حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

اتوار, جون 24, 2012

یہ احساس محرومی کیوں ہے؟



نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق ملٹی نیشنل 
کمپنیوں میں کام کرنے والے نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی اصل وجہ کام کا بہت زیادہ بوجھ اور احساس محرومی بتائی گئی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ودربھ اور بنگلور کے بعد گڑگاﺅں ملک کا دوسرا شہر ہے جو دن پر دن خودکشی ہب میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ خودکشی نجی شعبے میں کام کرنے والے پروفیشنل کر رہے ہیں جن کا فیصد7.8  ہے۔ خیال رہے کہ خودکشی کا یہ فیصد کاشتکاروں کے تناسب سے کم ہے ملک میں 11.9فیصد خودکشی معاشی تنگی سے پریشان حال کسان سود کے بوجھ کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اعداد وشمار سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ کام کا دباﺅ اور معاشی بحران کی وجہ سے کفایت شعاری کے نام پر کٹوتی کی وجہ سے نوکری گنوانے کا خوف نوجوانوں کو احساس محرومی میں مبتلا کر رہا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر بڑی تنخواہوں پر کام کرنے والے افراد پرپڑ رہا ہے، گویا دوسرے لفظوں میں مادیت پرستی اس کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں سائبرسٹی گڑگاﺅں میں سو سے زائد نوجوانوں نے موت کو گلے لگا لیا جن میں منیجنگ ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، سافٹ ویئر انجینئر اور فائنانشیل انالسٹ سطح کے ملازم شامل ہیں۔ 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی بحران کے بعد 2009ءمیں خودکشی کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوگیا تھا وہیں دوسری جانب اگر 2001ءتا 2010ءودربھ کے کسانوں کی خودکشی کے اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ 6826 کسانوں نے سودی قرض کے بوجھ کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیا۔
پوری صورتحال کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے پریشان ہوکر لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ یہ احساس محرومی کیوں ہے؟ اور اس کا مستقل حل کیا ہے؟ اس مسئلے پر رپورٹ میں کچھ بھی درج نہیں ہے بلکہ کام کے بوجھ سے نجات پانے کے لئے سیرو تفریح کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔ جبکہ اس کا مستقل حل خدا کی ذات کو رب ماننے اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کے عزم کے ساتھ ساتھ کفایت شعاری کی راہ اختیار کرنے میں ہے۔ اس کی بجائے پریشان حال نوجوانوں کو موج مستی کی ترغیب دینا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔

0 تبصرہ کریں:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔