حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

جمعرات، 14 اگست، 2014

وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے پہلا خطاب کیا


نئی دہلی:(اشرف علی بستوی)  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی کے لال قلعہ پر ترنگا لہرا کر عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ ملک کے 68ویں یومِ آزادی کے موقع پر آج علی الصبح پرچم کشائی کے لیے وزیر اعظم لال قلعہ پہنچے جہاں انھیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ لال قلعہ سے وزیر اعظم کی تقریر اپنے وقت معینہ پر شروع ہوئی۔ انھوں نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ملکی باشندوں اور دنیا بھر میں ہر کسی کو مبارکباد۔ ’پردھان سیوک‘ کی جانب سے بے پناہ نیک خواہشات۔ میں آپ کے درمیان وزیر اعظم کی شکل میں نہیں، ’پردھان سیوک‘ کی شکل میں موجود ہوں۔ ملک میں آزادی کی جنگ کافی سالوں تک لڑی گئی، متعدد جانبازوں نے جیل میں اپنی زندگی گزار دی۔ ملک کی آزادی کے لیے مر مٹنے والے سبھی آزادی کے سپاہیوں کو سو-سو مرتبہ سلام۔“ نریندر مودی نے آزادی کے اس تہوار پر ہندوستان کے عوام کو اپنا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہیدوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ قومی تہوار ماں بھارتی کی فلاح کے لیے، ہمارے ملک کے غریب مظلوم، دلت، پسماندہ لوگوں کی فلاح کے لیے کچھ کر گزرنے کا تہوار ہے۔“ وہ مزید کہتے ہیں ”قومی تہوار قومی کردار کو نکھارنے کا موقع ہوتا ہے۔ قومی تہوار سے ترغیب حاصل کرنی چاہیے۔ آزادی کا تہوار ہندوستان کو نئی اونچائیوں پرلے جانے کا تہوار بن سکتا ہے۔“
یومِ آزادی کے موقع پر عوام سے خصوصی خطاب کے دوران نریندر مودی نے اپنے کچھ اہم منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ”حکومت ’وزیر اعظم جن دھن منصوبہ‘ شروع کرے گی۔ اس منصوبہ کے تحت ملک کے ہر شہری کا بینک میں اکاﺅنٹ کھولا جائے گا اور ایک لاکھ روپے کا انشورنس کیا جائے گا تاکہ مشکل وقت میں یہ رقم لوگوں کے کام آ سکے۔“ انھوں نے نوجوانوں سے متعلق کہا کہ ”یہ ملک نوجوانوں کا ملک ہے۔ ہندوستان دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو مزید ہنرمند بنایا جائے۔ نوجوانوں کو روزگار دینا ہے تو ہمیں پروڈکشن ڈپارٹمنٹ کو بڑھانا ہے۔ ملک کے ہر نوجوان کو ہنر مند بنانا ہے۔“ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی کم شرح پیدائش پر بھی وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا ”ملک میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں کم پیدا ہوتی ہیں۔ یہ عدم توازن تو ایشور پیدا نہیں کرتا۔ میں لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ دوران حمل لڑکیوں کو ضائع نہ کریں۔ ملک کی آن، بان، شان میں ہماری بیٹیوں کا بھی تعاون ہے۔“ ملک میں تشدد کے معاملات کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ”تشدد کے راستے سے کچھ نہیں ملے گا۔ دہشت پسند بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ ماﺅنواز بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ کندھے پر بندوق کی جگہ ہل کیوں نہیں ہو سکتا۔ آزادی کے بعد سے ذات پات، فرقہ پرستی کے زہر سے آج ہم جکڑے ہوئے ہیں۔ اس سے کچھ نہیں ملا۔ ہمیں ان سے دور جانا ہوگا۔ امن، بھائی چارہ اور خیر سگالی ہمیں آگے بڑھنے میں مدد کرے گی۔ ملک میں عصمت دری کے واقعات سے ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ گھر والوں کو لڑکیوں پر ہی بندشیں نہیں ڈالنی چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹوں پر بھی پابندی لگائیں۔“
کسانوں، مزدوروں اور ملک کے دیگر محنت کش لوگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ”یہ ملک سیاسی لیڈروں، حاکموں نے نہیں بنایا، حکومتوں نے بھی نہیں بنایا۔ ملک کو کسانوں، مزدوروں نے بنایا ہے۔ ہندوستان کی ماں بہنوں، اساتذہ، سماجی کارکنوں نے ملک بنایا، تب جا کر ملک یہاں تک پہنچا ہے۔ ملک کے لیے پوری زندگی قربان کرنے والے سبھی لوگ تعریف کے قابل ہیں۔“ مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ ”یہ ہندوستان کی خوبی ہے کہ چھوٹے شہر کے غریب خاندان کے ایک بچے کو آج لال قلعہ میں ہندوستان کے ترنگے جھنڈے کے سامنے سر خم کرنے کا موقع حاصل ہوا۔ یہ ہندوستان کی آئین سازوں کی محنت ہے۔“ اپنی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے مودی کہتے ہیں ”ملک اس بنیاد پر کھڑا ہے جہاں دور قدیم میں ایک ہی منتر سنایا جاتا ہے، ہم ساتھ چلیں، مل کر چلیں، مل کر عزم کریں اور مل کر ملک کو آگے بڑھائیں۔ اسی نظریہ کے ساتھ 125 کروڑ لوگوں نے ملک کو آگے بڑھایا۔“ غریبی کو ختم کرنے کے تئیں پرعزم وزیر اعظم نے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ ”ہمیں ہندوستان سے غریبی کو ہٹانا ہے۔ سارک ممالک مل کر دنیا میں اپنی اہمیت ثابت کر سکتے ہیں۔ سارک ممالک کو مل کر اپنی غریبی دور کرنی ہے۔ میں ملک کے باشندوں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ 12 گھنٹے کام کریں گے تو میں 13 گھنٹے کام کروں گا۔ اگر آپ 14 گھنٹے کام کریں گے تو میں 15 گھنٹے کام کروں گا، کیونکہ میں آج آپ لوگوں کے درمیان وزیر اعظم کے طور پر نہیں بلکہ ’پردھان سیوک‘ کے طور پر موجود ہوں۔ میں ملک کی حفاظت میں تعینات فوجیوں کو سلام کرتا ہوں۔ سرحد پر جوان جاگ رہے ہیں اس لیے ہمیں بھی جاگتے رہنا ہوگا۔“ ممبران پارلیمنٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ”ہر پارلیمنٹ رول ماڈل گاﺅں بنائیں۔ پانچ سال میں ممبران پارلیمنٹ پانچ رول ماڈل گاﺅں کی تعمیر کریں۔ ملک بنانا ہے تو گاﺅں سے شروعات کرنی ہوگی۔ 12 اکتوبر سے ’ایم پی رول ماڈل ولیج منصوبہ‘ شروع کیا جائے گا۔ جے پرکاش کے یوم پیدائش پر یہ منصوبہ شروع ہوگا۔ منصوبہ کمیشن کی شکل بدلنے کی بھی ضرورت ہے۔ منصوبہ کمیشن کی جگہ پر نئی سوچ، نئی سمت، نئے اعتماد کے ساتھ ہم ایک نئے ادارے کی تعمیر کریں گے۔ منصوبہ کمیشن نے اب تک بہت اچھا کام کیا ہے، اس کے کاموں کا میں استقبال کرتا ہوں لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ اقتصادی ترقی کا کام آج صرف حکومتیں نہیں کر رہی ہیں۔ اقتصادی ہلچل کا دائرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے ہم اس سمت میں جلد ہی آگے بڑھنے والے ہیں۔“ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ ”مہاتما گاندھی کی 150ویں جینتی آنے والی ہے۔ گاندھی جی کو صاف صفائی سے بہت لگاﺅ تھا۔ ہمیں صاف صفائی کا عزم کرنا ہوگا۔ صاف صفائی بہت بڑا کام ہے۔ ملک کے باشندوں کو ’صاف ہندوستان مہم‘ کو آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں ہر گھر میں بیت الخلاءیقینی بنایا ہے۔ میں ملک کے لوگوں، کارپوریٹ گھرانوں کو اعلان کرتا ہوں کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر ملک کے سبھی اسکولوں میں بچیوں کے لیے الگ بیت الخلا کی تعمیر کریں۔ اگلے سال جب ہم 15 اگست کو لال قلعہ پر ملیں تو کوئی بھی اسکول بغیر بیت الخلاءکے نہ ہو۔“ وزیر اعظم نے ہندوستان کو مزید اونچائی تک پہنچانے کے خواب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ ملک کے ہر گوشے میں یہ بات پہنچے کہ ’میڈ اِن انڈیا‘۔ ملک کا یہی خواب ہونا چاہیے۔ نوجوانوں سے میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنے ہنر سے پوری دنیا کو متعارف کرائیں۔ ہندوستان کے بارے میں دنیا کی سوچ بدلی ہے۔ اب یہ ملک سانپ اور جادوگروں کا نہیں ہے۔ اب یہ ملک ’ڈیجیٹل انڈیا‘ ہے۔ ہمارے آئی ٹی شعبہ کے نوجوانوں نے دنیا میں ہندوستان کی تصویر بدل دی۔ آئی ٹی کے شعبہ میں ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت کا لوہا آج پوری دنیا مانتی ہے۔“

1 تبصرہ کریں:

NoorMohammed Hodekar نے لکھا ہے کہ

محترم کو ۔ ۔ لال قلعہ کے علاوہ کوئی اور جگہ نہیں ملی ، ،خطاب کے لئے ۔ ۔ ۔

سنا تھا کہ وہ کسی اور جگہ سے خطاب کرنے والے تھے ؟ ؟ ؟

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔