حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

منگل, اگست 19, 2014

داعش : توازن سے محروم ایک انقلاب

تحریر:- ثناءاللہ صادق تیمی٭٭٭

عالم اسلام پر یہ بات زیادہ صادق آتی ہے کہ دنیا عجائب سے بھری ہوئی ہے ۔ پچھلے دو چار سالوں کے اندر اتنے سارے انقلابات رونما ہوئے ہیں کہ عالم اسلام کو بآسانی تمام انقلابوں کی سرزمین کہا جا سکتا ہے ۔ رونما ہونے والی تمام تحریکوں کے پیچھے اگر دیکھیں تو بنیادی طور پر ایک ہی چیز نظر آتی ہے اور وہ ہے اقتدار اور اس سے جڑے مسائل ، جبر ، ظلم ، نا انصافی اور عام لوگوں کی بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی ۔ معاشی عدم استحکام کے پیچھے ناقص اور ناکارہ طرز حکومت کا بہر حال اپنا کردار ہوتا ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ان تمام انقلابات سے جن نتائج کی توقع تھی وہ پوری ہوئے یا نہیں ۔ 

داعش جو الدولۃ الاسلامیۃ فی العراق و الشام کا مخفف ہے ، کے پیچھے بھی بنیادی طور پر اس عنصر کی کارفرمائی نظر آتی ہے البتہ یہاں قدرے دینی (جس کا برحق ہونا ضروری نہیں ) انتسابات زیادہ دکھتے ہیں ۔ مانا جاتا ہے کہ داعش بنیادی طور پر القاعدہ کا ہی ایک حصہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ تھوڑے بہت اختلاف کی وجہ سے نئی شکل میں ظاہر ہو گیا ہے ۔ عالمی امور پر نظر رکھنے والے امریکی ماہرین کی مانیں تو داعش عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور امریکہ نے شروع ہی میں اس کا سر نہ کچل کر سنگین غلطی کی ہے ۔ انگریزی کے مشہور ہندوستانی اخبار " ہندو " کے اندر چھپے ایک آرٹیکل کے مطابق داعش یوں تو دینی تحمسات کے آگے بڑھ رہا ہے لیکن اسے مختلف قبائل اور ان فرقوں کا تعاون بھی حاصل ہے جنہیں داعش کا مخالف سمجھا جاتا ہے ، جس کے پیچھے در اصل خود ان قبائل اور فرقوں کا اپنا مفاد چھپا ہوا ہے ۔ اسلامی خلافت کے اعلان کے بعد لگ بھگ تمام مسلم ملک نے اس کی مذمت کی ہے ۔ یہ امید کی جارہی تھی کہ سعودی عرب کے علماء اور وہاں کی عوام کے ساتھ ہی بر صغیر ہندو پاک کے مسلم عوام بھی اس کے ساتھ ہو جائینگے لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آیا ہے ۔ عراق پر امریکی بمباری کے عقب سے پیدا ہونے والی یہ تنظیم در اصل امریکی داداگیری کے ساتھ ہی اہل تشیع کے نظام حکمرانی کے خلاف ہے ۔ داعش کے اپنے بیانات کے مطابق دنیا کو ظلم کی جگہ امن اور انصاف کی دولت سے مالا مال کرنے کے لیے ہی یہ تحریک اٹھائی گئی ہے ۔ دوسری نام نہام اسلامی تحریکوں کے بالمقابل اس تنظیم کے پاس فنڈ کے اپنے ذرائع ہیں اور خاص طور سے جس طرح سے اس کے زیر اقتدار علاقوں میں توسیع ہوئی ہے اس نے اسے اس زاویے سے مضبوطی فراہم کی ہے ۔ 
داعش سے متعلق خبریں جیسے ہی عام ہوئيں ہمارے اردو کے دانشوران نے (جن میں اکثریت شیعوں کی ہے ) اسے ایسی امریکی شازش قرار دیا جس کا مقصد عالمی سطح پر شیعہ سنی کو لڑوانا تھا ۔ ہندوستانی تناظر میں شاید یہ بات درست بھی تھی لیکن بہر حال یہ حقیقت ہے کہ شاید پہلی مرتبہ اتنی مضبوطی اور زبردست حکمت عملی کے ساتھ کوئی سنی گروپ شیعہ اقتدار کے لیے چیلینج بن کر سامنے آیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اوباما کی اغوائی میں امریکہ نے بشار الاسد کی مدد کے لیے اور داعش کا سر کچلنے کے لیے مدد بھیج دیا ہے ۔ پچھلے کئی دہوں کے اندر اس قسم کی مثال نہيں ملے گی کہ کوئی سنی گروپ شیعہ اقتدار سے علاقے چھیننے پر قادر ہو پایا ہے ۔ یہ بات شاید کہنے سننے میں اچھی نہ لگے لیکن اس سے شیعہ حلقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ 
در اصل ظلم کی کوکھ سے ہی انقلاب کا طوفان اٹھتا ہے ۔ عراق و شام کے اس علاقے میں تاریخی طور پر اہل تشیع نے جس طرح سنی مسلمانوں کو اپنے وحشیانہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہے وہ مبالغے کے بغیر بھی بیان کیے جائیں تو انسانیت کو شرمندہ کردینے کے لیے کافی ہوںگے ۔ ایک نہ ایک دن ایسی کسی قوت کا ظاہر ہونا ضروری ہی تھا ۔ لیکن یہ با ت ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کی صورت حال میں متوازن اور سنجیدہ طرز فکرو عمل کا پایا جانا نسبۃ مشکل ہوتا ہے ۔ عین یہی صورت حال یہاں پیش آئی ہے ۔ شیعہ اقتدار کے ظلم و ستم کے خلاف اگر یہ تحریک عوامی خدمت کے ساتھ سنیوں کی بہتری کے لیے آگے بڑھتی تو اس کی کامیابی پائیدار بھی ہوتی اور اسے کئی سمتوں سے تعاون بھی مل جاتا ۔ لیکن کئی چیزیں اس پورے آرگنائزیشن سے ایسی جڑی ہوئی ہیں جن سے نہ صرف اس کی افادیت ماند پڑ گئی ہے بلکہ کئی سارے خطرات نے اس پورے خطے کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے ۔ 
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تحریک نے خود کو پورے دینی خول میں پیش کیا ہے اوروہ بھی دین کا ایک ایسا ورژن پیش کرنے کی کوشش کی ہے جسے خود نہ تو سنی عوام قبول کرنے کے لیے تیار ہو پائینگے اور نہ ہی علماء کرام ۔ اہل تشیع کے ہزار گمراہ کن عقائد اور نظریات کے باوجود عام حقیقت یہ ہے کہ علماء اسلام نے انہیں کافروں کے زمرے میں نہیں رکھا ہے ۔ یہ تحریک نصیری شیعوں کو ایسے کافر سے تعبیر کرتی ہے جن کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان کے یہاں فتوی بازی کی بیماری زیادہ ہے ۔ شاید اسی لیے بڑے بڑے علماء اسلام کے خلاف کفر کے فتووں سے بھی یہ دریغ نہیں کرتے ۔ اگر اطلاعات درست مانی جائیں تو داعش کے قائدین کی نظرمیں البانی ، ابن باز اور عثیمین رحمھم اللہ بھی مسلمان نہیں تھے ۔ اسے بہر حال افسوسناک ہی کہا جائیگا کہ ایک سیاسی تحریک دین کی غلط اور خارجی تعبیر کی وجہ سے مفید تو کیا ہوتی نقصاندہ ہوتی جارہی ہے ۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ جہاں یہ تحریک جانبازوں اور نئے قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہے وہيں اس کے اندر سنجیدگی اور متانت کی کمی پورے طور پر نمایاں ہے ۔ خلافت کا اعلان کرکے ساری دنیا کے مسلمانوں سے اپنی خلافت کے تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کرنا ایک قسم کی حماقت کے زمرے میں ہی آئیگا ۔ ابھی خطے کی صورت حال جو رہی ہے اس میں ایک بار پھر سے مغربی قوتوں کو مداخلت کا موقع اس لیے بھی مل جائیگا کہ داعش کو کسی بھی قابل ذکر ملک یا انٹر نیشنل سیاسی تنظیم کی تایید حاصل نہیں ہے ۔ خارجہ امور کے ماہرین جانتے ہیں کہ کسی بھی علاقے میں جانے سے رکنے کے لیے عالمی طاقت کو صرف وہاں کی علاقائی قوتیں ہی روک پاتی ہیں ۔ امریکہ کی ڈائریکٹ مداخلت سے اس کی شروعات بھی ہوگئی ہے لیکن اس میں امریکہ فائدے میں رہیگا یا نقصان میں اس کا اندازہ تو بعد ہی میں ہو پائیگا ۔ لٹی ہوئی زمین پر لوٹنے کے لیے بچتا بھی کیا ہے !!!

فیصلے سنانا تو اچھا بھی نہیں ہوتا لیکن اسے اس پورے خطے کے ساتھ سنی مسلمانوں کی بد نصیبی ہی کہیںگے کہ ایک تحریک اٹھی بھی تو شعور سے زیادہ جذبات کے سہارے دین کی غلط تشریح پر ۔ داعش اپنے مقاصد میں اگر کامیاب ہوئی تو خطے کی صورت کیا بنے گي یہ تو کہنا مشکل ہے لیکن اگر کچل دی گئی ( جس کے امکانا ت روشن ہیں ) تو صہیونی اور شیعی شازشوں کے تلے سنی جانوں اور احساسات کا نہ جانے کب تک خون ہوتا رہے گا ۔ اللہ خیر کرے ۔



 مضمون نگار :-  جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے ریسرچ اسکالر ہیں
sagartaimi@gmail.com

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔