حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

سوموار، 16 جون، 2014

مسجد میں قائم اکیڈمی سے آئی اے ایس بننے کا خواب پورا ہوا

چنئی اشرف علی بستوی
 جس دوران ملک کی مسلم سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں مسلم ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر عوامی ریلیاں اور جلسے منعقد کر رہی تھیں ٹھیک ان ہی ایام میں چنئی کی مکہ مسجد کے امام مولانا شمس الدین قاسمی  چینئی کے ان سلائی میں Azhagiya Kadan IAS Academy کے قیام میں مصروف عمل تھے، چنئی کی اس مسجد کی تیسری منزل کو 2011 میں 28 طلباء کے ساتھ اکیڈمی کی شکل دی گئی اور تعلیم وتربیت کے سلسلے کو آگے بڑھایا جانے لگا، اس بار اکیڈمی کے تربیت یافتہ محمد اشرف جے ایس نے پہلی کوشش ہی میں کامیابی حاصل کرلی، انہیں آل انڈیا  1032  واں رینک حاصل ہوا ہے۔


یہ اکیڈ می ہندوستان کی واحد ایسی اکیڈ می ہے جو مسجد میں قائم کی گئی ہے۔ اکیڈ می یہاں داخلہ پانے والے طلباء پر ہر سال چالیس لاکھ خرچ کرتی ہے، طلباء کو رہنے سہنے اور پڑھنے کی تمام تر جدید سہولیات مفت فراہم کراتی ہے۔ کامیاب ہونے والے محمد اشرف جے ایس چنئی میٹرو ریل پروجیکٹ میں  بطور انجینئر برسرروزگار تھے انہیں 28 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی لیکن وہ اس سے قطعی مطمئن نہیں تھے۔ انھوں نے اپنے بچپن میں سول سروس میں جانے کا خواب دیکھا تھا جس کو پورا کرنے کے لئے وہ بے قرار تھے، فی الحال مکہ مسجد آئی اے ایس اکیڈ می میں پچاس طالب علم زیر تربیت ہیں۔
آئندہ برس اس کی تعداد سو تک پہنچانے کا منصوبہ ہے ۔ اشرف جے ایس کہتے ہیں کہ مسلم  والدین کو  اپنے نظریے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو نوکری کے لئے ملک سے باہر بھیجنے کی بجائےان کی بہتر تعلیم پر توجہ دیں ۔ ایسے طلباء جو اس اکیڈمی میں داخلہ لینے کے خواہش مند ہوں اکیڈمی کی ویب سائٹ  www.akias.in   پررجسٹرکرسکتے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی کے یو پی ایس سی کے نتائج پر نظر ڈالیں تو تمام کوششوں کے باوجود کامیاب مسلم 
امیدوار 3 فیصد کی لکچھمن ریکھا کو پارنہیں پار کر سکے

یو پی ایس سی کے نتائج
کل کامیاب امیدوار
مسلم امید وار
کل فیصد
May 2004
413
13
3.2
May 2005
422
13
3.1
May 2006
425
12
2.8
May 2007
448
17
3.8
May 2008
734
27
3.67
May 2009
791
32
4.04
May 2010
875
21
2.4
May 2011
920
31
3.36
May 2012
May 2013
910
1122
30
34
3.29
3.03


0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔