حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

جمعہ, ستمبر 19, 2014

ایک کمزور وزیراعظم


کلدیپ نیر کا کالم -----:
’’میں نے اپنی ڈیوٹی کی‘‘ یہ ہے سابق وزیر اعظم کا اس الزام سے دفاع کہ موبائل (2 جی اسپیکٹرم) اور کوئلے کی کانوں کی فروخت میں ہونے والی چشم کشا کرپشن کے بارے میں وہ بخوبی آگاہ تھے لیکن انھوں نے ان سودوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ یہ بات کہ وہ بذات خود ایسے کسی کام میں ملوث نہیں تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی ناک کے عین نیچے کرپشن ہو رہی ہو اور وہ آنکھیں بند کیے رکھیں۔

سابقہ کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل ونود رائے کی رپورٹ اسقدر نقصان پہنچانے والی ہے کہ سابقہ وزیر اعظم کو لازماً اپنا موقف بیان کرنا چاہیے، بشرطیکہ وہ کوئی قابل قبول موقف رکھتے ہوں کیونکہ ان کی ساکھ بچانے کا بس یہی ایک راستہ ہے۔ یہ دلیل کافی نہیں کہ انھوں نے ذاتی طور پر کوئی دولت نہیں کمائی یا یہ کہ وہ کسی معاملے میں براہ راست ملوث نہیں تھے۔
انھیں اپنا دفاع پیش کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایسے اسکینڈل تھے جو مہینوں چلتے رہے جس سے ان پر ملوث ہونے کا شبہ خارج از امکان نہیں اور یہ سارے کرپشن کے سودے سب کو نظر آ رہے تھے لیکن اس کے باوجود بھی موصوف نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ آخر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جو وہ کر رہے تھے وہ ان کی ڈیوٹی تھی۔ کم از کم انھیں اس وقت تو کوئی کارروائی کرنی چاہیے تھی جب سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے اس اسکینڈل کی الف سے ے تک رپورٹ تیار کر کے پی ایم آفس میں بھجوا دی تھی۔

ان کا یہ بیان کہ ’’میں اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا‘‘ ایسا بیان ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں۔ جو لوگ ان کرپٹ سودوں کے ذمے دار تھے وہ خاصے طویل عرصے تک یہ بددیانتی کرتے رہے اور کسی نے ان کو نہ روکا۔ اول تو جب پی ایم آفس کو ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی تھی تو انھیں اسی وقت حرکت میں آ جانا چاہیے تھا: لیکن ان کی طرف سے کوئی ایکشن نہ لیا جانا بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے جن کا جواب دیا جانا چاہیے۔ محض خاموشی کو جواب نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی اس سے الزامات کی سنگینی میں کوئی تخفیف ہو سکتی ہے۔

یہ بات صاف ہے کہ انھیں سارا علم تھا مگر انھوں نے سیاسی مصلحتوں کی بنا پر خاموش رہنا مناسب خیال کیا۔ اور اگر اسی بات کو زیادہ واضح الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ یوں ہوں گے کہ موصوف ہر قیمت پر کرسی سے چمٹے رہنا چاہتے تھے۔
اور یہ بات کم و بیش ثابت ہو چکی ہے کہ وہ محض سامنے والے آدمی تھے جب کہ مال کمانے والے وہ عناصر تھے جن کو ’’10 جن پتھ‘‘ کی عرفیت سے یاد کیا جاتا ہے جو کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ کا نام ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزیر اعظم بدعنوانی کے سودوں پر اپنی نظریں چرا لیتے۔ ان پر کوئی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا رہا لیکن یہ تو ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ پر بے بس نظر آتے تھے۔
انھوں نے اکثر کہا ہے کہ ان کی کارکردگی کا فیصلہ وقت کرے گا اور آج ان کے خلاف جو الزام لگائے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ثابت ہو جائیں گے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ تین چار عشروں کے بعد عوام کا ان کے بارے میں کیا تاثر ہو گا البتہ ان کے بارے میں کمزور وزیر اعظم ہونے کا الزام یقیناً باقی رہے گا۔

لیکن اگر حالات کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے جیسے کہ وہ ہیں تو یہ قوم کے لیے ناانصافی ہو گی۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی جھگڑوں کے باعث ابھی تک کوئی لوک پال (محتسب) مقرر نہیں کیا گیا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسکینڈلوں کی تہہ تک پہنچنے کی کوئی کوشش ہی نہ کی جائے اور اس اصل مجرم کی نشاندہی نہ کی جائے۔ اور اگر یہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نہیں تھے تو پھر کون تھا جو اس قدر وسیع پیمانے پر ہونے والی کرپشن کو دیکھ رہا تھا۔ وزیر اعظم کا دفتر بھلے اس بھاری کرپشن کا ذمے دار نہ ہو لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انھیں اس کا علم ہی نہ تھا، چہ جائیکہ وہ اسے روکنے کی کوشش کرتے۔

یہ حقیقت کہ کرپشن کے سودے کیے گئے اور اگر یہ ساری بات کھول کر عوام کے سامنے بیان نہ کی گئی تو یہ بہت بددیانتی ہو گی۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ اصل ذمے دار کو تلاش کیا جائے کیونکہ کسی نے تو ان سودوں کی اجازت دی ہو گی اور کسی نے تو نگرانی کی ہو گی۔ سی بی آئی کو یہ ذمے داری سونپی جا سکتی ہے بیشک کہ اس پر بھی سیاسی دبائو ہو سکتا ہے جو کہ مطلوبہ حلقوں کی طرف سے ڈالا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی بہت دکھ کی ہے کہ بیورو کریسی کے اعلیٰ حکام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ اصل میں تو سیاستدان خود اس کرپشن میں ملوث ہیں۔
اگر حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ بہت کمزور تھے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ کرپشن کا اسکینڈل بنا ہی نہیں اور سیاستدانوں اور نوکرشاہی کے افسروں نے مال نہیں بنایا۔ اب حکومت میں ایک تبدیلی آئی ہے وزیر اعظم نریندر مودی بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ نظام کو صاف کریں گے تو اب تک کوئی کارروائی تو شروع ہو جانی چاہیے تھی۔ سرکاری ملازمین کو وقت پر دفتر آنے کی تلقین اچھی بات ہے لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قوم کی دولت ناجائز ذرایع سے لوٹنے والوں کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے کیونکہ لوگ جس تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں وہ یہی ہو گی۔
اگرچہ براہ راست کوئی ثبوت موجود نہیں مگر عام تاثر یہی ہے کہ ’’10 جن پتھ‘‘ ہی مرکزی کردار ہے۔ اس حوالے سے جو کتابیں شایع ہوئی ہیں ان میں پس پردہ چلنے والی ساری کہانی کو کھول دیا ہے لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ کوئی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر کے عوام کو بتایا جائے کہ قومی خزانے کی اس بے دریغ لوٹ مار میں کون سے سیاستدان اور بیورو کریٹ شریک تھے۔ دوسری جانب سونیا گاندھی، جن پر براہ راست کوئی ذمے داری نہیں تھی، لیکن انتظامیہ کو وہی چلاتی تھیں۔ خفیہ فائلیں ان کے پاس جایا کرتی تھیں اور یہ الزام چونکہ برسرعام عاید کیا جاتا تھا مگر موصوفہ کی طرف سے یا منموہن سنگھ کی حکومت کی طرف سے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
آڈیٹر جنرل نے جو انٹرویو دیا ہے وہ ان کی رپورٹ سے بھی زیادہ تباہ کن ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم منموہن سنگھ سے ذاتی طور پر ملے تھے اور ان کو زبانی طور پر کئی باتیں بتائی تھیں مگر ان پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ منموہن سنگھ نے کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا سوائے اس کے کہ وہ ہر قیمت پر وزارت عظمیٰ کے منصب سے چمٹے رہنا چاہتے تھے اور چونکہ انھیں اس منصب پر متمکن رکھنے کا تمام تر اختیار سونیا گاندھی کے ہاتھ تھا اور منموہن سنگھ کے لیے یہ کرسی اتنی اہم تھی کہ انھوں نے عوام میں اپنے تاثر کے خراب ہو جانے کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی۔

بشکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘
 کالم نگار  ہندوستان کے سینئر صحافی ہیں 

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔