حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

بدھ، 12 مارچ، 2014

اکنامک ٹائمز کا یہ احساس بلاشبہ خاصی اہمیت کاحامل ہے


اشرف علی بستوی ، نئی دہلی//
”حکومت کو چاہیے کہ ملک میں ہو نےوالے دہشت گردی کے واقعات میں غلط طریقے سے ملزم ٹھہرائے جانے والے بے قصور افراد کو بھرپور معاوضہ دے۔ دھماکوں کے بعد ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے جلد بازی میںکی جانی والی کارروائیاں بڑی حد تک اِس زیادتی کی ذمہ دار ہیں۔ فوری کارروائی کا دباﺅ اور تعصب کے نتیجے میں بے قصوروں کو فوری طورپرکٹہرے میں لاکر کھڑا کردیاجاتاہے اور اصل مجرمین دوسری دہشت گردانہ کارروائی کرنے کے لیے آزاد گھومتے ر ہتے ہیں یہ رجحان ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔“
یہ کہنا ہے ملک کے معاصر انگریزی روزنامہ اکنامک ٹائمس کا۔ اکنامک ٹائمس نے26فروری کو اپنے اداریے میں اس بات کو انتہائی شدت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ اخبار لکھتاہے کہ دہشت گردانہ واقعات میں ہونے والے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے بعد فوری طورپر سکیورٹی ایجنسیوں کی کارروائی کے نتیجے میں جو غلطی دہرائی جاتی ہے وہ اور بھی خطرناک ہے کیوں کہ میڈیا اور سیاسی دباﺅ کے نتیجے میں مجرمین کیفرکردار تک پہنچانے کی جلدی میں تحقیقات کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کسی نہ کسی بے قصور کو ذمہ دار ٹھہراکر معاملے کو رفع دفع کردیتی ہیں اِس سے دوہرا نقصان ہوتاہے اول یہ کہ اصل مجرم بچ نکلتے ہیں اور دوسرے دھماکے کی منصوبہ سازی میں مصروف ہوجاتے ہیں اور دوسری جانب ایک بے قصور کی زندگی تباہ کردی جاتی ہے۔ واضح ہو کہ عدالت عالیہ نے بھی دسمبر 2013میں اپنے ایک حکم نامے میں بے قصور وں کو معاوضہ دینے کی ہدایت دے چکی ہے لیکن حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا ۔

اخبار نے جرمن بیکری معاملے میں بے قصور ٹھہرائے جانے کے بعد یہ سوالات اٹھائے ہیں اور کہاہے کہ این آئی اے نے حمایت بیگ کو غلط طریقے سے ملزم ٹھہرانے کے لیے مہاراشٹر اے ٹی ایس کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ حمایت بیگ کو ستمبر2012 میں جرمن بیکری دھماکہ معاملے میں گرفتار کیاگیاتھا۔ یہ دھماکہ فروری 2010 میں ہواتھا جس میں17لوگ مارے گئے تھے۔
اکنامک ٹائمز کا یہ احساس اور تجزیہ بلاشبہ خاصی اہمیت کاحامل ہے لیکن اِس سے قطع نظر اخبار نے گزشتہ ہفتے این آئی اے کے ذریعہ داخل چارج شیٹ پر اور انڈین مجاہدین کے تعلق سے کوئی سوال نہیں کیاہے جب کہ طویل عرصے سے یہ مطالبہ وقفے وقفے سے حکومت ہند سے ہوتارہا ہے کہ انڈین مجاہدین کے تعلق سے قرطاس ابیض جاری کرے، تاکہ ملک کو یہ معلوم ہوسکے کہ اِس دہشت گردانہ تنظیم کی اصلیت کیا ہے؟ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جن لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے وہی ا   ±س دھماکے کے اصل مجرم ہیں کیوں کہ ایسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں کہ غلط چارج شیٹ کی وجہ سے چودہ سال اور دس سال بعد لوگوں کو باعزت بری کیاگیا ہے۔
یہ احساس سماج کے باشعور حلقوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپوں کو بہت پہلے سے ہے۔ اور وہ حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیںکہ کسی دھماکے کے بعد کسی بے قصور کی گرفتاری نہ صرف ایک خاندان یا فرد کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ ملک کی سلامتی کے ساتھ بھی کھلواڑ ہے، کیوں کہ اصل مجرم تو بچ نکلتے ہیں، لیکن بار بار کے مطالبات کے باوجود حکومت نے کبھی سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کا جائزہ نہیں لیا اور ان کی جوابدہی طے کرنے کی بات کبھی نہیں کی جاتی۔ جب کبھی کسی حلقے کی طرف سے سکیورٹی ایجنسیوں کو جوابدہ بنانے کامطالبہ کیاجاتا ہے تو یہ کہہ کر مسترد کردیا جاتاہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کا مورال ڈاﺅن ہوگا۔ ملک کامیڈیا بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کے موقع حقیقت کو منظرعام پر لانے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں ان کے دعووں کی وضاحت طلب کرنے کی بجائے مِن و عن اپنی اسکرپٹ بھی تبدیل کردیتا ہے۔ اس طرح فوری طورپر ایجنسیوں پر سے کارروائی کا دباﺅ ختم ہوجاتا ہے اور بعد میں عدالت ناکافی ثبوت کی بنیاد پر برسوں بعد انہیں رہا کردیتی ہے۔ اس طرح یہ کھیل جاری رہتاہے اور ہر بار وہپی اسکرپٹ دہرائی جاتی ہے۔

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔