائے کرم ایک گلاس پانی پلائیں۔
متذکرہ بالا اقتباسات نریندر مودی کے ایک خصوصی انٹرویو ڈیولس ایڈوکیٹ سے ماخوذ ہیں جو انہوں نے سی این این آئی بی این نیوز چینل کے سینئر جنرنلسٹ کرن تھاپر کو 2007 میں دیا تھا، مودی کرن تھا پر کے سوالات سے ناراض ہوکر انٹرویو درمیان ہی میں چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اب ایک بار پھر اس طرز کا ایک تازہ واقعہ پیش آیاہے، گزشتہ دنوں این ڈی ٹی وی اور نیوزلانڈری ڈاٹ کام کے ایک خصوصی پروگرام میں نریندر مودی کو شریک ہونا تھا لیکن وہ آخر وقت میں مصروفیت کا بہانہ بنا کر انٹرویو کا سامنا کرنے سے بچ نکلے، اس کے علاوہ بھی جب کبھی میڈیا کے نمائندے ان سے سوالات کرنے کی کوشش کرتے ہیں، نریندر مودی چپ سادھ لیتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو ملک کے وزیر اعظم کی ذمہ داری نبھانے کا خواب دیکھ رہا ہو اسے میڈیا کے سوالات پر غصہ کیوں آتا ہے۔ مودی کو اسٹیچ، مائک اور کیمرہ مین توپسند ہیں لیکن ان سے سوالات کرنے والے جرنلسٹ پسند نہیں ہیں۔
ویڈیو انٹر ویو دیکھیں

وہ ملک کو کیوں نہیں بتاتے کہ غربت کے خاتمے کے لئے ملک کی معاشی پالیسی میں کیا اصلاح کریں گے؟ ملک کی خارجہ پالیسی کن بنیادوں پر ترتیب دیں گے؟ پڑوسیوں سے تعلقات کس نوعیت کے ہوںگے؟ ملک کو غیر ملکی اثرات سے بچانے کے لئے ان کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ بدعنوانی اورفرقہ واریت کو ختم کرنے کے لئے ان کے پاس کیا فارمولہ ہے؟ یہ بنیادی سوالات ہیں جو ملک کے ہرشہری کے دل ودماغ میں گردش کر رہے ہیں لیکن نریندر مودی ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے مخالف جماعتوں کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرنے میں پورا زور صرف کر رہے ہیں؟ اب اِس درمیان اگر کوئی جرنلسٹ ان کے کالے کارناموں یا ان کی پالیسی کے تعلق سے سوال کرلیتا ہے تو انہیں بہت گراں گزرتا ہے۔ کرن تھاپرنے اپنے انٹرویو میں جو سوالات کئے تھے ان کا تعلق گجرات کے 2002 کے فسادات سے تھا، وہ اس وقت وہاں وزیر اعلی تھے، ظاہر ہے ان کی ذمہ داری تھی کہ ریاست میں امن وامان قائم رکھیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ فساد پھیلانے والوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی سرپرستی کی۔ اب اگر کوئی جرنلسٹ ان کی جوابدہی پر سوال کرتا ہے تو وہ ناراض کس بات پر ہوتے ہیں؟ یہ سوالات کرن تھاپر کے نہیں بلکہ ملک کے ایک ارب بیس کروڑ عوام کے ہیں جن سے نریندر مودی ووٹ حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
دراصل نریندر مودی کا تانا شاہی مزاج انہیں ملک کے عوام کی نظروں سے گرا دیتا ہے۔ انہیں اپنی غلطیوں پر افسوس نہیں بلکہ فخر ہے جس کا اظہار وہ اکثر کرتے رہتے ہیں۔ نریندر مودی کو یہ معلوم ہونا چاہئے اور یہ ہندوستانی ووٹر ہیں سب جانتے ہیں اور انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جوابدہی کے احساس سے عاری شخص کو ملک کا وزیر اعظم بنانا کسی بڑے خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ یاد رہے جس طرح 2004 میں فیل گڈ فیکٹر اور انڈیا شائننگ کے نعرے کو عوام نے درکنار کر دیا تھا، ٹھیک اسی طرح گجرات کی ترقی کے فرضی دعوی کی کشتی پر سوار ہوکر منزل ملنا محال ہے۔

اردوٹائمز امریکہ 

4 تبصرہ کریں:

NoorMohammed Hodekar نے لکھا ہے کہ

پھیکو نمبر 1

میں نے یہ انٹرویو دیکھا ہے ۔ ۔ ۔ سچ ہے ۔ ۔ جھوٹا / فریبی کتنے دن جھوٹ بولے گا ۔

اور ۔ ۔ ۔ اتنے ۔ بڑے ملک کے وزیر اعظم کا خواب دیکھنے والا ۔ ۔ ایک انٹرویو میں بھاگ جاوے ؟ ؟ ؟ سچ کو کہنے سے کترائے ۔ ۔ ۔ خود اپنے کہے ہوئے جملے دوبارہ کہنے سے مکر جائے ۔ ۔ ۔ ۔ کمال ہے ۔ ۔ ۔

چند روز قبل بھی ایک انٹرویو دیکھنے ملا تھا ۔۔۔۔ ہیلی کاپٹر میں این ڈی ٹی وی کی ٹیم ساتھ تھی جس میں این ڈی ٹی وی کے سوال پر کہ کیا مودی گجرات فسادات پر معافی مانگنے تیار ہے ۔ ۔ تو موصوف نے تو چُپپی سادھ لی اور پانی مانگ لیا۔۔۔۔ اسی طرح جس طرح کرن تھاپر کے انٹرویو میں مانگا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔ بےچاری ٹیم کو بیچ میں ہی اتار دیا - وہ تو این ڈی ٹی وی کی ٹیم نے شکریہ ادا کیا کہ محترم نے انہیں زمین پر ہی اتار دیا ۔ ۔ ۔ ورنہ اگر وسط آسمان پر اتار دیتے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کون تھا انہیں روکنے والا ۔ ۔ ۔ ۔

حمزہ نیاز نے لکھا ہے کہ

انٹرویو پہلے بھی نظروں کے سامنے سے گزرا ہے۔۔۔۔ اب ایسے لوگ بھی ہندوستان کی سب سے بڑی کرسی پر بیٹھنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

NoorMohammed Hodekar نے لکھا ہے کہ

ذرا یہ بھی دیکھیں
"آپ کی عدالت " میں مودی کا انٹرویو " فکسڈ!!!"

http://noonmeem.blogspot.in/2014/04/blog-post_15.html

اردوخبریں بیورو نے لکھا ہے کہ

تبصرے کے لیے بے حد شکریہ جناب عالی

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔