حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

منگل، 15 جنوری، 2013

خصوصی انٹر ویو

بھارت میں ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجیز؟

ان دنوں ملکی سلامتی کو لیکر اندرون ملک سماجی اورسیاسی 
حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ اس وقت ملکی  سلامتی کو کس طرح کے چیلنجیز درپیش ہیں ؟ اور ان سے کس طرح نمٹا جانا مناسب ہے ۔ نیز پولیس فورسیز کا رول کیا ہو ؟ سرکار یہ مانتی ہے کہ فی الوقت ملکی سلامتی کو سب سے زیادہ خطرہ نکسل ازم سے ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ اس سے نمٹنے کی اپنے طور پر پوری کوشش کر رہی ہے  پورے مسءلے پر بھارتی پولیس کے ایک ریٹاءرڈ اعلی آفیسر" ایس ٓار دارا پوری " ریٹاءرڈ انسپیکٹر جنرل آف پولیس سے دہلی میں اشرف علی بستوی نے گفتگو کی 

سوال : ملکی سلامتی کو درپیش مساءل اور موجودہ صورت حال کیا ہے ؟

جواب : ملک میں آرمڈ پاور اسپیشل فورسیز ایکٹ ملک کے جمہوری نظام کے لئے انتہائی نقصاندہ ہے جس کے خلاف سماجی کارکنان کی جانب سے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ شمال مشرقی ہندوستان بشمول جموں و کشمیر میں اس قانون کا بہت زیادہ غلط استعمال ہورہا ہے۔ بے قصور افراد کو جیلوں میں بھرا جارہا ہے۔ سرکار یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح کے قوانین کے ذریعے ملک میں قانون کی بالادستی قائم کی جاسکتی ہے جبکہ اس طرح کے اقدامات سے حالات اور بھی خراب ہوں گے جن طبقات کو ان قوانین کا نشانہ بنایاجائے گا اور ان کے افراد کو اس کا سہارا لے کر گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی تو فطری طور پر ان کے اندر اضطراب پیداہوگا اور اس کانتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے جنہیں یہ لوگ دہشت گرد کہتے ہیں۔ میرے خیال میں اسٹیٹ کی زیادتیوں سے مسائل پیداہورہے ہیں۔ گجرات میں جو کچھ ہوا اس میں جو لوگ مارے گئے ان کے وارثین میں انتقامی جذبات کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ آدمی کتنا ہی امن پسند کیوں نہ ہو اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوگی تو اس کو شکایت پیدا ہوگی۔ ایک د وبار اس قسم کی بات ہوتو شاید وہ صبر کرلے گا تاہم اگر برابر اس کے ساتھ ایسا ہونے لگ جائے تو یقینا اس میں اس کے خلاف ردعمل پیدا ہوگا اور وہ اپنے تحفظ کےلئے ضرور اٹھ کھڑا ہوگا۔
سوال : کیا سخت قوانین مسلےکا حل ہیں؟ 

جواب : افسوس کی بات ہے کہ ملک اس وقت اس طرح کے سخت قوانین بنانے اور ان کے نفاذ کی راہ پر چل پڑا ہے جس کا انجام بہت خطرناک ہے۔ اس سے معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم ہونے کی بجائے نظام کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا ہوگا ۔ حالات اور خراب ہوں گے ۔ ملک میں امن وسلامتی کا ماحول اس وقت قائم ہوسکے گا۔ جب قوانین کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے انڈین پینل کوڈ ہی کافی ہے کسی اور سخت قانون کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔

سوال :فی الوقت ملکی سلامتی کون کون سے چیلنجیز کاسامنا ہے ؟ 

جواب : ان دنوں نکسلواد کا مسئلہ بتایاجارہا ہے ۔ یہ مسئلہ کیوں پیداہوا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں آزادی کے ساٹھ برس گز رجانے کے بعد بھی کسی سرکار نے آدیباسیوں کے لئے کوئی فلاحی کام کیوں نہیں کیا؟ ان کے مسائل کیا ہیں اس سے بحث کسی نے کیوں نہیں کی؟ جب لوگوں کے حق چھینے جائیں گے تو اس کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ اس وقت سرکاریں مسئلے کی جڑ میں نہ جاکر سخت قوانین کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کر رہی ہیں۔ یہ فرار کی ایک راہ ہے۔ یہ حکومتوں کی ایک چال ہوتی ہے کہ انہیں بنیادی مسائل کا سامنا نہ کرناپڑے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ایک جمہوری ملک کی حکومت اپنے ہی عوام کے خلاف کھڑی نظر آرہی ہے اور اپنے ہی عوام کے خلاف اسے طاقت کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے جسے آپریشن گرین ہنٹ نام دے رکھا ہے۔ مسئلہ کشمیر ہو یا شمال مشرقی ہندوستان کی ریاستوں کا معاملہ ہو ہم ان میں غیرملکی ہاتھ ہونے کی بات تو کرتے ہیں ہم اسے کیوں نہیں دیکھتے کہ ان مسائل کو پیدا کرنے میں ہماری سرکاریں کہاں تک ذمے دار ہیں۔ 

دوسرا بڑا مسئلہ ملک میں امیری اور غریبی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا ہے۔ موجودہ معاشی نظام میں ملک کے قدرتی وسائل کو غیرملکی کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کیاجانا اور ان وسائل میں غریب عوام کی حصے داری متعین نہ کرنے سے جو بے چینی بڑھ رہی ہے اس سے حالات کے اور خراب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ملک میں ہر سال امیر ترین شخصیات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے وہیں دوسری جانب ملک کی بڑی آبادی خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ تفریق یہ بتاتی ہے کہ ملک کی ترقی انصاف پر مبنی نہیں ہے۔
سوال : بحیثیت پولیس ٓا فیسر ملک میں آءے دن ہونے ہونے والے پولیس
 انکاونٹرس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔ خاص طور سے بٹلہ ہاوس انکاونٹر کیا تھا ؟ 
جواب : ہیومن رائٹ کمیشن نے گزشتہ دنوں فرضی انکاﺅنٹر ز سے متعلق جو رپورٹ پیش کی ہے وہ مکمل نہیں ہے ۔ اگر تمام معاملات کی جانچ کی جائے تو بمشکل پانچ فیصد معاملے درست پائے جائیں گے۔ میرے خیال میں 99 فیصد انکاﺅنٹر فرضی ہوتے ہیں۔ میں نے 32 سال کی سروس کے دوران صرف ایک اصلی انکاﺅنٹر کاسامنا کیا تھا۔بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر فرضی تھا پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد سے اس کی تصدیق ہوچکی ہے چونکہ یہ انکاﺅنٹر سرکار کے ایما پر کیا گیا تھا اسلئے وہ خائف ہے کہ اس سے حقائق سے پردہ اٹھ جائے گا ۔ اگر حکومت کی نیت میں کھوٹ نہیں ہے تو وہ عدالتی تحقیق سے کیوں گھبرا رہی ہے؟ فرضی انکاﺅنٹر سے جرائم کم نہیں ہوتے بلکہ صحیح کارروائی کرنے سے کم ہوتے ہیں۔ بے قصور وں کے قتل سے جرائم میں اضافہ ہی ہوگا151
سوال : پولیس کے رول اور اسکی کار کردگی پر آءے دن ڈھیروں سوالات کھڑے کیے جاتے ہیں اس بارے میں کیا کہیں گے ؟ 
جواب : پولیس کا کام معاشرے میں امن وامان قائم کرنا، جرائم کو روکنا اور پیش آنے پر تفتیش کرتاہے۔ لیکن اب پولیس کا کام بدل گیا ہے، یہ حکمراں طبقے کے آلہ کار کے طور پر کام کرتی ہے جس کا کام حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ اس مقصد کے تحت انگریزوں نے پولیس محکمہ قائم کیا تھا اور وہی آج تک برقرار ہے ۔ وہی 1861کا پولیس ایکٹ آزاد ہندوستان میں بھی نافذالعمل ہے ۔ اس لئے سب کچھ اسی طرح باقی ہے ۔ سپریم کورٹ نے بہت پہلے پولیس اصلاحات کی طرف توجہ دلائی تھی، عدالت عالیہ نے پولیس کو سیاسی کنٹرول سے آزاد رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ لیکن آج تک اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ حکمراں طبقہ پولیس کو آزاد کرنا نہیں چاہتا۔ اگر پولیس آزاد ہوگی تو قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ پولیس کو بدعنوان بنائے رکھنا اور ان کے ذریعے غلط کام کرانا حکمراں طبقے کی ایک ضرورت ہے ۔ کیونکہ اس سے وہ اپنا کام نکالتا ہے ۔ عوام کی آواز کودبانے کے لئے پولیس بہت موثر ہتھیار ثابت ہوتی ہے اس لئے کوئی بھی سیاسی جماعت اس کی موجودہ صورت میں تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہے۔

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔