حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

سوموار، 28 مئی، 2012

سودی قرض کی وجہ سے کرناٹک میں ایک انسانیت سوزواقعہ


ملک کے معروف ماہر معاشیات ہندوستان میں سبز انقلاب کے بانی پروفیسر ایم ایس سوامی ناتھن ان دنوں سودی قرض کے بوجھ تلے دبے کاشتکاروں کی خودکشی کی وجہ سے بےحد تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے ۳۵ اضلاع کے کسان سودی قرض کی ادائیگی نہ کرپانے کی وجہ سے موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ طویل عرصے کے غوروخوض کے بعد انھوں نے پایا ہے کہ اس کا واحد حل بلاسودی قرض فراہمی پر مبنی نظام ترتیب دینا ہے تاکہ زندگی سے مایوس کسانوں کی زندگیوں میں ہریالی واپس لائی جاسکے، اپنے اس موقف کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً معاشی مسائل پر ہونے والے مباحثوں میں کرتے رہتے ہیں، حالیہ دنوں انھوں نے ایک موقع پر حکومت ہند سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں بلاسودی قرضہ جات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وہیں اگر دوسری جانب ملک میں سودی قرض کے مضر اثرات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ کرناٹک کے ٹمکور ضلع سے سودی قرض کے متعلق ایک انتہائی عبرتناک خبر ہے ۔ یہاں سودی قرض کی وجہ سے ایک انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے : اسٹیفن نامی ایک مزدور کے دو سالہ بچے کو سودی قرض کی رقم کی واپسی میں تاخیر کے سبب قرض دینے والی خاتون ممتاز کے لوگوں نے اسٹیفن کے گھر میں جبراً داخل ہوکر اس کے دو سالہ بچے کو والدین سے چھین لیا اور اسے ایک سال تک اپنے تحویل میں بطور ضمانت رکھا اور کہا کہ جب تک رقم کی واپسی نہیں ہوگی بچے کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ خبر ہے کہ پولیس کی مداخلت کے بعد بچے کو برآمد
کرلیا گیا ہے۔
اسٹیفن کرناٹک کے ٹمکور ضلع کے رہنے والے ہیں۔ مزدوری کرکے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں، ایک سال قبل انھوں نے اپنی شریک حیات کے علاج کے لئے ممتاز نامی خاتون سے جو سودی قرض فراہم کرنے کا کاروبار کرتی ہیں، دس ہزار روپے قرض لیا تھا، لیکن غربت کی وجہ سے وقت پر رقم نہیں ادا کرسکے اور سود کی رقم میں بدستور اضافہ جاری رہا حتیٰ کہ دس ہزار پر چالیس ہزار روپے سود کی رقم کے ساتھ پچاس ہزار روپے ہوگیا گویاچار گنا سود بڑھ گیا۔ ممتاز کے بارہا تقاضے کے سبب اسٹیفن بہت پریشان تھے کہ اسی دوران کچھ لوگوں نے اسٹیفن کے گھر پر دھاوا بول دیا اور جبراً گھر میں داخل ہوکر ان کے دو سالہ بچے کو ان سے چھین کر لے گئے اور یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر اس بات کی اطلاع پولیس کو دی تو انجام برا ہوگا۔ وقت گزرتا گیا اور اس طرح بچے کی جدائی کو ایک سال ہوگئے ۔ اس بات کی خبر جب محلے والوں کو معلوم ہوئی تو انھوں نے اپنے طور پر پولسی کو اطلاع کیا اور پولیس کی چھاپہ ماری کے بعد بچے کو برآمد کرلیاگیا ہے۔ ابھی بچہ پولیس کی زیر نگرانی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بچہ عدم تغذیہ کا شکار ہے۔ انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ اس ملک کے طول و عرض میںروزانہ ایسے سیکڑوں واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں ، سودی قرض کے بوجھ کی وجہ سے کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، لوگوں کو اپنی جائدادگنوانی پڑ رہی ہے اور قتل وغارت گری کے واقعات بھی سودی قرض کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ضرورت
اس بات کی ہے کہ ملک و معاشرے کو سودی قرض کے دلدل سے نکالنے کے لئے پروفیسر ایم ایس سوامی ناتھن کے تجویز کردہ بلاسودی قرض کی فراہمی کے فارمولے پر حکومت ہند سنجیدگی سے پہل کرے۔ سودی قرض فراہم کرانے والی خاتون اگر مسلمان ہیں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے تو یہ اس کہانی کا انتہائی تشویشناک پہلو ہے کیونکہ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں سود کو حرام قرار دیا ہے

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔