حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

ہفتہ, مئی 17, 2014

ہندوستان کے پندرہویں وزیر اعظم نریندر مودی کا سیاسی سفر


ہندوستان کے پندرہویں وزیر اعظم نریندر مودی نے 26 مئی کی  شام چھہ بجے صدر جمہوریہ ہاوس کے لان میں جے  شری رام کے نعروں کی گونج کے وزیر اعظم کے طور پر حلف لے لیا اور اس کے ساتھ ہی  ہندوستانی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ۔
 نریندر مودی کا یہ سیاسی سفر ایک ایسے شخص کی غیر معمولی کہانی ہے، جس کی مخالفین نے جتنی لعنت ملامت کی اتنا ہی اس کے حامیوں نے اسے چاہا، نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا، مجھے یقین ہے کہ بھگوان نے میرا انتخاب کیا ہے، 63 سالہ مودی نے خود اپنی آنکھوں سے کانگریس کی شکست اور این ڈی اے کی زور دار حمایت کی سونامی  کو محسوس کر لیا تھا۔ اور ان کے ذریعہ دیے گئے کئی نعرے من و عن سچ ثابت ہوئے۔  2004 کے عام انتخابات میں انڈیا شائننگ اور فیل گڈ فیکٹر کے نعروں کی مکلمل ناکامی کا جواب انہوں نے  کانگریس مکت بھارت  اور اب کی بار مودی سرکار سے دیا۔
بی جے پی اتحاد این ڈی اے نے  ان کی قیادت میں 335 سیٹیں حاصل کر کے زبردست اکثریت حاصل کرنے کا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے، جیسا تیس برس قبل  1984 میں راجیو گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے 400 سے زیادہ سیٹوں پر جیت درج کر کے کیا تھا، اس کے بعد سے ابتک اس درمیان کوئی پارٹی نہیں کر سکی۔ صرف بی جے پی کو اکیلے 543 میں سے 282 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔
انہیں لال کرشن اڈوانی جیسے پارٹی کے سینئر لیڈر وں سمیت دیگر کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مودی کو جب ستمبر 2013 میں پارٹی کے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار قرار دیا گیا، تب بھی پارٹی کے ایک خاص  حلقے کی جانب سے  ان کی کافی مخالفت ہوئی۔ آغاز میں اس بات کو لے کر کافی شک ظاہر کیا گیا تھا کہ کیا مودی سینئر بی جے پی لیڈر اٹل بہاری واجپئی کی برابری کر پائیں گے یا نہیں۔ واجپئی کو ان کے حریف بھی کافی لبرل مانتے تھے اور ان کی وجہ سے اتحادی جماعتیں بھی این ڈی اے کے ساتھ تھیں۔ لیکن، بی جے پی نے مودی پر مکمل اعتماد کیا، انہیں ان جماعتوں کا بھی تعاون حاصل ہوا، جنہوں نے 2002 کے گجرات فسادات کے لئے مودی کو ملزم قرار دے کر این ڈی اے سے ناطہ توڑ لیا تھا۔
مودی نے ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والے سے لے کر بھارت کا وزیر اعظم بنے تک کا سفر بڑی کامیابی سے مکمل کیا، اگرچہ ان کے بہت سے مخالف ان کے اس دعوے سے متفق نہیں ہیں کہ وہ کبھی چائے بھی فروخت کرتے تھے۔ سنگھ پریوار کی 'ہندوتو کی لیبارٹری' مانے جانے والی ریاست میں مودی نے وزیر اعلی کے طور پر اپنی تصویر ایک  ہندو بنیاد پرست کی بنائی تھی۔ لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنی کٹر ہندو نظریاتی تصویر کو چھوڑ دیا اور مکمل توجہ ترقی کے ایشو، خاص طور سے غریب مسلمانوں کی ترقی پر مرکوز کیا۔ انتخابی مہم کے تحت انہوں نے ملک بھر میں 450 سے زیادہ ریلیوں سے خطاب کیا۔
گجرات کے تاریخی شہر واڈنگر میں سترہ ستمبر 1950 کو پسماندہ' مودھ گھاچی کمیونٹی میں پیدا  ہوئے ، اگرچہ ان کے بہت سے مخالفین ان کے پسماندہ کمیونٹی سے ہونے کی بات کو نہیں مانتے۔ آر ایس ایس نے اپنے پرچارک مودی  کو 1984 میں بی جے پی میں کام کرنے کے لئے بھیجا۔ مودی گجرات کے وزیر اعلی کے عہدے پر اکتوبر 2001 میں قابض ہونے سے قبل تک پارٹی کے ایسے عہدیدار تھے، جو پردے کے پیچھے کام کرتے تھے اور پارٹی کے لئے حکمت عملی تیار کرتے تھے، ان کے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے صرف پانچ ماہ بعد 2002 میں سابرمتی ایکسپریس کے ایک ڈبے میں آگ لگنے اور اس میں 59 کارسیوکوں کی موت ہونے کے بعد بھڑکے گجرات فسادات جس میں کم و بیش3000  افراد مارے گئے تھے  یہیں سے اسی معاملے میں ان کی شبیہ ایک متنازعہ لیڈر کی بن گئی ۔
 ان پر فسادات میں غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا الزام لگا لیکن اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے بنی تمام تفتیشی کمیٹیوں نے جانچ کے بعد انہیں تمام الزامات سے آزاد کر دیا۔ ان میں سپریم کورٹ کی براہ راست نگرانی میں تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ بھی شامل ہے۔ گجرات میں ہونے  والے  عشرت جہاں ،سہراب الدین فرضی انکاونٹرس  سمیت متعدد  فرضی انکاونٹرس کے معاملے  میں بھی مودی پر مسلسل الزام لگتے رہے ہیں اور ان کے قریبی ساتھی امت شاہ نے تو حال تک ان الزامات کا سامنا کیا، سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر خصوصی تفتیشی ٹیم کی طرف سے گجرات میں 2002 میں ہوئے فسادات کے معاملے سے انہیں کلین چٹ ملنے کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب مودی نے گجرات میں مسلمانوں کے دلوں تک پہنچنے کے لیے 'خیر سگالی  برت  بھی' رکھا۔
صنعت کار اور کاروباریوں پر مشتمل ملک کا سرمایہ دار طبقہ مودی کو وزیر اعظم بنتے دیکھنا چاہتا تھا ، کیونکہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ لینے والے ثابت ہوں گے۔ ایک موقع پر ایک مسلم مذہبی رہنما کی طرف سے پیش کی گئی اسلامی ٹوپی پہننے سے انکار کے لئے تنقید کا شکار بھی ہوئے مودی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حریف کی طرف سے کی جانے والی' علامتوں کی سیاست' کی پیروی نہیں کریں گے۔ جبکہ اپنی چناوی مہم میں کئی مقامات پر  ووٹروں کو رجھانے کی غرض سے علاقائی مذہبی علامات کو خوب اپنایا

مودی نے نوجوانی میں ہی اپنا واڈ نگر کا گھر چھوڑ دیا تھا اور ایک مبلغ کے طور پر آر ایس ایس میں شامل ہو گئے تھے، کافی کم عمر میں وہ اپنے گاؤں کے ریلوے اسٹیشن پراپنے  والد صاحب کے ساتھ چائے فروخت کرتے تھے۔  اور بعد میں احمد آباد شہر کے بس اڈے پر چائے بیچنے کا کام کیا ۔

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔