حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

اتوار، 5 اکتوبر، 2014

ملک اخلاقیات کی چلتی پھرتی پاٹھ شالا میں تبدیل ہو چکا ہے



تحریر:ـ این ڈی ٹی وی کے سینئر اینکر رویش کمار  کی ہے
*******


آج کل بہت سے لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ اخلاقی تعلیم کی سخت کمی ہے اور اسی کمی کی وجہ سے ہی سماج اور سسٹم میں بحران پیدا ہو گیا ہے. بنیادی طور پر اس بات کو تسلیم کرنے میں کسی کو دقت نہیں ہو سکتی ہے.مگر یہی ایک وجہ ہے اس سے تو دقت ہونی ہی چاہئے. اخلاقیات کا سنہری دور کب تھا کوئی نہیں جانتا. تحریری دستاویزات کی تاریخ کو دیکھیں گے تو اخلاقیات کی ایک سے ایک باتیں ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ غیر اخلاقی باتیں بھی ہیں . اسا تذہ کے قومی دن سے لے کر گاندھی جینتی اور اس کے اگلے دن کے خطابات میں کہی گئی باتوں سے کیوں کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے. بذریعہ ابلاغ براست رابطہ سب سے ہو سیاست اور معاشرے کے لئے یہی سب سے بہتر ذریعہ ہے. اسے کرنے والے نے پہلے سے زیادہ بڑی سطح پر کیا تو وہ مبارک باد کا مستحق ہے. کم از کم جو سامنے آئے گا اسی کی توآزمائش ہوگی . صرف براہ راست بات چیت میں آمنے سامنے سوال جواب نہیں ہوتے. تمام طرح کے حوالے غائب ہو جاتے ہیں. اچھی باتوں سے باتیں بھر جاتی ہیں. لیکن یہ کہنا کہ اس سے اخلاقیات کی تلافی ہو رہی ہے کیونکہ معاشرے میں اس کی سخت کمی ہے ہم کچھ مزید جذباتی اور غیر منطقی ہو رہے ہیں.

نظام میں بحران صرف اخلاقی بحران کی وجہ سے ہی نہیں آتا ہے. ہم سب جانتے ہیں کہ اس کے کئی اسباب ہیں. اگر کوئی نظام استحصال، نا انصافی پر مبنی ہو وہاں اخلاق بے معنی ہو جاتا ہے. عدالتوں میں سالوں تک فیصلے تعطل کا شکار ہوتے ہیں. حکومتیں سنتی نہیں . لیڈر ملتے نہیں ہیں. اخلاقیات کا بحران تب اور گہرا ہو جاتا ہے جب پورے نظام کا بھی وہی حال ہو جائے ، آج سفر کرنے کے لئے لاکھوں لوگوں کو ٹرین کے ٹکٹ نہیں مل رہے ہیں. مہنگا ئی الگ سے ہے ۔ نقل و حمل کے نظام پر اتنا دباؤ ہے کہ لوگ جگاڑ( غیر قانونی کام ) کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. کیا یہ صرف اخلاقیات کا بحران ہے کسی کو ہسپتال میں ڈاکٹر سے وقت نہیں مل رہا ہے تو کسی کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے بہتر اسکول نہیں ملتا. اسی دہلی میں تیس سے چالیس لاکھ لوگ جھگیوں یا مزدور بستیوں میں رہتے ہیں. وہاں جاکر دیکھئے پانی سے لے کر بجلی اور بنیادی ڈھانچے کا کیا حال ہے. کیا یہ سب اخلاقیات کی کمی کی وجہ سے ہے. نظام فیل ہوتا ہے تو اس کی وجہ وہیں تلاش کرنا چاہئے نہ کہ پنچ تنتر اور جاتک کہا نیوں میں. ایسی کہا نیوں کا وسیع تر اخلاقی اثر نہیں ہوتا ہے. سبھی کو معلوم ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے، ہمیشہ ایما نداری کا ساتھ دینا چاہئے، ہر اسکول میں ٹیچر پڑھاتے ہی ہیں کہ یہاں وہاں نہیں تھوکنا چاہئے. بہت سے لوگ اس پر عمل بھی کرتے ہیں ہم روزانہ اسی طرح کی جدوجہد کرتے ہوئے ایسے سمجھوتے( غیر اخلاقی کام ) کر جاتے ہیں جنہیں اخلاقیات کے نام پر آپ خود کو مجرم تو قرار دے سکتے ہیں مگر اس کی جڑیں دراصل مورل سائنس کے کلاس میں نہیں ہوتی وہ نظام کیے ناکامی میں ہوتی ہیں
.
ٹرک سے لے کر ٹیمپو تک اور جگہ جگہ بیٹھے تمام طرح کے بابا اوردرس دینے والے لاکھوں لوگ روز اخلاقی پیغامات کو پڑھ رہے ہیں. اس ملک میں روز اتنی بھاگوت کہانیاں ہوتی ہیں اگر انہیں کا اثر ہوتا تو اخلاقیات کی کمی کا کوئی رونا نہیں روتا اور اس کمی کو دور کرنے کے لئے کسی منتظم کو اپنے قیمتی وقت خرچ نہیں کرنا پڑتا. آپ مذہبی ٹی وی چینلس ہی کودیکھ لیجیے .

 بہترین قصوں اور حوالوں کے سہارے پیغام دیے جارہے ہیں. ہزاروں کی تعداد میں لوگ بیٹھے ہیں اور توجہ سے سن رہے ہیں. آپ کے شہر میں ایسے سندیش دینے والوں کی ہورڈ نگس لگی مل جائیں گی. ہم یہ نہیں مان سکتے کہ لوگ رامائن اور مہابھارت کی کہانیاں بھول گے ہیں. یہ کہانیاں اخلاقی تعلیم بھی دیتی ہیں. اگر رامائن کا بہترین درس دینے والا اور توجہ سے سننے والے سامعین یا نآظرین نظام میں کسی طرح کی گڑبڑی پھیلاتے ہیں تو پھر اس کی شکایت آپ رامائن سے کریں گے یا نظام سے. ملک بہت پہلے سے ہی اخلاقیات کی چلتی پھرتی پاٹھ شالاو میں تبدیل ہو چکا ہے.

اخلاقی تعلیم کے نام پر لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کیاجا رہا ہے.کہا جار ہا ہے جو کچھ بھی ہے لوگوں میں اخلاقیات کی کمی وجہ سے ہی ہے. حکومت کی وجہ سے کچھ بھی نہیں. ایک دن یہ بھی کہا جائے گا کہ پارلیمنٹ میں مجرمانہ معاملات میں پھنسے امیدوار ہیں وہ آپ عوام کی وجہ ہیں. ایک حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ آخر عوام کیوں ایسے لوگوں کو منتخب کرتی ہے پھر کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ اخلاقیات کا درس پڑھانے والے لیڈر یا پارٹیاں ایسے لوگوں کو ٹکٹ کیوں دیتی ہیں. مجرمانہ رجحان کے رہنماؤں کے ساتھ اسٹیج شیئر کیجئے اور پھراخلاقیات کا پیغام دیجئے بات ہضم نہیں ہوتی ہے. بالآخر آپ کوایک نظم قائم کرنا ہوتا ہے اور بتانا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ نظام بنایا اور آپ کی شرکت ہی اس کی کامیابی ہے. صفائی کو لے کر بہت ہی اچھا پیغام گیا ہے.

اس سے قبل اسی طرح کی ایک کوشش راجیو گاندھی بھی میرا بھارت مہان ٹائم پروگرام میں کر چکے ہیں. ایک کمپنی کے بانی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ملازمین کو بلا کر گھنٹوں اخلاقی تعلیم دیتے تھے. آج وہ جیل میں ہیں. پریم چند نے آزادی سے پہلے نمک کا داروغہ کہانی لکھی تھی. جس میں ایک باپ اپنے بیٹے کو رشوت لینے کے لئے ترغیب دیتاہے . گاندھی جی نے آزادی کے پہلے ہی پریس (میڈیا) کے بارے میں کہا تھا کہ یہ اخبار بیچنے کے لئے کچھ بھی چھاپ سکتے ہیں. گاندھی جی نے 1916 میں اس وقت کی ممبئی کے بارے میں لکھا تھا کہ لوگ اپنی چھتوں سے نیچے کوڑا پھینک دیتے ہیں. جس دور کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اخلاقیات کا زریں دور تھا یہ سب اسی دور کی باتیں ہیں اور اسی دور میں گاندھی جی کا قتل بھی ہوتا ہے. فسادات بھی ہوتے ہیں اور لاکھوں لوگ مارے بھی جاتے ہیں. کیا یہ سب اخلاقیات کی کمی سے ہوا. پھر ہم سیاست اور اقتصادی پالیسی کے بحران کو کس پیمانے سے سمجھیں گے.

اخلاقیات کے نام پر سماج کو عسکریت پسند نہیں ہونا چاہئے. یہ وہی تصور ہے کہ ملک کے ہر شہری کو فوج کی تربیت دی جانی چاہئے یا سب کو ملک کی خدمت کے لئے فوج میں دو سال کام کرنا چاہئے. یہ ایک خطرناک تصور ہے. جمہوریت کو عسکریت پسند بنایاجا رہا ہے. اگر کوئی اتنا ہی اخلاقی ہے تو اپنے ملزم ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور وزراء4 کو پارٹی اور حکومت سے معطل کر دے. پھراخلاقیات کی یہ تبلیغ موثر ہوگی یہ بھی تو ایک اخلاقی پہلوہے. اچانک یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ صرف حکومت نہیں کر سکتی. تو پھر انتخاب صرف حکومت کے لئے ہی کیوں ہو،. عوام کے لئے بھی کیوں نہ ہو. اس ملک میں کروڑوں افسر، ملازم، کئی ہزار ممبر اسمبلی، ہزار سے کچھ کم ایم پی کس لئے ہیں. نظام کا یہ ڈھانچہ کس لئے ہیں. کس لئے ہم اپنی کمائی سے ٹیکس دیتے ہیں.

ایسی ہی دلیل دے کر حکومت نے جب پلہ جھاڑا تو غیر سرکاری تنظیمیں این جی اوز منظر عام پر نمو دار ہوئیں . آج ملک بھر میں لاکھوں این جی اوز ہیں. اب کہتے ہیں ان سے بھی کچھ نہیں ہوا. پہلے تو ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ کچھ نہیں ہوا یہ ایک سیاسی تصور ہے. اس ملک میں بہت کچھ ہوا ہے. اگر وہ نہ ہوا ہوتا تو آپ آج ان مسائل کی بات نہیں کر پاتے، وسائل نہیں اکٹھا کر پاتے. کچھ نہیں ہوا ہوتا تو چندریان نہ گیا ہوتا، منگل یان نہ گیا ہوتا، اس سے پہلے کوئی راکیش شرما خلا میں نہیں گئے ہوتے . کھیل سے لے کر سائنس تک میں ہندوستان نے کامیابی حاصل نہ کی ہوتی. ان ساٹھ سالوں میں ہم نے حاصل کیا ہے. حاصل کرنے کی بھوک ہمیشہ ہونا چاہئے. نیا حاصل کرنے کی ضد ہونی چاہئے اور اس ضد کا ساتھ بھی دیا جانا چاہئے لیکن آخر آپ ذمہ دار کسے ٹھیرائیں گے یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہئے.

سبھی کو صفائی میں تعاون دینا چاہئے لیکن دہلی شہر کو ہی پچاس ہزار صفائی ملازمین کی ضرورت ہے. اس کا نظم کون کرے گا. صفائی کے کام میں لگے لوگوں کو پانی تک نہیں دیتے، دہلی میں ایک ذات کی سرکاری کالونی ہے جہاں ہمارے وزیر اعظم گئے تھے. کیوں اس شہر میں بالمیکی بستی ہونی چاہئے. یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے. اسی طرح سے بھارت کے بے شمار شہروں کی بھی ضرورت ہے. 100 ا سمارٹ سٹی بنا یا جائے گا مگر جو پہلے سے شہر ہیں کیا وہاں کوئی صفائی کانظم قائم ہو سکے گا. ابھی واضح نہیں ہے. اگر یہ ہوتا ہے تو ضرور بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے. اس نظام کو بنانے میں لوگوں کو حکومت کو چندہ بھی دینا چاہئے تاکہ سبھی کے تعاون سے کوئی نظام ہو جائے اور اس کے برقرار رکھنے کی ذمہ داری حکومت کی ہو. اس لئے اخلاقیات کی رٹ لگانے پرہیز کیجیے۔
 . 
نظم کی بہتری کے سوالوں کو اٹھائیے اور سیاست سے اوپر اٹھ کر ان سے ٹکرلیجیے . یہ نہیں ہو سکتا کہ سیاسی جماعتیں اپنے پیسے کا ذریعہ نہ بتائیں، لاکھوں روپے کی گاڑیوں میں ممبر اسمبلی چلیں اور کوئی ایک اخلاقی پیغام دے کہ ہم مل کر کوشش کریں تو ہندوستان ایسے سے ویسے ہو سکتا ہے. ہندوستان بہت اور بہت کچھ ہوگا. یہ کمال کا ملک ہے. میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ یہ کوشش بیکار ہے، لیکن بغیر نظام کے بیکار ہی ہو جائے گی۔ اخلاقیات کا پیغام ایمانداری کا پیغام دینے سے پہونچتا ہے . سبھی کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ اس پیمانے پر کھرا اترتے ہیں. سب سے پہلے لیڈر کو دیکھنا ہوگا کیونکہ آگے وہی چلتا ہے. لوگ اسی کے پیچھے چلتے ہیں.

رویش کمار کے بلاگ سے

http://www.naisadak.org/sandesh-pradhan-desh/

 ہندی سے ترجمہ وتدوین
اشرف علی بستوی

1 تبصرہ کریں:

Unknown نے لکھا ہے کہ

ہیلو، میں مسٹر جوناتھن البرٹ ماک، ایک نجی قرض قرض خواہ کو جو زندگی وقت موقع قرضے دیتا ہوں. آپ اپنے قرض کو صاف کرنے کے لئے ایک فوری قرض کی ضرورت ہے، یا آپ کو آپ کے کاروبار کے لئے ایک سرمایہ قرض کی ضرورت ہے؟ آپ کو بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے؟ ایک سمیکن قرض یا رہن کی ضرورت ہے؟ ہم آپ کے تمام مالی مشکلات ماضی کی بات بنانے کے لئے یہاں ہیں کے طور پر کوئی زیادہ تلاش،. ہم ایک بری کریڈٹ ہے یا 2 فیصد کی رقم میں کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے، بل ادا کرنے کے لئے پیسے کی ضرورت ہے کہ مالی امداد کی ضرورت میں افراد، سے فنڈز قرض. میرے خیال میں ہم قابل اعتماد اور فائدہ اٹھانے والوں میں مدد فراہم اور قرض کی پیشکش کرے گا کہ آپ کو مطلع کرنے کے لئے اس میڈیم استعمال کرنا چاہتے ہیں. jonathanalbertmak@gmail.com: آپ کا شکریہ، ہم سے رابطہ کریں آج
jonathanalbert88@outlook.com

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔