حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

جمعرات, جون 21, 2012

شہری حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرم اے پی سی آر



آج سے کوئی چھ برس قبل ستمبر 2006ءمیں ہندوستان میں شہری و انسانی حقو ق کے تحفظ کے لئے سماجی کارکنان اور وکلاکے ایک سنجیدہ گروپ کے باہم صلاح و مشورے اور تعاون سے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس یعنی اے پی سی آر کا قیام عمل میں آیاجس کا مرکزی دفتر دہلی کے جسولا وہار علاقے میں واقع ہے۔ اب تک ملک کی گیارہ ریاستوں میں اس کی شاخیں قائم ہوچکی ہیں، جن میں کرناٹک، مہاراشٹر، راجستھان، دہلی، یوپی، بہار، آسام، مغربی بنگال اور گجرات قابل ذکر ہیں۔ تنظیم کے آل انڈیا صدر ملک کے معروف سینئر ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالا ہیں۔
ملک کی بعض ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں مکمل طورپر ضلعی کمیٹیاں وجود میں آچکی ہیں۔کرناٹک کو بطور مثال پیش کیاجاسکتا ہے، اس کے علاوہ مغربی بنگال اور گجرات میں بھی اے پی سی آر کافی سرگرم ہے۔ ملک بھر میں پانچ ہزار سماجی کارکن اے پی سی آر سے وابستہ ہوکر شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لےے کام کررہے ہیں۔ تنظیم نے گزشتہ برسوں میں قانونی بیداری کے تحت تربیت نیز ورک شاپ کا اہتمام کیا، اب تک پچیس تربیتی ورک شاپ کے ذریعے کارکنوں کو تربیت دینے کا کام کیا، جس میں وکلاءاور حقوق انسانی کے میدان میں سرگرم افراد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں ضلعی سطح کے تربیتی پروگراموں کا بھی اہتمام کیاگیا۔ اے پی سی آر نے پولیس اصلاح، عدالتی اصلاح، فرقہ وارانہ تشدد بل اور حقوق انسانی سے متعلق دیگر عناوین پر سمپوزیموں کا بھی اہتمام کیا، جس میں ریٹائرڈ چیف جسٹس آف انڈیا اے ایم احمدی، جسٹس راجندر سچر، جسٹس کرشنا ایئر، سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ این ڈی پنچولی، ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن سمیت دیگر ملی قائدین شریک ہوئے۔ تنظیم نے عوام میں قانونی بیداری لانے کے لےے پچاس سے زائد میٹنگوں کا اہتمام کیا۔

 گزشتہ چھ برس کے دوران ہونے والے مختلف اہم واقعات کے حقائق جاننے کے لےے تنظیم نے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے تحت، جھارکھنڈ جیل کادورہ ، بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر کے بعد اعظم گڑھ کا دورہ، انبالہ میں ہونے والے فسادات کے موقع پر جے پور سینٹرل جیل کا دورہ، قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعے کے نتیجے میں مرادآباد میں ہوئے فسادات کے حقائق جاننے کی کوشش اور گوپال گڑھ فائرنگ کے سلسلے میں حقائق جاننے کے لےے اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں نے دورے کےے۔تنظیم نے قانونی چارہ جوئی کے تحت پانچ سو معاملات میںجو نچلی عدالتوںمیں زیرغور تھے، قانونی مداخلت کی جن میں فاربس گنج پولیس فائرنگ معاملہ، ہری مسجد فائرنگ کیس ممبئی میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور ملک کے طول وعرض میں ہونے والی پولیس زیادتیوں کے خلاف احتجاجات کیے گئے۔ شہری حقوق کے تئیں بیداری لانے کے لےے جاری مہم کے تحت کرناٹک سمیت دیگر گیارہ ریاستوں میں جہاں اے پی سی آر سرگرم ہے، بڑے پیمانے پر ریلیوں کا انعقاد کیا اور پوسٹر ، ہینڈبل کے ذریعے شہریوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی نیز ایف آئی آر درج کرانے سے لے کر مکمل قانونی چارہ جوئی تک کی جانکاری فراہم کی گئی۔ یہ تنظیم حقوق انسانی کی دیگر تنظیموں، انہد، پی یو سی ایل دیگر کے ساتھ کام کررہی ہے۔
 تنظیم کے جنرل سکریٹری پروفیسر کے اے صدیق حسن ہیں، جب کہ مرکزی سکریٹری کی ذمے داری ڈاکٹر شکیل احمد نبھارہے ہیں۔ تنظیم کے مرکزی دفتر دہلی میں بطور سکریٹری سید اخلاق احمد سے مدد حاصل کرنے کے لےے بوقت ضرورت رابطہ کیاجاسکتا ہے، ان کا موبائل نمبر 09899384358ہے۔ اس کے علاوہ اسسٹنٹ کوآرڈی نیٹر ابوبکر صباق سے 09540450308 پر اور 011-64639388پر رابطہ کیاجاسکتا ہے۔
www.apcrindi.org۔ اے پی سی آر کی ویب سائٹ

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔