حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

منگل, فروری 25, 2014

بھارت کی سیاست موقع پرستی اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر نہیں چل سکتی/ اخترالواسع/ خصوصی انٹرویو

بھارت میں 2014کےعام انتخابات کی تیاریاں شباب پر ہیں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بی جے پی اور کانگریس اقتدارکے حصول کے لیے سرگرداں تھی ہی کہ اس درمیان ایک سال قبل بھارت کے سیاسی افق پر ایک نیا سیاسی گروہ نمودار ہوا جس نے عام آدمی کے روز مرہ کے مسائل پر توجہ مرکوز کی اور وقت کے ساتھ ساتھ بھارت کے موجودہ سیاسی منظر نامے کو یکسر بدل ڈالا ، رائج الوقت سیاست سے عاجز عوام نے اب عام آدمی پارٹی سےاس قدر امید وابستہ کرلی ہے کہ جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی سیاست ایک نئے رخ پر گامزن ہے، انہی سوالات کا جواب جاننے کے لیے نئی دہلی میں  اشرف علی بستوی نے  معروف سیاسی تجزیہ کار  ملک کی معروف یونیورسٹی جا معہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر اخترالواسع سے یہ خصوصی گفتگو کی ، اور یہ جاننے کی کو شش کی کہ آئندہ عام انتخابات میں عام آدمی کے یہ تیور کس تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے ؟
س: ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کیا ہے ؟
ج : میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال سے قطعی مایوس نہیں ہوں، جمہوری نظام میں مختلف انداز سے چیزیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ ملک میں ایک طرف تو وہ قوتیں ہیں جو سیکولرزم کی بات کرتی ہیں، وہ کتنی سیکولر ہیں یہ الگ بحث ہے ، دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو ایک خاص تہذیب اور مذہب کی بات کرتے ہیں لیکن یہ قوتیں بہت زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس وقت قومی پارٹیوں کا دائرہ محدود ہورہاہے جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے میں علاقائی پارٹیاں اپنے علاقوں میں زیادہ بہتر طور پرعوام کے جذبات، احساسات، مطالبات، تمنائوں اور آرزوئوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے کئی حصوں میں علاقائی پارٹیاں کافی مضبوط ہوئی ہیں جو ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے لئے بہتر ہے۔

س: بھارت میں علاقائی سیاسی پارٹیوں کی مضبوطی کی بنیادی وجہ کیا رہی؟
ج: ہندوستان کو آزادی ملنے کے بعد وفاقی ملک قرار دیا گیا۔ لیکن جواہر لال نہرو کی مضبوط قیادت پوری طاقت  سے مرکز میں مرکوز رہی جسے بعد میں اندرا گاندھی نے بھی اپنی ذات میں محدود کرلیا اور یہ صورتحال کم وبیش 1996 تک رہی۔ اب یہاں سے ملک کا سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ 1996 تک مرکز یہ طے کرتا تھا کہ صوبیدار کون ہوگا؟ لیکن اب صوبے دار طے کرتے ہیں کہ مرکز میں وزیراعظم کون ہوگا؟ یہ علاقائی پارٹیوں کی مضبوطی کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان میں جمہوریت کو ابھی 65 برس ہوئے ہیں اس لئے یورپ اور امریکہ کی تین سو سالہ قدیم جمہوریتوں سے موازنہ کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔

س: بھارتی سیاست کے افق پر یکایک نمودار ہونے والی نومولود عام آدمی پارٹی  کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے،  ان کی کامیابی کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟
ج: عام آدمی پارٹی بنیادی طور پر فرقہ پرست سیاسی قوتوں کا راستہ روکنے والی ہے، اس لئے کہ بی جے پی کو جو کچھ حاصل ہونا تھا وہ کانگریس کی قیمت پر ہونا تھاجس پر عام آدمی پارٹی نے روک لگانے کا کام کیا ہے۔ عوام کے مسائل کا حل اب تک کی برسراقتدار سیاسی جماعتوں نے کیا، یہی وجہ ہے کہ آج عام آدمی کے غصے کی نمائندگی اروند کیجری وال کر رہے ہیں۔
س: بھارت میں روایتی سیاست کرنے والی  سبھی سیاسی جماعتوں اورعام آدمی پارٹی پارٹی میں نمایاں فرق کیا ہے ؟ قدیم ترین سیاسی حلقے اسقدر خائف کیوں ہیں ؟
ج : لوگوں کواس نئے سیاسی طریقے سے پریشانی صرف اس وجہ سے ہورہی ہے کہ اب تک لوگوں کو ایک ایسے سیاسی نظام کا عادی بنا دیا گیا تھا جس میں جدوجہد کی کوئی جگہ نہیں رہ گئی تھی، دوسرے سیاسی گروپ اقتدار کے حریص ہیں جبکہ عام آدمی پارٹی نے ایسی سیاست کو جنم دیا ہے جو اقتدار پر مرکوز نہیں بلکہ مسائل پر مرکوز سیاست ہے۔اگر یہ لوگ عوامی مسائل کے حل کے لئے تجربات کررہے ہیں تو انہیں یہ حق حاصل ہے۔

س : بحیثیت سیاسی تجزیہ کار عام آدمی پارٹی  کے تعلق سے آپکی  کیا رائے ہے؟
ج : میں کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں ہوں بلکہ ایک عام شہری کے طور پر یہ سمجھتا ہوں  کہ عام آدمی پارٹی کو کام کرنے دیا جائے۔ بلاوجہ پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ اس وقت ذاتی مفادات کی سیاست کرنے والے دانشور، سیاستداں اور صحافی عام آدمی پارٹی کے خلاف شور مچا رہے ہیں. عوام ابھی ان سے مایوس نہیں ہوئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی جو سوالات اٹھا رہی ہے ان کے جواب دینے پڑیں گے۔ لوک پال بل کو طویل عرصے سے تعطل میں رکھنے کا ذمے دار کون ہے ؟ ہر سیاسی جماعت اس کی مخالفت کیوں کر رہی تھی ؟ البتہ میں ذاتی طور پر ایسے کسی ادارے کے قیام کے حق میں نہیں ہوں جو پارلیمنٹ سے بالاتر ہوکر کیونکہ کسی ایک ادارے کو بے پناہ اختیار دینا مناسب نہ ہوگا۔ ملک میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو فرقہ واریت ، ذات پات اور علاقائی عصبیت سے الگ ہٹ کر عوامی مسائل کی بنیاد پر ووٹ ملا ہے۔
س: ملک میں 2014کے عام انتخابات بھت قریب آچکے ہیں ایک بار پھر مسلم ووٹروں کے لیے امتحان کی گھڑی آپڑی ہے ایسی صورت میں مسلمانوں کا موقف کیا ہو؟ 
ج : ہندوستان کا عام مسلمان نام نہاد مسلم قیادت سے بہتر سیاسی شعور رکھتا ہے، اسے کب کسے ووٹ دینا ہے بہتر جانتا ہے۔مسلمانوں کو ٹیکٹکل ووٹنگ کا فارمولہ اپنا نا چاہئے اور یہ کوشش ہو کہ الیکشن کو فرقہ پرستی کے رخ پر نہ جانے دیں۔ اب بی جے پی کو احساس ہوگیا ہے کہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر خاطرخواہ کامیابی نہیں ملے گی اسی لئے یہ لوگ بھی اب ترقی کی بات کرنے لگے ہیں۔ الغرض یہ کہ عام آدمی پارٹی نے ہماری سیاسی لفظیات، سیاسی اخلاقیات اور سیاسی ترجیحات تینوں کو بدل دیا ہے، لہٰذا اب ملک کی سیاست موقع پرستی اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر نہیں چل سکتی۔
https://mail.google.com/mail/u/0/images/cleardot.gif

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔