حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

پیر، 24 فروری، 2014

راہل جی ! کانگریس کی قوت ارادی اب کہاں کھو گئی


نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کی سیاسی زندگی میں ہلچل پیدا کرنے والی غلیل ڈاٹ کام کی  چشم کشا رپورٹ کے بعد اب اِ ن دنوں  انگریزی میگزین ’کارواں‘ کا وہ انٹرویو میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے جس میں ملک کے کئی حصوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے کلیدی ملزم اسیمانند نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے کارناموں کی پوری جانکاری آر ایس ایس کے سرسنگھ سنچالک موہن بھاگوت کو تھی اور یہ دھماکے ان کی حمایت ہی سے انجام دیے گئے تھے۔
اسیمانند نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں موہن بھاگوت نے یہ ہدایت دی تھی کہ اس پورے معاملے میں ہمارا نام نہیں آنا چاہئے، لیکن یہ کام انجام دیاجانا چاہئے۔ معلوم ہو کہ اسیمانند کافی عرصے سے سنگھ سےو ابستہ تھے اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم ’ونواس کلیان آشرم ‘ کے اہم عہدیدار تھے۔ آر ایس ایس ان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں دوبار گروگولوالکر ایوارڈ سے بھی نواز چکی ہے۔ اس لئے اسیمانند سے لاتعلقی کا اظہار آر ایس ایس کے لئے ہر گز ممکن نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب آر ایس ایس کا نام اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل گاندھی جی کے قتل سے لے کر ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں بھی کئی بار آر ایس ایس کا نام سامنے آچکاہے لیکن ہر بار اس نے بچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال  لیا جب جب کسی غیرقانونی سرگرمی میں آرایس ایس سے وابستہ افراد کا نام سامنے آیا ہے آر ایس ایس نے صاف طور پر یہ کہہ دیا کہ یہ لوگ کافی پہلے آر ایس ایس سے الگ ہوگئے تھے۔ لیکن اسیمانند سے لاتعلقی اس لئے بھی مشکل ہے کیونکہ آر ایس ایس سے اسیمانند کے گہرے اور دیرینہ تعلقات تھے۔
سوامی اسیمانند نے انٹرویو میں جو باتیں کہی ہیں یہ ساری باتیں اس نے جانچ ایجنسیوں کو بھی بتائی ہیں، لیکن اس پورے معاملے کو ایک طرح سے سیاسی رنگ دینے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے ، معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سیاسی بیان بازی تک محدود کردیا گیا ہے۔ ملک کی بر سر اقتدار جماعت کانگریس بھی بیان بازی کی حد تک ہی مخا لفت کر رہی ہے  حا لانکہ یہی کانگریس جب کا ر روائی کرنے کی ٹھان لیتی ہے تو انجام تک پہونچا کر ہی دم لیتی ہے ، گزشتہ کچھ عرصے میں کئی مواقع آئے جب کانگریس نے  کافی مضبوط قوت ارادی کا مظاہرہ کیا ہے قصاب اور افضل گرو کی پھانسی کا معاملہ ہو یا سیمی پر پابندی کی مدت میں توسیع کا معاملہ کانگریس نے ملک کی عوام کو اپنی طاقت کا احساس کرا یا ہے لیکن کیا وجہ کہ  ہندوتو وادی قوتوں سے پنجہ آزمائی کی ہمت نہیں کر پا رہی ہے ، اندریش کمار سمیت کئی چہرے آزاد گھوم رہے ہیں اب موہن بھاگوت کا نام واضح طور پر سامنے آیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اب اسیما نند کے انٹرویو پر چپی کیوں ؟ ملک کی سیکولر روایات کو برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کا دعویٰ کر نے والی کانگریس اسیمانند کے معاملے میں بیک فٹ پر کیوں چلی گئی۔  جواب صاف ہے کہ عام انتخابات سے قبل وہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتے جس کا سیاسی نقصان اٹھانا پڑے۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال سے  ایسا نہیں لگتا کہ جن لوگوں نے سوامی اسیمانند اور ان کے ساتھیوں کو تکنیکی اور ذہنی تربیت دے کر تیار کیا ہے ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی ہوسکے گی۔ ہوسکتا ہے اسیمانند ، پرگیاسنگھ ٹھاکر اور کچھ  دیگرلوگوں کو سزا دے کر معاملے کو ختم کردیا جائے لیکن  بڑی مچھلیوں پر جال ڈالنے کی ہمت نہیں ہے  آخران لوگوں کے خلاف کارروائی کیسے ہو جنھوں نے انسانیت کے قاتلوں کو اپنے آشرواد سے نوازکر ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی تھی۔ اصل کر نے کا کام تو یہی ہے کہ ان شر پسند عناصر کے خلاف کارروائی ہو جو معاشرے کو زہر آلود کرنے کے منسوبے پر گامزن ہیں ۔ 


0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔