حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

پیر، 26 اگست، 2013

منموہن سنگھ جی ، آخر اتنی جلدی کیا تھی ؟

کیا ملک کی سیاسی جماعتوں کو آر ٹی آئی ایکٹ  یعنی (معلومات حاصل کرنے کے حق) کے دائرے میں لایا جانا چاہئے؟ کیا سیاسی جماعتوں کو حاصل امدادی فنڈ کی آمد و خرچ کا حساب کتاب  عام بھارتی شہری کو جاننے کا حق ہے؟  کارپوریٹ گھرانوں اور دیگر ذرائع سے ملنے والی مالی امداد کا حساب کتاب عام کرنے سے سیاسی جماعتیں کیوں ہچکچا رہی ہیں؟ کیا سیاسی جماعتیں عوامی ادارے کے زمرے میں آتی ہیں؟
متذکرہ بالاسوالات تمام  بھارتی شہریوں کے ذہن میں اکثر پیدا ہوتے ہیں جو ان سیاسی جماعتوں کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر ملک کا مستقبل پانچ برس کے لئے ان کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور حکمرانی کے زعم میں یہ سیاسی جماعتیں اپنے اختیارات کا بے جا استعمال کرنے میں سارا زور صرف کر دیتی ہیں اور یہ عام آدمی خود کو ٹھگا سا محسوس کرتا ہے۔ انتخابات کے مواقع پر عوام میں یہ احساس شدت سے پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں روپے  پانی کی طرح بہانے والی یہ سیاسی پارٹیاں آخرکہاں سے خرچ کرتی ہیں ۔ سرکار گرانے اور بچانے کے لئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی خرید وفروخت بھی عوام کی نظروں کے سامنے کئی مواقع پر ہوتی رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں نوٹوں کے بنڈل پہنچانے کا کام بھی ان ہی سیاسی جماعتوں نے کیا ہے۔ اس لئے یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر ان سیاسی جماعتوں کو بھی پبلک اتھارٹی قرار دے کر ان کی آمد و خرچ کا حساب کتاب عام لوگوں کو بھی جاننے کا حق فراہم کیا جائے گا۔ کچھ اسی طرح کے سوالات لے کرگزشتہ دنوں ایک سماجی کارکن نے مرکزی انفارمیشن کمیشن میں عرضی داخل کرکے یہ مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی آرٹی آئی ایکٹ کے دائرے میں لایا جائے۔  کمیشن نے عرضی کی سماعت  کے بعد تین جون کو دیئے گئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملک کی قومی سیاسی جماعتیں آرٹی آئی ایکٹ کے دائرے میں اس لئے آتی ہیں کیونکہ ان کو مرکزی سرکار سے بھی کافی پیسہ ملتا ہے اس لئے انہیں چاہئے کہ اپنے دفاتر میں پبلک انفارمیشن افسر مقرر کریں تا کہ عام آدمی سیاسی جماعتوں کو ملنے والی مالی امداد کے بارے میں جانکاری حاصل کر سکے۔
کمیشن کا یہ فیصلہ آتے ہی ساری سیاسی جماعتیں چراغ پا ہوگئیں اور ہر طرف سے فیصلے کے خلاف بیانات آنے لگے۔ کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتیں صف بستہ ہوگئیں۔ میٹنگوں کا دور شروع ہوا اور یکم اگست کو وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں میٹنگ ہوئی جس میں اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیاگیا کہ مانسون اجلاس میں فوری طور پر آرٹی آئی ایکٹ ترمیمی بل لایا جائے جس میں سیاسی جماعتوں کو آر ٹی آئی ایکٹ سے آزاد کرایا جائے۔ اس طرح بارہ اگست کو یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا گویا محض دو ماہ کے اندر اسے پیش کر دیا گیا۔
ترمیمی بل میں آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 2 میں ترمیم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے جس میں پبلک اتھارٹی کی وضاحت  کی جائے گی۔  واضح رہے کہ منموہن سنگھ سرکار نے 2005 میں راٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پاس کیا تھا جسکا مقصد عام شہریوں کو جانکاری حاصل کرنے کا حق دینا تھا تا کہ بھارت کا ہر شہری سرکاری کام کاج پر نظر رکھ سکے اور ضرورت پڑنے پر اس سے متعلق اطلاعات حاصل کر سکے ، سرکار نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ اس ایکٹ کے پاس ہونے سے  بدعنوانی میں کمی واقع ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بدعنوانی نے موجودہ سرکار میں نے ریکارڈ بنا ے ہیں ایک لاکھ پچہتر کروڑ کا ٹوجی گھپلہ اس کی تازہ مثال ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کی ایک طویل فہرست ہے جو آر ٹی آی ایکٹ نافذ ہو نے کے بعد منظر عام پر آے ہیں ۔
اس پورے معاملے میں حکمراں سیاسی جماعت اور اپوزیشن نے جس اتحاد کا ثبوت دیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عوام کے مفاد اور تحفظ کے لئے کام کرنے کا جھوٹا دعوی کرنے والی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تمام تر اختلافات کے باوجود ہم آواز ہیں۔ جبکہ فرقہ وارانہ فسادات بل سمیت درجنوں ایسے بل ہیں جن کو پیش کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ، جبکہ اس وقت  ملک میں شدت پسندوں نے  فرقہ وارانہ فسادات کی ایک نئی لہر شروع کر رکھی ہے ، وسو ہندو پریشد کی پریکرما یاترا اس کی تازہ مثال ہے  اگر خدا نخواستہ فرقہ وارانہ فساد بھڑکتے ہیں تو اس کا ذمہ دار جہاں ایک طرف شر پسند عناصر ہوں گے وہیں دوسری جانب موجودہ سرکار بھی ہو گی جس نے طویل عرصے سے انسداد فرقہ وارانہ فسادات  بل کو التوا میں ڈال رکھا  ہے۔

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔