حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

اتوار، 28 جون، 2015

سارا ملک حیرت زدہ ہے کہ نریندر مودی جیسے منه پھٹ آدمی کی بولتی بند کیسے ہو گئی؟


سارا ملک حیرت زدہ ہے کہ نریندر مودی جیسے منه پھٹ آدمی کی بولتی بند کیسے ہو گئی؟
وقت اشاعت: Sunday 28 June 2015 11:27 am IST

تحریر وید پرتاپ ویدک کی ہے
نریندر مودی کے خاموشی کی دہاڑ پورا ملک سن رہا ہے۔ آج پورا ملک حیرت زدہ ہے اور بس سن رہا ہے، لیکن وہ اپنا منہ کب تک بند رکھے گا؟ جب ملک بولنے لگے گا تو حکومت اور لیڈروں کی آواز کہاں ڈوب جائے گی، پتہ بھی نہیں چلے گا۔ پہلا معاملہ سشما سوراج کا ہی تھا۔ پھر آیا، وسندھرا راجے کا اور اب آ گئے ہیں، اسمرتی ایرانی  اور پنكجا منڈے  کے معاملے بھی! کچھ اور معاملے بھی ہیں، لیکن اب وہ سامنے نہیں آئے ہیں۔ بس، جھروكھو سے جھانک رہے ہیں۔۔

وزیر اعظم نریندرمودی نے ہم وطنوں سے کی 'من کی بات'، کہا ، ہلکی پھلکی باتیں کرنے میں مزہ آتا ہے
وقت اشاعت: Sunday 28 June 2015 08:10 pm IST

نئی دہلی :  (ایشیا ٹائمز) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج 'من کی بات' پروگرام کے تحت ہم وطنوں سے خطاب کیا. انہوں نے کہا کہ، 'کیوں نہ اس بار ركشابندھن کے مقدس تہوار کو ہم جن آندولن میں تبدیل کریں. ہم بہنوں کو 12 روپے والی یا 330 روپے والی جن سركشا انشورنس کی منصوبہ بندی کا تحفہ دیں. بھلے ہی یہ بہنیں گھروں میں کھانا پکانے والی ہوں، اجرت کرنے والی یا ہمارے خاندان کی. '

بہار: اسکول کے دوا سٹوڈنٹ کی لاش ملی، ناراض لوگوں نے ڈائریکٹر کی آنکھ نکالی
وقت اشاعت: Sunday 28 June 2015 08:26 pm IST

Minorities can self-attest community certificates to get benefits of govt schemes
وقت اشاعت: Monday 29 June 2015 01:59 am IST

Minorities can self-attest community certificates to get benefits of govt schemes
New Delhi: People belonging to minority communities will no longer have to secure certificates from officials to avail of benefits of welfare schemes, with the government making it clear that self-attestation was enough. “In this context, it is informed that minority certificate is not mandatory for getting the benefits of welfare schemes being implemented by the ministry,” the Ministry of Minority Affairs has said in a recent communication to the states. The govt has notified 6 communities as minorities — Muslims, Christians, S

کیرل کے ایک مسلم گرل کالج نے چست جینز، چھوٹے ٹاپ اور لیگی پہننے پر پابندی لگانے کی پہل کی
وقت اشاعت: Monday 29 June 2015 01:42 am IST

کیرل : کیرل کے ایک مسلم گرل کالج نے چست جینز، چھوٹے ٹاپ اور لیگی پہننے پر پابندی لگاتے ہوئے طالبات کے لئے اس تعلیمی سیشن سے يوني فارم طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مسلم طالبات 'نقاب' پہن سکتی ہیں۔
میڈیا کے مطابق کوزی كوڈ کے ناڈاكوو واقع کالج میں ڈریس کوڈ کا آغاز آٹھ جولائی کو ہوگا جب تعلیمی سیشن شروع ہو جائے گا اور پہلے سال کی طالبات کی كل لج میں آمد ہوگی۔ اس کالج کا آپریشنل مسلم ایجوکیشن

و سیانا کے گورنر بابی جندل ہم جنس پرستوں کے شادی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ؛ کہا '' ایک مرد اور عورت کے درمیان شادی خدا نے قائم کیا ہے اور دنیا کی کوئی بھی عدالت اسے تبدیل نہیں سکتی. ''
وقت اشاعت: Monday 29 June 2015 01:26 am IST

واشنگٹن :  نیوز ویب سائٹ دی ایڈوکیٹ ڈاٹ کام  کے مطابق لوسيانا کے ہند نزاد امریکی گورنر بابی جندل نے ہم جنس پرستوں کے شادی کو قانونا تسلیم کرنے اور صحت کی خدمت قانون برقرار رکھنے سے متعلق دو تاریخی فیصلوں کے لئے امریکی سپریم کورٹ کی تنقید کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل ادارے سے 'نجات' حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

اڈوانی کا مودی حکومت پر بالواسطہ حملہ، کہا میں نے حوالہ گھپلہ کے بعد استعفی دے دیا تھا
وقت اشاعت: Monday 29 June 2015 01:11 am IST

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز) سشما سوراج اور وسندھرا راجے کو لے کر تنازعہ کے پیش نظر مودی حکومت پر بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے  بالواسطہ طورپر تنقید کی ہے ۔  انہوں نے کہا ہے کہ عوامی زندگی میں سنجیدگی کو قائم رکھنے کی ضرورت ہے اور انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح حوالہ گھپلہ میں اپنا نام آنے کے فورا بعد انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔

مکمل تحریر >>

پیر، 16 مارچ، 2015

سنجیو صراف جی! آپکی اردو دوستی قابل تقلید توہے مگرخدارا اردو سے اس کا لباس (رسم الخط ) نہ چھینیں


ابو انس کی رپورٹ
نئی دہلی : ( ایشیا ٹائمز) آج دوسرے روز ہم نے ریختہ کی جانب سے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں  منعقد  جشن اردو  کی رنگا رنگ  تقریب مییں شرکت کی لیکن  سبھی مقامات  پر منعقد  پروگراموں میں اردو رسم الخظ دیکھنے کو  آنکھیں ترس گئیں سوائے شاعری کے اس بک لیٹ کے جو  سو اشعار کا مجموعہ تھا  استقبالیہ  پر دستیاب تھا  اس  کے علاوہ  کہیں دور دور تک اردو "اردو" میں نظر نہیں آ رہی تھی  جسے دیکھ کر کافی تشویش ہوئی ۔

سامنے ہی چند قدم کی دوری پر  پروگرام کے روح رواں ہندوستان میں اپنی بے پناہ اردو دوستی کے لیے اردو حلقوں میں مقبول و معروف  سنجیو  صراف جی نظر آگئے  ہم نے اپنے ایک سینئر  جرنلسٹ ساتھی کے ساتھ  آگے بڑھ کر ان سے  ملکر اس کی وجہ جا ننے کی کو شش کی جواب ملا" یہ اردو کا جشن ہے  بھائی" ۔ ہم نے کہا  جناب یہ کیسی اردو دوستی ہے کہ اس زبان سے رسم الخط (لباس) ہی چھین لیا جائے یہ سن کر وہ آگے بڑھ گئے ۔

ہمارا مقصد سنجیو صراف جی  کی  گراں قدر کوششوں کو بے مقصد  ہدف تنقید  بنانا ہر گز نہیں ہے بلکہ اسے صحیح رخ دینا ہے  ۔  اور  یہ ہونا چاہیے  جہاں کہیں جو اچھا ہو اس کی پذیرائی کی جائے لیکن ، جو نا مناسب لگے اس کی نشان دہی بھی ہونی چاہیے صرف اس لیے کہ وہ کوئی غیر اردو داں کر رہا ہے تو درگذر کر دینا درست نہیں قرار دیا جا سکتا ۔

ہمارے  درمیان  بھی  اردو کے ایسے  ادارے ہیں جو طویل عرصے سے 'بھون ' سے اردو کا فروغ کر ہے ہیں انہیں ایک عدد اردو نام دستیاب  نہیں  ہے ہم نے انہیں  بھی ماضی  میں  متوجہ کر نے کام  کیا  ہے نیز جہاں کہیں بھی کچھ نظر آئے ہمیں متوجہ کرنا چاہیے  یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے جو کچھ اچھا ہو اس کی تعریف و پذیرائی  ضروری ہے مگر آنکھ بند کر لینا  قطعی درست نہیں ہے ۔


مکمل تحریر >>

اتوار، 1 مارچ، 2015

ہفنگٹن پوسٹ کی خبر ؛ یوروپی ملک آ سٹریا کی پارلیامنٹ میں مساجد کی تعمیر اور اماموں کی تنخواہوں کے لیے غیر ملکی عطیات جمع کرنے پر روک والا قانون پاس


ایشیا ٹائمز نیوز لیٹر

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں پھر کمی
نیپال میں جنگی جرائم کے مرتکبین کو عام معافی کا اعلان
جموں کشمیر کے نئے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے حلف لیا ؛کہا پاکستان کے تعاون کے بغیر کشمیر میں انتخابات ممکن نہیں تھے
ہفنگٹن پوسٹ کی خبر ؛ یوروپی ملک آ سٹریا کی پارلیامنٹ میں مساجد کی تعمیر اور اماموں کی تنخواہوں کے لیے غیر ملکی عطیات جمع کرنے پر روک والا قانون پاس

Mufti Sayeed takes oath as CM of PDP-BJP govt in J-K, PM Modi, Advani, Joshi attend ceremony
کارٹونسٹ ۔۔۔۔۔ رجنی کانت مشرا
امریکہ : ٹیکساس میں زبر دست برف باری
مصر کی ایک عدالت نے فلسطینی تنظیم حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا
پریشد کی ایک اچھی مہم
تمام بڑے اخبارات استحصالی سینٹرہیں / اکیلا



مکمل تحریر >>

بدھ، 18 فروری، 2015

ہماری مائیں فیکٹری نہیں: موہن بھاگوت


ایشیا ٹائمز نیوز لیٹر --

غربت سے بر سر پیکار 21ویں صدی کی ایک با ہمت (جھانسی رانی) ان کے بچے اپنی ماں سے روز پوچھتے ہیں ماں ہمارے اچھے دن کب آئیں گے
See more at: http://www.asiatimes.co.in/urdu/%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%8C%D9%86/2015/02/5116_#sthash.1HJmkEXL.dpuf
ہماری مائیں فیکٹری نہیں موہن بھاگوت
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سوائن فلو کا قہر،کلاسز معطل
نیلامی میں مودی کے نام لکھے ہوئے متنازعہ سوٹ کی بولی 1 کروڑ 21 لاکھ پہنچی
وزیر اعظم نے ’ایرو انڈیا-2015‘ کا افتتاح کیا
اروند کیجری وال سے رویش کمار کی گفتگو
اوباما کے بھارت دورے کی کہانی ایک امریکی تاجر کے زبانی
ہم سا بھی کوئی درد کا مارا نہیں ہوگا __ کلیم عاجز
Evening NEWS DIGEST 18 Feb
معیاری و منفرد جرنل ’اردو نامہ‘ کا نیا شمارہ منظر عام پر
مسلم سائنسدان ابن الہیثم نے پہلا پن ہول کیمرہ ایجاد کیا

وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم لیکن۔۔۔
"دلّی کی تبدیلی خدائی منشا ہے "!

مکمل تحریر >>

بدھ، 11 فروری، 2015

اروند کیجری وال کی زندگی یقیں محکم عمل پیہم ، محبت فاتح عالم کی زندہ مثال ہے

 ہندوستان میں رائج الوقت سیاست سےالگ ہٹ کر ایک نئی سیاسی راہ اختیار کرنے والے عام آد می پارٹی کے نیشنل کنوینر اروند کیجری وال ٹھیک ایک سال کی تکمیل پر اب  دوسری بار 14 فروری کو رام لیلا میدان میں وزیر اعلیٰ کا حلف لیں گے  ۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں زبر دست جیت درج کرنے کے بعد پارٹی دفتر میں انہوں نے کہا کہ ' مجھے تواب اس بے پناہ اکثریت سے ڈر لگ رہا ہے "    سبھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا ہمیں ہمیشہ غرور سے بچنا ہے ۔ ورنہ بی جے پی کانگریس کا آج جو حال ہوا ہے وہی پانچ برس بعد ہمارا بھی ہو گا اگر ہم کسی طرح کے غرور اور گھمنڈ  میں پڑ گئے "
 آئیے کیجری وال کی زندگی  کے اہم گوشوں پر نظر ڈالتے ہیں   46برس کی عمرمیں دوسری بار  وزیر اعلیٰ بننے والے کیجری وال  دہلی کےسب سے کم عمر کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ کیجری وال کا یہ سفر کافی دلچسپ اور چیلنجوں سے بھرا رہا ہے۔
انتہائی مضبوط عزائم اور جہد مسلسل نے ان کی زندگی میں اب تک کے سفر میں انہیں ہر قدم پر کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے، پہلے انجینئر،پھر بیو رو کریٹ اور سماجی کارکن اور اب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری نبھانے کی تیاری ہے۔ کیجری وال کی پیدائش 16؍اگست 1968 کو ہر یانہ کے حصار میں گو بندرام کیجری وال اور گیتا دیوی کے یہاں ہوئی ۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد1989میں ٹا ٹا اسٹیل سے کیریر کی شروعات کی لیکن یہ نوکری راس نہ آئی اور بہت جلد ہی1992 میں ٹا ٹا اسٹیل کو الوداع کہہ دیا۔
اس کے بعد کچھ دنوں کے لیے کولکاتہ کے رام کرشنا آشرم اور نہرو یوا کیندر کا رخ کیا یہاں کچھ وقت گزارنےکے بعد انہوں نےانڈین سول سروسیز میں آنےکی ٹھانی اور 1995میں سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد انڈین ریونیو سروسیز IRS سے منسلک ہوگئے لیکن بہت جلد ہی یہاں بھی کوفت محسوس کرنے لگے اور ایک بار پھر ارادہ بدلا اوراعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے سن2000میں دو سال کی بلا اجرت تعطیل لے کر اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھایا مطلوبہ تعلیم کی تکمیل کے بعد2003 ءمیں دوبارہ سروس سے وابستہ ہوگئے۔
 ابھی تین برس ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے جوائنٹ انکم ٹیکس کمشنر کے عہدے پر پہنچ کر2006میں سروس کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا۔ استعفے کے بعد انہیں کافی مشکلات پیش آئیں، ان پر جرمانہ بھی عاید کیا گیا، جو انہوں نے اپنے ایک دوست سے قرض لے کر ادا کیا۔ سروس کی ٹریننگ کے دوران ہی ازدواجی زندگی میں قدم رکھ دیااور ان اپنی ہی ہم سبق ساتھی مس سنیتا سےان کی  شادی ہو گئی، فیملی میں ایک بیٹااور ایک بیٹی ہے۔ ہمیشہ عام آدمی کے حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کر نے والے کیجری وال نے ملک میں اطلاعات کا حق RTI قانون نافذ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
 نومبر  2011میں انا ہزارے کی تحریک سے وابستہ ہوکر جن لوک پال کا مسودہ تیار کرنے میں بھی ان کا اہم رول رہا ہے۔ لیکن لوک پال بل لانے کے تعلق سے مرکزی سرکارکے ڈھل مل رویےاور طفل تسلیوں سے تنگ آکر کیجری وال نے آخر کار سرگرم سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کر لیا، یہیں سے انا ہزارے اور کیجری وال کی راہیں جدا ہو گئیں لیکن منزل دونوں کی ایک ہی رہی بدعنوانی کو جڑ سے اکھا ڑ پھینکنا۔ فرق صرف یہ رہا کہ انا ہزارے کا خیال تھا کہ صرف عوامی تحریک ہی سرکار پر دباو بنانے کا واحد طریقہ ہے، لہذا ہمیں سیاست کی کالی کوٹھری میں نہیں داخل ہو نا چاہیے۔  جبکہ کیجری وال اب اپنے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ جب تک ہم قانون سازی کی طاقت حاصل نہیں کرتے ہمیں مطلوبہ تبدیلی ہر گز حاصل نہیں ہو سکتی۔
 اس اختلاف کے بعد کیجری وال نے انا تحریک سے نومبر 2012 میں الگ ہو کر عام آدمی پارٹی تشکیل دی، اس طرح دہلی میں 26؍نومبر 2012 کوعام آدمی پارٹی کے قیام کا ا علان ہوا اور اپنے ساتھیوں منیش سسودیا، سنجے سنگھ، گوپال رائے کماروشواس، ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے ساتھ مل کر تحریک کو نئی شکل دی۔ کیجری وال نے دہلی کو اپنی سیاسی تحریک کا مرکزاور محور بنایا اورپوری توانائی کے ساتھ میدان میں اتر گئے۔ بنیادی عوامی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے کیجری وال نے سب سے پہلے بجلی کمپنیوں کی من مانی کے خلاف مورچہ کھولا، اس تحریک میں انہیں بڑے پیمانے پرعوامی حمایت حاصل ہوئی اور ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔
 زندگی کے سفر میں چیلنجوں کو دعوت دینا ان کی کا میابی کا زینہ رہا ہے اس لیے اس سیاسی کیریر میں بھی  انہوں نے چیلنجوں کو قبول کیا۔ ان کے ایک دلچسپ مگر انتہائی حیران کن فیصلے نے ہر خاص و عام کو اس وقت حیرت میں ڈال دیا  تھاجب2013چ میں  دہلی اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی کیجری وال نے دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، بعض سیاسی مبصرین نے اسے کیجری وال کی سیاسی خود کشی والا فیصلہ قرار دیا تو بعض نے اروند کو انتہائی مغرورشخص تک کہہ دیا تھا۔  لیکن8؍دسمبر کو الیکشن نتا ئج دیکھ کر سبھی ششدررہ گئے جب، انہوں نے پندرہ برس تک دہلی کی وزیر اعلیٰ رہنے والی سینئر لیڈرشیلا د یکشت کو  25ہزار سے بھی زائدووٹوں سے شکست دے دی۔ ان کی پارٹی کو 70میں سے 28سیٹیں حاصل ہوئیں۔ اور 22 سیٹوں پر ان کے امیدوار دوسری پو زیشن پر رہے۔
اور اس بار  ہندوستان کی الیکشنی سیاست میں انتہائی  حیرت انگیز کار نامہ انجام دیا ہے تادم تحریر  دہلی کی 70 میں 51 سیٹیں اپنے نام  کر چکے ہیں بقیہ 16 سیٹوں پر ان کے امیدوار آگے ہیں بی جے پی کے حسے میں صرف دو سیٹیں ملنے کا امکان ہے اور کانگریس کا مکمل صفایا ہو گیا ہے ۔
 انہیں سال 2006میں ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں ریمن میگسیس ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے، انہوں نے '’سوراج‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 2012 میں شائع ہو ئی تھی۔ کیجری وال نے  بالاخر  تمام تر  تردد  و پس وپیش کے  باوجود کانگریس کی حمایت سے  2013 میں  حکومت سازی کا اعلان  کیا اور  28 دسمبر  2013 کو  وزیر اعلیٰ بن کر کیجری وال نے  دہلی کی نئی سیاسی تاریخ رقم کر دی  ۔ ان کی آمد نے دہلی میں جہاں ایک طرف کانگریس کی سیاسی زمین پر جھاڑو پھیرنے کا کام کیا وہیں دوسری جانب بی جے پی کے لئے بھی اقتدار تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ پیدا کر دی۔ چنانچہ 32 سیٹوں والی بی جے پی کو 3 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑ رہا ہے  اور کانگریس کے حصے میں   کچھ نہیں آسکا جسے 2008 میں 42 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں ۔  
کیجری وال کے سیاسی سفرکی پہلی  اننگ محض  49 دن  کی کامیاب  عوام دوست حکمرانی کے  بعد ایک عوام دوست بل لوک پال  کو قانونی شکل دینے کو لیکر  حزب اختلاف کی سیاسی سازش کا شکار  ہوگئی اور انہوں نے   دل برداشتہ ہو کر  عہدے سے استعفیٰ دے دیا ، جس کا نہیں آج بھی  ملال ہے اور  اپنی گفتگو میں  متعدد بار  دہلی کی  عوام سے معافی مانگ چکے ہیں ۔ اس سے قطع نظر کیجری وال کی زندگی کے سفر نامے کا اگر تجزیہ کریں تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ کیجری وال کے لیے اپنی منزل تک پہنچنا ہمیشہ مشن رہا، وہ ہمیشہ اسی جذبے سے کام کرتے ہیں۔ انہیں اس کی بھی پروا نہیں کہ آج وہ جو کچھ ہیں اگر کل نہیں رہے تو کیا ہو گا۔
اب تک انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ گزشتہ الیکشن میں کامیابی کے بعد   حکومت سازی کے بعد کیجری وال نے کام کی کچھ ترجیحات طے کیے تھے    جسے تین ماہ میں مکمل کرنے  کی کوشش کی ۔  کیجری وال  نےسرکار کے سہ ماہی ایجنڈے پر: ہرخاندان کو سات سو لیٹر مفت پانی کی فراہمی مکمل سوراج   ، اہم فیصلوں کے لیے عوام کی رائے لیا جانا ، بجلی کے میٹروں کی درستی کے لیے فوری طور پر کارروائی، بجلی صارفین پر درج مقدمات واپس لینے، جل بورڈ کی از سر نو تشکیل، پینے کے پانی کی نجکاری پر روک ، گھریلو زمرے کے ناجائز بل  کی معافی ، غیر مستقل ملازمین کو مستقل کیا جانا ، پبلک اسکولوں کی من مانی پر روک ، خواتین کے تحفظ کے لیے اسپیشل سکیریٹی فورس کا نظم، غیرمنظور شدہ کالونیوں کی منظوری کا عمل شروع کرنا، جھگیوں کو توڑنے پر پابندی ۔ ویٹ ضابطوں میں ترمیم  ، ایک ماہ میں جن لوک پال بل کا مسودہ پاس کرنا شامل تھا ۔ جس میں کچھ  پر تو فوری طور پر عمل  شروع کر دیا تھا اور بقیہ  پر کام جاری تھا سستی  بجلی ،مفت پانی  اور کرپشن میں  گراوٹ کے اثرات دلی والوں  کے دلوں میں آج بھی  اسی طرح تازہ ہیں ۔ کیا کیجری وال اپنے اسی ایجینڈے پر اس بار بھی کام کریں گے اب یہ دیکھنا  کافی دل چسپ ہو گا ،اب انہیں بے پناہ اکثریت حاصل ہے ، اب دیکھنا  دل چسپ ہے کہ دہلی کی امیدوں پر وہ کس طرح کھرے اتریں گے ،وزیر اعظم نے نریندر مودی نے بھی انہیں فون پر  آشرواد دیا ہے اور 
ان کی جیت پر نیک خواہشات کا اطہار کیا ہے ۔
بشکریہ ایشیا ٹائمز 
- See more at: http://asiatimes.co.in/urdu/Asia-Times-Special/2015/02/4875_#sthash.kAAVOwhL.dpuf
مکمل تحریر >>

ہفتہ، 7 فروری، 2015

اہم ایگزٹ پولز میں عام آدمی پار ٹی کو 43 سے 48 سیٹیں ملنے کا امکان ؛ اس بار 67 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی


نئی  دہلی: (ایشیا ٹائمز) دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لئے اس بار 67 فیصد ووٹنگ ہوئی.  ووٹنگ شام چھ بجے تک جاری رہی ووٹنگ کے بعد ٹی وی چینلز پر دکھائے گئے  ایگزٹ پولز بتاتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت بننا لگ بھگ  طے ہے.
http://asiatimes.co.in/urdu/%D8%A7%DB%81%D9%85_%D8%AA%D8%B1%DB%8C%D9%86/2015/02/4794_
 پچھلے کچھ انتخابات میں مسلسل صحیح اندازوں کرنے والی ایجنسی چانکیہ نے تو آپ کو 48 اور بی جے پی کو 22 سیٹیں دی ہیں. بی جے پی کی سی ایم کے عہدے کی امیدوار کرن بیدی نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اعداد و شمار بدلیں گے.  اگر اعداد و شمار نہیں بدلے تو کیا یہ مودی کی ہاری مانی جائے گی؟

 اس سوال کے جواب میں بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ریاستوں کے انتخابی نتائج کو مرکز سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا اور اگر پارٹی کی کارکردگی بہتر نہیں رہی تو اس کی ذمہ داری سب کی ہوگی، کسی ایک لیڈر کی نہیں.

مکمل تحریر >>

جمعرات، 8 جنوری، 2015

مسلمان ویلفیئر پارٹی کو جائے پناہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں/ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس

ایشیا ٹائمز، نیوز لیٹر
بین الاقوامی
مشرقی فرانس میں ایک مسجد کے قریب دھماکہ
پیرس حملہ: فرانسیسی پولیس نے 3 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی
English NEWS
Daily Evening English NEWS DIGEST 08 Jan

ہندوستان
ہندو مذہب کی حفاظت کے لئے ہر ہندو خاتون کم از کم چار بچے ضرور پیدا کرے:شاکشی مہاراج
دہلی کے بازاروں میں مردہ چکن کا گوشت
دہلی ہائی کورٹ نے کہا فلم "پی کے" میں کچھ بھی اشتعال انگیز نہیں
سنندا پشکر معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل د ی گئی
پوروانچل
ضلع مجسٹریٹ پرکاش بندو نے آج ایم این پبلک اسکول سنورا غوثی میں پہلی سائنس نمائش کا افتتاح کیا
کالم
نہ خدا ہی ملا ،نہ وصال صنم
شوہر اور بیوی ، ایک دنیائے جمیل
مردِ درویش سید حامد
خصوصی انٹر ویو
مسلمان ویلفیئر پارٹی کو جائے پناہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں/ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس
کھیل
عالمی کرکٹ کپ 2015 کی ٹیم انڈیا کا اعلان


بنگلہ دیشی کرکٹر کا مستقبل خطرہ میں
آس پاس
عمران خان اور ریحام خان رشتہ ازدواج میں منسلک



مکمل تحریر >>