حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

جمعرات, اگست 14, 2014

صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کا یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام خطاب


پيارے ہم وطنو
ہماري آزادي کي 67 ويں سالگرہ سے قبل ميں آپ سب کو اور دنيا بھر ميں سبھي بھارتيوں کو دلي مبارکباد ديتا ہوں۔ ميں اپني مسلح افواج، نيم فوجي دستوں اور داخلي حفاظتي دستوں کے ارکان کو مبارکباد ديتا ہوں۔ ميں اپنے ان تمام کھلاڑيوں کو بھي مبارکباد ديتا ہوں جنھوں نے حال ہي ميں گلاسگو ميں اختتام پذير ہوئے دولت مشترکہ کھيلوں ميں شرکت کرکے اعزاز حاصل کئے ہيں۔
آزادي ايک تقريب ہے، آزادي ايک چيلنج ہے۔ آزادي کے 68 ويں برس ميں ہم نے قابل ذکر پُرامن انتخابي عمل کے ذريعہ تين دہائيوں بعد ايک واحد پارٹي کے لئے واضح اکثريت کے ساتھ ايک مستحکم حکومت کو منتخب کرکے اپني انفرادي اور اجتماعي آزادي کي قوت کا پھر سے اظہار کيا ہے۔ ووٹروں کے ذريعہ ڈالےگئے ووٹوں کي تعداد کا، جو پچھلے انتخابات ميں 58 فيصد تھے
،اس مرتبہ بڑھ کر 66 فيصد ہوجانا ہماري جمہوريت کي تواناتي کا مظہر ہے۔ اس کاميابي نے ہميں پاليسيوں، حکمت عملي اور نظام ميں اصلاح کرکے حکمراني کے چيلنج کا سامنا کرنے کا موقع ديا ہے تاکہ ہمارے عوام کي وسيع تمناؤں کو، ويژن، عہد بستگي، ايمانداري، تيزي اور انتظامي صلاحيتوں کے ساتھ پورا کيا جاسکے۔
جا مد ذہن غير محرک نظام مرتب کرتے ہيں جو ترقي کي راہ ميں رکاوٹ بنتے ہيں۔ بھارت کو حکمراني ميں ايسي تخليقي سوچ کي ضرورت ہے جو تيز رفتار ترقي اور سماجي ہم آہنگي کو يقيني بناسکے۔ ملک کو جانب داري کے جذبات سے بالاتر رکھنا ہوگا ۔ عوام اولين ہے۔
دوستوں، جمہوريت ميں عوام کي فلاح و بہبود کي خاطر ہماري اقتصادي اور سماجي وسائل کے مناسب اور موثر بندوبست کے لئے اختيارات کا استعمال ہي اچھي حکمراني ہے۔ ان اختيارات کا استعمال سرکاري اداروں کے ذريعہ آئين کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کيا جانا چاہئے۔ گزرتے ہوئے وقت اور ماحولياتي نظام ميں تبديلي کے ساتھ کچھ رکاوٹيں پيدا ہوتي ہيں جن سے کچھ ادارے غير فعال ہونے لگتے ہيں۔ جب کوئي ادارہ ايسے کام نہيں کرتا جس طرح اس سے توقع کي جاتي ہے تو مداخلت کا رجحان پيدا ہوتا ہے۔ايسے ميں جب کہ کچھ نئے ادارے بہت ضروري ہوجاتے ہيں ، تو اس کا حقيقي حل موثر حکومت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے موجودہ اداروں کو نئي شکل دينے اور ان کو بحال کرنے ميں مضمر ہے۔
اچھي حکمراني کا انحصار قانون کي بالادستي ، شموليت والي فيصلہ سازي، شفافيت، جوابي اقدامات، جوابدہي، يکسانيت اور شموليت پر ہوتا ہے۔ اس ميں سياسي عمل ميں شہري سماج کي وسيع شموليت پر زور ديا جاتا ہے۔ اس ميں جمہوريت کے اداروں کے ساتھ نوجوانوں کے گہرے تعلق کي ضرورت ہوتي ہے۔ اس ميں عوام کو انصاف کي تيز تر فراہمي پر زور دينے کي ضرورت ہے۔ اس ميں ذرائع ابلاغ کي طرف سے اخلاقي اور ذمہ دار رويہ کي توقع کي جاتي ہے۔
ہمارے جيسے بڑے، گوناگونيت اور پيچيدگي والے ملک کے لئے تہذيب پر مبني حکمراني کے ماڈل کي ضرورت ہے۔ اس ميں اختيارات کے استعمال اور ذمہ داري کو پورا کرنے کے لئے سبھي فريقوں کے تعاون کي ضرورت ہوتي ہے۔ يہ حکومت اور شہريوں کے درميان تعميري ساجھيداري پر زور ديتي ہے ۔ اس ميں ملک کے ہر گھر کي دہليز تک اور ہر آبادي تک فعال انتظاميہ کے پہنچنے کي اميد کي جاتي ہے۔ پيارے ہم وطنوں، ہمارے وقت کا فيصلہ کن چيلنج غريبي کي لعنت کو ختم کرنا ہے۔ اب ہماري پاليسيوں کي توجہ غريبي ميں کمي کي بجائے غريبي کے خاتمے پر ہوني چاہئے۔ يہ فرق صرف معنيٰ کا نہيں ہے ، کمي کرنا ايک عمل ہے، خاتمہ ايک مقررہ وقت کا مقصد ہے۔ پچھلي 6 دہائيوں ميں غريبي کي شرح 60 فيصد سے کم ہوکر 30 فيصد سے بھي کم ہوئي ہے۔ اس کے باوجود ہماري تقريباً ايک تِہائي آبادي اب بھي خط افلاس سے نيچے رہ رہي ہے۔ غريبي صرف اعداد و شمار ہي نہيں ہے، غريبي کا ايک چہرہ ہوتا ہے جو اُس وقت ناقابل برداشت ہوجاتا ہے، جب يہ ايک بچے کے چہرے پر اپنے نقوش چھوڑ تا ہے۔ غريب اب ايک اور نسل تک نہ تو اس بات کا انتظار کرسکتا ہے اور نہ ہي کرے گا کہ اسے زندگي کے لئے لازمي اشياء، خوراک، رہائش اور روزگار تک رسائي سے محروم رکھا جائے۔ اقتصادي ترقي کے فوائد غريب سے غريب تر افراد تک پہنچنے چاہئيں۔
گزشتہ دہائي ميں ہماري معيشت ميں سات اعشاريہ چھ فيصد کي اوسط شرح سے اضافہ ہوا۔ حالانکہ پچھلے دو برسوں کے دوران يہ ترقي پانچ فيصد سے کم کي شرح پر رہي ليکن مجھے ماحول ميں نئي تواناءي اور خوش اميدي محسوس ہورہي ہے۔ نئي جان پڑنے کے آثار نظر آنے لگے ہيں۔ ہمارا بيروني سيکٹر مضبوط ہوا ہے۔ مالي استحکام کے اقدامات کے نتائج ظاہر ہونے لگے ہيں۔ کبھي کبھار اضافے کو چھوڑ کر مہنگائي ميں کمي آنے لگي ہے۔ البتہ خوردني اشياء کي قيمتيں اب بھي تشو يش کا باعث ہيں۔ پچھلے سال اناج کي ريکارڈ پيداوار نے زراعت کے سيکٹر کو چار اعشاريہ سات فيصد کي صحت مند ترقي حاصل کرنے ميں مدد کي ہے۔ پچھلي دہائي ميں روزگار ميں تقريباً چار فيصد سالانہ کا اوسط اضافہ ہوا ہے۔ مينوفيکچرنگ سيکٹر ميں پھر سےاضافہ ہورہا ہے۔ اب پھر ہماري معيشت کے سات سے آٹھ فيصد کي شرح ترقي حاصل کرنے کي راہ ہموار ہوگئي ہے جو يکساں ترقي کے لئے مناسب وسائل کي دستيابي کو يقيني بنانے کے لئے لازمي ہے۔
معيشت ترقي کا ايک طبعي حصہ ہے ۔ تعليم اس کا ايک لازمي جز ہے۔ ايک مضبوط تعليمي نظام ايک روشن خيال سماج کي بنياد ہے۔ ہمارے تعليمي اداروں کي يہ لازمي ذمہ داري ہے کہ وہ معياري تعليم فراہم کريں اور مادر وطن کے لئے محبت ، سب کے لئے ہمدردي، کثرت کے لئے رواداري، خواتين کے لئے احترام، ذمہ داري کي ادائيگي ، زندگي ميں ايمانداري ، رويے ميں خود کفالت ، عمل ميں ذمہ داري اور نوجوان ذہنوں ميں ڈسپلن کي تہذيبي اقدار کو فروغ ديں۔ بارہويں پانچ سالہ منصوبے کے آخر تک ہم 80 فيصد تک خواندگي کي شرح حاصل کر چکے ہوں گے ليکن کيا ہم يہ کہہ سکيں گے کہ ہم نے اچھے شہري اور کامياب پيشہ ور بننے کے لئے اپنے بچوں کو معياري تعليم اور ہنر مندي فراہم کي ہے پيارے ہم وطنوں، ہمارے خيالات ہمارے ماحول سے متاثرہوتے ہيں۔
Yadrishi Bhavana Yasya; Siddhir Bhavati Tadrishi” يعني جيسے آپ کے خيالات ہوتے ہيں ويسا ہي پھل ملتا ہے۔ صاف ماحول سے صاف خيالات پيدا ہوتےہيں۔ صفائي ستھرائي اپنے وقار کي علامت ہے۔ چوتھي صدي قبل مسيح ميں Megasthenes، پانچويں صدي عيسوي ميں Fa Hien اور ساتويں صدي عيسوي ميں Hiuen Tsang جيسے قديم سياح ، جب ہندوستان آئے تو انھوں نے اپني تحريروں ميں يہاں منصوبہ بند بستيوں اور بہترين شہري بنيادي ڈھانچے کا ذکر کيا تھا۔ليکن اب ہميں کيا ہوگيا ہے؟ ہم اپنے ماحول کو گندگي سے پاک کيوں نہيں رکھ سکتے؟ مہاتما گاندھي کے 150 ويں يوم پيدائش پر انھيں ياد کرتے ہوئے بھارت کو 2019 تک ايک صاف ستھرا ملک بنانے کي وزير اعظم کي اپيل قابل ستائش ہے ليکن يہ اسي وقت ممکن ہوگا جب ہر بھارتي شہري اس کو ايک قومي مشن ميں تبديل کرے۔ اگر ہم تھوڑا سا بھي دھيان ديں تو ہر سڑک ، ہر راستہ ، ہر دفتر ، ہر گھر ، ہر جھونپڑي ، ہر دريا ، ہر چشمہ اور ہمارے ارد گرد ہوا ميں اڑتے ذرات کو صاف رکھا جاسکتا ہے۔ ہميں فطرت کي ديکھ بھال کرني ہوگي تاکہ فطرت بھي ہماري ديکھ بھال کرسکے
قديم تہذيب ہونے کے باوجود بھارت جديد خوابوں کا ايک جديد ملک ہے۔ عدم رواداري اور تشدد ، جمہوريت کے معني اور روح کے منافي ہيں۔ وہ وگ جو اشتعال انگيز اور بھڑکانے والے زہريلے فقروں ميں يقين رکھتے ہيں، بھارت کي اقدار کو يہاں تک کہ موجودہ سياسي صورتحال کو نہيں سمجھتے۔ بھارتي شہري جانتے ہيں کہ اقتصادي يا سماجي ترقي امن کے بغير بہت مشکل ہے۔ اس موقع پر عظيم شيواجي کے اورنگ زيب کے نام خط کو ياد کرنا درست ہوگا جب اورنگ زيب نے جزيہ نافذ کيا تھا۔ شيواجي نے شہنشاہ کو بتايا کہ شاہجہاں ، جہانگير اور اکبر بھي يہ ٹيکس لگاسکتے تھے ليکن انھوں نے اپنے دلوں ميں تعصب کو جگہ نہيں دي کيونکہ ان کا ماننا تھا کہ خدانے چھوٹے ، بڑے تمام لوگوں کو مختلف طبقوں اور مزاجوں کے ماڈل کے طور پر تخليق کيا ہے ۔ شيواجي کے 17 ويں صدي کے اس خط ميں ايک پيغام ہے جو آفاقي ہے۔ يہ ہمارے رويہ کي رہنماءي کرنے والي زندہ جاويد دستاويز ہوني چاہئے
ہم اس پيغام کو ايسے وقت ميں بھولنے کا خطرہ نہيں اٹھاسکتے جب کہ بڑھتے ہوئے پرآشوب بين الاقوامي ماحول نے ہمارے خطے اور اس سے آگے خطرات ميں اضافہ کرديا ہے جن ميں کچھ بالکل واضح ہيں اور کچھ بے مثال اتھل پتھل کے نتيجے ميں ظاہر ہورہے ہيں۔ ايشيا اور افريقہ کے کچھ حصوں ميں شدت پسند جنگجوؤں کے ذريعہ مذہبي نظريات پر مبني جغرافياءي اقتدار قائم کرنے کے لئے ممالک کے نقشوں کو دوبارہ مرتب کرنے کي کوششيں کي جارہي ہيں۔ بھارت اس کے منفي نتائج کو محسوس کرے گا ۔ خاص طور پر اس لئے کيونکہ يہ ان اقدار کي نمائندگي کرتا ہے جو انتہا پسندي کو ہر صورت ميں مسترد کرتے ہيں۔ بھارت جمہوريت، برابري اور مذاہب کے اندر اور مذاہب کے مابين ہم آہنگي کي علامت ہے۔ ہميں اپنے سيکيولر تانے بانے کا پوري قوت کے ساتھ دفاع کرنا چاہئے۔ ہميں اپني سلامتي اور خارجہ پاليسيوں ميں ڈپلوميسي کي نرمي کے ساتھ فولادي قوت کا اظہار کرنا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہي يکساں نظريات والے اور ديگر ايسے لوگوں کو بھي ان خطرات کو پہچاننے کے لئے آمادہ کرنا ہوگا جو بے اعتنائي سے پيدا ہورہے ہيں۔
پيارے ہم وطنوں، ہمارا آئين ہماري جمہوري تہذيب کا نتيجہ ہے جو ہماري قديم اقدار کي عکاسي کرتا ہے۔ مجھے يہ ديکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ اس عظيم قومي وراثت پر ناعاقبت انديشي کي زيادتيوں کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ آزادي کا ہمارا حق مسلسل فروغ پارہا ہے اور ايسا ہميشہ جاري رہ سکتا ہے ليکن عوام کے تئيں ہماري ذمہ داري کيا ہے؟ ميں کبھي کبھي سوچتا ہوں کہ کيا ہماري جمہوريت بہت شوروغل والي ہوگئي ہے؟ کيا ہم غوروخوض کرنے اور پُرسکون طور پر سوچنے سمجھنے کا فن بھلاچکے ہيں؟ کيا ابھي وہ وقت نہيں آيا ہے جب ہم اپني خوبصورت جمہوريت کو برقرار رکھنے اور اسے استحکام عطا کرنے والے اپنے اداروں کي عظمت اور وقار کو پھر سے بحال کريں؟ کيا پارليمنٹ کو ايک بار پھر سنجيدہ غوروخوض اور اچھي بحث و مباحثے کے بعد قانون سازي کا عظيم ادارہ نہيں بننا چاہئے۔ کيا ہماري عدالتوں کو انصاف کا مندر نہيں بننا چاہئے ؟ اس کے لئے تمام فريقوں کے ذريعہ اجتماعي عمل کي ضرورت ہے۔
68 سال ميں ايک ملک بہت نوجوان ہوتا ہے۔ بھارت کے پاس 21 ويں صدي پر اپنا دعويٰ کرنے کے لئے قوت ارادي ، تواناءي ، ذہانت ، اقدار اور اتحاد موجود ہے۔ غريبي سے آزادي کي لڑاءي ميں جيت حاصل کرنے کے لئے ہدف مقرر کيا جاچکا ہے۔ يہ سفر ان لوگوں کو ہي مشکل محسوس ہوگا جن ميں اعتماد کي کمي ہے۔ ايک پراني کہاوت ہے “Sidhir Bhavati Karamja” يعني کاميابي عمل سے ہي پيدا ہوتي ہے۔ اور اب عمل کرنے کا وقت آگيا ہے --جے ہند۔


0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔