حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

سوموار، 29 ستمبر، 2014

کتاب عرض ہے/ تحسین منورؔ / شاعرِ اعظم اسرارؔ جامعی


کتاب عرض ہے.
تحسین منورؔ -شاعرِ اعظم اسرارؔ جامعی:-
اکثر اردو کے پروگراموں میں انھیں ہم نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ شرکت کرتے دیکھتے رہے ہیں۔اگر وہ پروگرام کا حصّہ ہیں تب بھی اور اگر پروگرام کا حصّہ نہیں ہیں اس دم بھی ان کا انداز ایسا ہی نظر آتا ہے ۔ مگر یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایک زمانے میں بڑے بڑے تُرّم خاں ٹائپ کے شاعر و ادیب تک ان کے سامنے پانی بھرنے کی حالت میں آجاتے تھے۔ وہ جس کی جہاں چاہتے ’’ چٹنی ‘‘ بنا دینے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ شاعروں اور ادیبوں کا ’’پوسٹ مارٹم ‘ ‘ کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ جہاں تک ان کے ’’ لیٹر بم ‘‘ کا سوال ہے اس نے مزاح کے فروغ میں جو نمایاں کردار ادا کیا ہے اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ مجروح سلطان پوری لکھتے ہیں ‘‘ عالمی ماحول کو دیکھتے ہوئے اگر آپ کے’’ لیٹر بم‘‘ سے میرے گھر میں خوف و حراس کی فضا تھوڑی دیر کے لئے پیدا ہو گئی تو کچھ غیر فطری نہ تھا ،بحر حال آپ کا یہ تشدد پسندوں کا طریقہ دیکھ کر میں نے بھی عافیت اسی میں دیکھی کہ تعاون سے کام لیا جائے۔‘‘شمس ارحمن فاروقی لکھتے ہیں ’’ہم لوگ انھیں علّامہ کہتے ہیں کیونکہ وہ شکل سے سیدھے اور اندر سے بڑے خطرناک ہیں ۔شاعروں اور استادوں کے وہ خاص دشمن ہیں۔‘‘پروفیسر شکیل الرحمن کی نظر میں ’’ اسرارؔ جامعی ’’ون مین آرمی ‘‘ ہیں۔
اس لئے جب ہمارے ہاتھ میں اسرارؔ جامعی کااکتوبر ۱۹۹۶ ء میں شائع طنز و مزاح کا شعری مجموعہ آیا اور اس میں ان کے بارے میں کافی تفصیل سے پڑھنے کو ملا تو ہم حیران رہ گئے۔ ایک بار وہ ہمارے ساتھ دوردرشن اردوکے ایک پروگرام کا حصّہ تھے ۔تب ایک مزاحیہ شاعر نے شکایتی لہجے میں کہا تھا کہ آپ نے ہمیں نظر انداز کردیا۔ اگر ہمارے پاس وہ ساری معلومات ہوتی جو ہم آپ سے اب بانٹنے جارہے ہیں تب ہم ان شاعر کی نظر اندازی کا سبب بہتر طور پر بتا سکتے تھے۔ جہاں تک شاعرِ اعظم کا تعلق ہے اس میں اسرارؔ جامعی کی وہ تمام نظمیں اور قطعات ہیں جو انھیں دور دور تک پہنچاتی رہی ہیں۔لیکن اس میں ان شعری نگارشات سے الگ اسرارؔ جامعی کے اوپر سے جو اسرار کے پردے ہٹے ہیں وہ ایک ایسے شاعر کو ہمارے سامنے لاتے ہیں جو نہ صرف اپنے فن میںیکتاہے بلکہ وہ اپنی شاعری سے ضرب و حرب کا بھی کام لینے کا ہنر جانتا ہے ۔ یہ جو ہمارے ہاتھ میں شاعرِ اعظم ہے اس پر اسرار ؔ جامعی صاحب نے اپنے ہاتھ سے ایک شعرلکھا ہے اور دستخط میں ۲۰ / اپریل ۱۹۹۷ ء کی تاریخ درج ہے۔ شعر ہمارے والد صاحب کو مخاطب کرکے لکھا گیا ہے ۔
پروانہؔ ’’ردولی‘‘ کے انداز نرالے ہیں 
دیتے ہیں رقم اول لیتے ہیں کتاب آخر

کیا لوگ تھے جو اردو کی کتاب بغیر قیمت دیے نہیں پڑھتے تھے۔ یہ شعر اس کی عکّاسی کرتا محسوس ہو رہا ہے۔ ہم نے بھی کئی بار ان کے ہی انداز میں کتاب کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کی ۔بہت سے لوگ بُرا مان گئے کہ ہم ان کی بے عزتی کر رہے ہیں۔ اب ہم نے اس کے لئے صوفیانہ طرز اپنالی ہے۔ یعنی دعا دے دیتے ہیں۔ ہم صابر قسم کے سیّد ہیں اور ہمارا یہ ماننا ہے کہ ہماری دعا اور بد دعا (جو ہم دے ہی نہیں پاتے )میں اکثر اثر آجاتا ہے۔ مگر ہم دعا دیتے وقت تھوڑی سی چالاکی یہ کردیتے ہیں کہ جتنی بھی ’’جائز‘‘ تمنائیں ہیں ضرور جوڑ دیتے ہیں۔اب ایسے میں ہماری دعا کام آتی ہی نہیں ۔جہاں تک جائز تمنا کا معاملہ ہے وہ تو اللہ یوں ہی پوری کر دیتا ہے معاملہ تو سب کا سب ناجائز کا ہی ہے جس کے لئے دنیا شام کو صبح اور صبح کو دوپہر اور دوپہرکوشام کر تی رہتی ہے ۔خیر ہم بھی خوامخواہ جذباتی ہوگئے ۔آپ سنجیدہ مت ہوئیے گا کہ بات ایک طنز و مزاح کے شاعر کی کتاب کی ہورہی ہے۔ کتاب کو استاذِ ذی وقار شیخ الجامعہ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ،عزت مآب جناب ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم سابق صدر جمہوریہ ہند کے نام معنون کیا گیا ہے جنھوں نے کبھی دیوار پرطالب علمی کے دور میں اپنانام لکھتے دیکھ کر سیّد شاہ محمد اسرارالحق اور ہمارے آج کے اسرارؔ جامعی سے کہا تھا ’’ آپ کانام ایسا ہونا چاہئے جسے دوسرے ،اخباروں اور کتابوں میں سنہری حروف میں لکھا کریں،نہ کہ آپ خود اسے فرشوں اور دیواروں پر لکھیں ۔‘‘
کتاب میں فہرست کو ’’ کھُل جا سم سم ‘‘ کے عنوان سے بند کیا گیا ہے۔ اسراؔ ر جامعی کے بارے میں پروفیسر محمد حسن کا ۱۲ جولائی ۱۹۹۴ ء کا لکھا مضمون بھی آغاز میں ہے۔ جس میں ان کی شاعری کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اسرار جامعی کہ یہاں طنز و مزاح کا تانا بانا فکر و احساس کی تازہ کاری سے بُنا جاتا ہے ۔‘‘ایک اور مضمون جو انگریزی کے اخبار میں شائع ہوا تھا ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ ایس بی چوان کی افطار پارٹی میں اسرارؔ جامعی نے کھُل کر اس وقت کے سخت اور متعصب قانون ٹاڈا کے خلاف نظم سنائی کہ وزیر داخلہ کو بھی ماننا پڑا کہ ٹاڈا کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اگلے دن ہندی کے بڑے اخبار جن ستّا نے اس واقعہ کو رقم کرکے لکھا کہ اسرؔ ار جامعی کے نظم سنانے کے بعد وزیر داخلہ نے مانا کہ ٹاڈا کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اسی موقع پر انھوں نے تب بھی چٹکی لی کہ جب کہا گیا کہ سب کو بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہئے۔ ان کا یہ قطعہ تو عام ہو چکا ہے۔ 


کیا پتے کی بات کہہ دی جامعی اسراؔ رنے
کیوں ادا کرنا پڑا ہے اس کا کُفّارہ ہمیں 
بھائی چارے کا یہ مطلب اب نہ ہونا چاہئے 
ہم تو ان کو بھائی سمجھیں اور وہ ’’چارہ ‘‘ہمیں

حاکم کے سامنے ان کا یہ انداز یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ انھوں نے کسی موقع پر بھی حق سے منہ نہیں پھیرا ہے۔ اس لئے ان کو ابو المزاح علّامہ اسرارؔ جامعی کہا جاتا ہے۔ احمد جمال پاشا کے اس کتاب میں دو مضامین ہیں جن میں سے ایک میں اسرارؔ جامعی کی کامیابی کی دہشت سے شاعروں کے ہوش فاختہ ہونے کا بھی تذکرہ ہے۔ خاص طور سے جمیلؔ مظہری صاحب کے جشن کے حوالے سے جو انھوں نے واقعہ تحریر کیا ہے وہ اسرارؔ جامعی کے آغاز سفر کا موقع ہے مگر ان کی خود اعتمادی کس بلندی پر تھی وہ ان کا یہ شعر سمجھا رہا ہے۔ 

ہر ذرّہ چمکنے کی سیاست میں ہے مصروف 
یہ جشنِ جمیل ؔ آپ کا انعام نہیں ہے

اس کے فوراً بعد ہونے والے ایک مشا عرے میں سامعین نے کسی اور کو سننے سے انکار کردیا اور اسرارؔ جامعی کا مطالبہ کرنے لگے۔ جب شاعر شہید ہونے لگے تو اسرار ؔ جامعی کو گھر جاکر مشاعرہ گاہ میں لانا پڑا۔احمد پاشا لکھتے ہیں کہ یہ ایسا مشاعرہ تھا کہ بہت سے شاعر بیاضیں چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ہر مشاعرہ ’’ون مین شو ‘‘ ہونے لگا ۔شہر میں مسئلہ ہوگیا کہ اب مشاعرہ کیسے کیا جائے کہ لوگ صرف اسرار ؔ جامعی کو ہی سننا چاہتے تھے۔ اس مجموعہ میں رضا نقوی واہیؔ کا ایک خط بھی موجود ہے ۔جس میں انھوں نے اسرار ؔ جامعی کو’’فخر بِہار ‘‘کے خطاب سے نوازنے کے بعد اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی ہے۔واہیؔ صاحب نے اس موقع پر ان کے اعزاز میں ایک نظم بھی پڑھی جس کے بعد جلن وحسد کاایسا طوفان کھڑاہوا جس سے روزانہ ایک وار اِدھر سے اور ایک وار اُدھر سے ہونے لگا۔

فخرِ عظیم آباد ہیں اسرارؔ جامعی 
اس دورِ نو کے شاد ہیں اسرارؔ جامعی (واہیؔ )
محفل کے ایک چراغ ہیں اسرارؔ جامعی 
یعنی ادب کے داغ ہیں اسرارؔ جامعی (سپاہیؔ )
کتنے سپاہیوں نے دیں آکر سلامیاں
داروغہء بہار ہیں اسرارؔ جامعی (منیر سیفیؔ ) 
جس میں نہ نون مرچ نہ کوئی ہے ظائقہ 
آلو کے بس کباب ہیں اسرارؔ جامعی (جنابؔ عظیم آبادی ،فرضی نام)
چلتی ہوئی ردیف ہیں اسرارؔ جامعی 
ا نساں عجب شریف ہیں اسرارؔ جامعی (ماہرؔ آروی)

اس قسم کے بے شمار اشعار ہیں۔غرض یہ کہ ایک سمت سے ان کے خلاف شاعری ہوتی تو دوسری طرف سے ان کے حق میں کلامِ نرم و نازک موثر آجاتا ۔اس بیچ ان کو واہیؔ صاحب نے علّامہ کا خطاب بھی دے دیا ۔وہ مشاعروں کی جان ہوتے چلے گئے اور ملک بھر میں ان کا بلاوا آنے لگا۔جو ہم سے ٹکرائے گا چور چور ہوجائے گا کے مصداق اچھے اچھوں کو انھوں نے پٹنہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ جب انھوں نے ’’خانہ داماد‘‘ او ر ’’خانہ داماد کی فریاد‘‘ لکھی اس نے بم کا کام کیا ۔انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے علم میں نہیں تھا کہ قاضی عبدالودود اور ڈاکٹر علیم اللہ حالی ؔ خانہ داماد ہیں۔قاضی حاحب نے انھیں طلب کرلیا۔انھوں نے کہا کہ جتنے بھی خانہ داماد ہیں ان پر لکھی ہے۔ وہاں سے لوٹتے وقت ڈاکٹر علیم اللہ حالی ؔ نے کہا :’’ ہم آپ پر کیس کریں گے ‘‘’’ ہم فیس کریں گے ‘‘ہم آپ کو سڑکوں پر پٹوادیں گے ‘‘’’ ہم آپ کو لڑکوں سے پٹوادیں گے ‘‘۔

اسرارؔ جامعی انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ اس کے بعدحالیؔ صاحب نے عظیم آباد ایکسپریس کے جس شمارے میں ’’خانہ داماد ‘‘چھپی تھی اس کی تمام کاپیاں خریدوا کر جلا دیں۔اسرارؔ جامعی نے ان کے کالج میں گھُس کر خانہ داماد اور داماد کی فریاد تقسیم کروادی ۔انٹرویو کے مطابق اس کے بعد ان کانام پروفیسر علّامہ حالی ؔ سے پروفیسر خانہ داماد پڑ گیا۔اس کے فوراً بعد اسرارؔ جامعی نے ایمرجنسی اور خانہ داماد لکھ دی ۔

درو دیوار پر حسرت سے نظر کرتے ہیں
خوش رہیں ساس سسر ہم تو سفر کرتے ہیں

آخرپروفیسر علّامہ حالی ؔ نے اپنا تبادلہ کروالیا اور پٹنہ سے گیا چلے گئے۔ یہ ہیں ا سرارؔ جامعی جنھیں ون مین آرمی ایسے ہی نہیں کہا گیا ہے۔ وہ کسی بھی موقع پر کوئی بھی شعر سن کر جس تیزی سے قطعہ یا کوئی شعر تخلیق کر لیتے ہیں اس کا جواب نہیں ہے۔ اس میں وہ استادوں تک کو نہیں بخشتے تھے۔ایک بار پٹنہ کے ایک مشاعرے میں ناظم مشاعرہ مظہر امام نے انھیں پڑھوائے بنا مشاعرے کے خاتمہ کا اعلان کردیا۔سامعین نے کہہ دیا کہ جانے نہیں دیا جائے گا جب تک کہ اسرارؔ جامعی کو نہیں پڑھواتے۔ اس کے بعد انھیں آواز دی گئی ۔اسرار ؔ جامعی نے اس موقع پر بھگو بھگو کر گولے داغے۔ 
کہتے ہیں اپنے آپ کو وہ قادرالکلام 
تسبیح شاعری کے اگر چہ ہیں وہ امام
پٹری بدل بدل کے وہ چلتے رہے سدا 
فیشن کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے سدا
یہ کل کی بات ہے کہ روایت پرست تھے
بدلے تو پھر ترقی پرستی میں مست تھے
نکلا جلوس جیسے ہی اہلِ جدید کا
’’ دیکھا انھوں نے چاند محرم میں عید کا ‘‘

ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا نے اردو کو بہار کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے کر اردو بھون بنانے کا اعلان کیا ۔مگر اردو بھون کے افتتاح کے موقع پر وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہے۔ اس موقعہ پر سب ڈاکٹر مشرا کو فراموش کرکے نئے حاکم کا گُن گاتے رہے ۔اسرارؔ جامعی نے ہوشیاری سے اپنا نام بھجوادیا اور جاکر پڑھنا شروع کردیا۔ 

ڈاکٹر مشرا کی آنکھوں میں جو رقصاں خواب تھے 
بس انھیں خوابوں کی ایک تعبیر ہے اُردو بھون 

انھیں گھسیٹ کر ڈائس سے اتارا جانے لگا مگر وہ دونوں ہاتھ سے مائک پکڑ ے مقطع سُنا کر خود ہی اترے۔یہ واقعہ ملک کے اخبارات میں یواین آئی کے ذریعے جگہ پاگیا۔سنا یہ بھی گیا کہ اس کے بعد بہار میں انھیں سرکاری پروگراموں میں بلیک لسٹڈ کر دیا گیا ۔یہ ایسے ہی حق گو ہیں ۔ایمرجنسی کے دوران ایمر جنسی کے خلاف لکھتے رہے ۔وہ ایک لفظ یا حرف کو اِدھر سےُ ادھر کر کے کسی بھی شاعر کے شعر کے معنی اور حلیہ دونوں بدل سکتے ہیں ۔

اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ 
رستے میں خواہ دوست کہ دشمن کا گھر ملے (کلیم عاجزؔ )
اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو ’’کلیم ‘‘ 
رستے میں خواہ دوست کہ دشمن کا گھر ملے
بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزہ دے ہے
غزل کم بخت کچھ ’’ایسی‘‘ پڑھے ہے دل ہلا دے ہے (کلیم عاجزؔ )
بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزہ دے ہے
غزل کم بخت کچھ ’’ایسے‘‘ پڑھے ہے دل ہلا دے ہے
ان اشعار میں دیکھئے کس خوبصورتی سے انھوں نے کام لیتے ہوئے زرا سی ردّوبدل سے اپنی ذہانت اور شعر گو ئی کا کمال دکھایا ہے۔

بنائی بابری مسجد جہاں پر’’ میر باقی‘‘نے
وہاں اب ’’جابری مندر ‘‘ پئے انعام باقی ہے 
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چائے بنی ہوتی ہے
بانٹنے آرہے ہیں وہ راشن 
آج ہی گھر میں ’’بوریا‘‘ نہ ہوا
سبق پڑھ لے شرارت کا خباثت کارذالت کا 
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا میں سیاست کا 
ہم جھانک بھی لیتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام 
وہ جھونک بھی دیتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہم سب سکھا رہے ہیں آپس میں بیر رکھنا 
’’ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا‘‘
غالب ؔ ہمیشہ جھوٹ یہی بولتے رہے 
’’کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے‘‘
شاعرِ اعظم میں ان کی نظموں سے زیادہ اسرارؔ جامعی کے بارے میں پڑھنا اور انھیں جاننا اچھا لگتا ہے۔انھوں نے پروفیسر حفیظ ؔ بنارسی تک کو نہیں بخشا۔ انھوں نے شائد کہہ دیا تھاکہ واہی ؔ صاحب نے آپ کو بے وقوف بنایا ہے ،آپ کومرہم برائے داد اور زہر باد کیوں کہہ دیا ہے۔ اس پر اسرارؔ جامعی نے قیوم خضرؔ اورحفیظ ؔ صاحب کا اس طرح جواب دیا۔

دینائے ہیں جو خضر ؔ تو کھجلی حفیظؔ ہیں
مرہم برائے داد ہیں اسرارؔ جامعی 
یہی نہیں انھوں نے ایک پوری نظم’’ الامان و الحفیظ ‘‘ کی ردیف کے ساتھ کہہ دی۔
محفل شعر و سُخن میں بھیڑ قوالوں کی ہے 
اُف یہ اردو کا مقدر الامان و الحفیظ
مشتری بائی کی دھُن میں جیسے ہی چھیڑیں غزل 
ڈر کے بھاگیں بیگم اختر الامان و الحفیظ

احمد جمال پاشا کے اس مضمون میں جو ماہنامہ شگوفہ حیدرآباد میں جولائی ۱۹۷۷ ء میں شائع ہوا تھا اسرارؔ جامعی کے اسی قسم کے بے شمار ادبی معرکوں کا تذکرہ ہے ۔جہاں’’ حفیظ ان کو ‘‘ سے ’’حفیظن ‘‘کا رشتہ جوڑ کر شعر کی’’ چٹنی‘‘ بنا دی گئی ہے۔ یا پھر’’ ہم ظلف کے سائے میں ‘‘ کے ’’ہم ظُلف ‘‘ کا رشتہ سالی سے جوڑ کر کیا مزہ پیدا کردیا گیا ہے۔ آج کی ساری جگہ تو اسرارؔ جامعی کی شخصیت ہی لے گئی ہم ان کے کلام تک اب پہنچے ہیں ۔وہ کلام آپ اکثر سنتے ہی رہے ہیں۔ پھر بھی چند ایک نظموں کا نرالا انداز دیکھتے چلئے۔
اردو کے ایوان گئے ہم 
لے کر کچھ ارمان گئے ہم 
دیکھتے ہی قربان گئے ہم 
’’بزنس‘‘ کرنا جان گئے ہم (دلّی درشن)
خودی بھی ہوگئی بدّھو میاں کی گھر والی 
سبھی ہیں اس کے میاں ! ہائے ہائے یا اللہ (ہائے ہائے یا اللہ)
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے مال و دولت کا 
’’نکاحِ ‘‘مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں (تلک)
بانس پر چڑھنا اترنا جس طرح کا کام ہے 
یہ غزل پیمائی بھی ویسا ہی شغل اسرارؔ ہے (غزل پیمائی)
جنتا کا خون بیچئے پیسے کمائیے
کیوں شکوہ ہائے گردش ایّام کیجئے (کامیابی کا نُسخہ)
قانون کالا آیا ٹاڈا میں بند کرادو 
سرکار نے بنایا ٹاڈا میں بند کرادو 
گر مونچھوں والا کوئی پکڑائے تو نہ پکڑو
گر داڑھی والا آیا ٹاڈا میں بند کرادو (ٹاڈا میں بند کرادو)
لب پہ آتی ہے دعا بن کے یہ چاہت میری 
زندگی قاب کے چمچوں کی ہو صورت میری (چمچے کی دعا)
نکلے گی قوم میرے شکنجے سے کس طرح
دنیا ہے دائیں ہاتھ میں بائیں میں دین ہے (سیاسی مولوی)

شاعرِ اعظم اسرارؔ جامعی جو نہایت منحنی سے ہیں ۔خود کو لئے دیے رہتے ہیں ۔نہایت انکساری کے ساتھ ملتے ہیں ۔ہم نے غور کیا کہ پھر ان کے اندر یہ سب کہنے کی طاقت کہاں سے آتی رہی ہے۔ اس کا جواب ان کی ہی ایک نظم اسمِ اعظم میں ملتا ہے۔ آپ اس شعر میں ’’بھیجا ‘‘ کا مزہ بھی لیجئے گا ۔ہمارے وقت کے اس بزرگ اور عظیم شاعر کا فائدہ اٹھائیے کہ اب ایسے شاعر کم ہوتے جارہے ہیں کہ شاعرِ اعظم ہونے کے ساتھ جن کا اسم اعظم سے رشتہ مضبوط بھی ہو۔ 

اسمِ اعظم کی رٹ لگاتا ہوں 
بھیجا اللہ کا میں کھاتا ہوں
بشکریہ روزنامہ  ہمارا سماج دہلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔