حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

جمعہ، 6 جولائی، 2012

یہ واویلا منفی تاثر ہی پیدا کرے گا

گزشتہ دنوں میڈیا کے ایک حلقے نے ملک کی بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدوں پر دس فیصد مسلم افسران کی تعیناتی کو بڑی اہمیت کے ساتھ جگہ دی ہے اور تاثر یہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں اس کااعادہ بے جا محسوس نہیں ہوتاکہ ایک طبقے کو یہ بات بُری طرح کھَلتی رہی ہے، وہ مسلمانوں کو ذمہ دارانہ مناصب پر کسی صورت میں دیکھنا نہیں چاہتا، یہ سوچ نئی نہیں ہے۔ رپورٹوں میں کہاگیاہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب سکریٹری سطح کے 71 آئی اے ایس افسران میں سات افسرمسلم ہیں، اس سے قبل 2006میں دو مسلم آئی اے ایس افسران سکریٹری سطح کے عہدے پر فائز تھے۔ اس وقت محمد حاکم کو مویشیوں کی دیکھ بھال کے محکمے کا سکریٹری بنایاگیاتھا جب کہ حال ہی میں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ایس وائی قریشی کو کھیل کود کے محکمے کا سکریٹری بنایاگیا تھا۔ واضح رہے کہ مرکزی سرکار میں سکریٹری سطح کے 93 عہدے ہیں جن میں 22 عہدے ایسے ہیں جن کے سکریٹری آئی اے ایس نہیں ہیں۔ بقیہ 71 عہدے آئی اے ایس افسران کے لےے مخصوص ہیں۔ اس طرح کل 9 مرکزی سکریٹری اس وقت مسلمان ہیں۔
خبر کا یہ پہلو یقینا حوصلہ افزا ہے لیکن سکے کے دوسرے رخ پر نظر ڈالیں تو صورت حال بہتر نہیں معلوم ہوتی کیوں کہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ۶۱ فیصد ہے اور سرکاری نوکریوں میںمسلمانوں کی حصے داری ڈھائی فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ ملک میں 4790 آئی اے ایس افسران ہیں جن میں مسلم آئی اے ایس افسران کی تعداد صرف 210 ہے اور 3209 آئی پی ایس افسران میں مسلم آئی پی ایس افسران کی تعداد 109 بتائی جاتی ہے۔ یونین پبلک سروس کمیشن ہر سال ملک میں آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس سمیت دیگر زمروں میں افسران کی بحالی کے لےے مقابلہ جاتی امتحانات کا اہتمام کرتا ہے، اس کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ کامیاب مسلم امیدواروں کا تناسب ہمیشہ ڈھائی سے تین فیصد کے درمیان ہی رہتا ہے۔ کبھی اس سے زیادہ نہیں ہوتا کیا یہ محض اتفاق ہے۔ حالانکہ مقابلہ جاتی امتحانوں میں شریک ہونے والے مسلم امیدواروں کی تعداد برابر بڑھتی رہتی ہے2012ءمیں 920 امیدوار کامیاب قرار دیے گئے جن میں 30 مسلم امیدوار کامیاب ہوسکے۔ اس لے قابل غور پہلو یہ ہے کہ مسلم نمایندگی کا تناسب کس طرح بڑھے؟ دس فیصد مسلم افسران کو مرکزی سکریٹری بناکر سرکاری نوکریوں میں مسلم نمایندگی کی کمی پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ 1990سے2010 کے درمیان گذشتہ بیس برسو ں میں صرف 47مسلم امیدواروں کو ہی IAS کیڈر ملا ہے ۔
 ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی سرکار اپنے انتخابی منشور کی روشنی میں مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں میں آبادی کے تناسب سے نمایندگی دینے کے لےے عملی اقدام کرے۔ ورنہ اس طرح کے دلچسپ اعداد و شمار سے حالات بہتر نہیں ہوںگے۔ اس سے تو یہی سمجھاجائے گا کہ مسلمانوں کا اس طرح اوپر اٹھنا گوارا نہیں کیاجارہاہے، اس پر واویلا منفی تاثر ہی پیدا کرے گا

1 تبصرہ کریں:

m a iQBAL نے لکھا ہے کہ

آپ کے تاثرات بجا ہیں لیکن حل کیا ہے؟ لوگ پسند نہیں کرتےکہ مسلمان اپنی صلاحیت کی بنا پر آگے آءیں اس کے باوجود کوشش جاری رکھنی چاہیے

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔