حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

سوموار، 31 دسمبر، 2012

ہندو این جی اوز کو ملنے والی غیر ملکی عطیا ت کی تفصیلات کیا ہیں؟

ملک میں دہشت گردی کے معاملات کی تحقیق کرنے والی سرکاری ایجنسی این آئی اے نے حال ہی میں ایک ایف آئی آر درج کرائی ہے جس میں ایجنسی نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی سماجی تنظیمیں بیرون ملک سے جو عطیات حاصل کرتی ہیں انہیں فلاحی کاموں میں استعمال کرنے کی بجائے یہ رقم ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں صرف کرتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ سکھ این جی او1984کے سکھ مخالف فسادات اور آپریشن بلیو اسٹار کے متاثرین کی باز آباد کاری اور امداد کے لئے چندے کی رقم غیر ملکوں سے حاصل کرتی ہیں اور ان کو ببر خالصہ انٹرنیشنل اور خالصتان زندہ آباد فورس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے کرتی ہیں۔ معلوم ہو کہ گزشتہ دنوں این آئی اے نے وزارت داخلہ کے ایف سی آر اے شعبے سے پوچھا تھا کہ سال2008-9ءاور2010-11کے دوران ملک میں اقلیتی طبقے کی این جی اوز نے غیر ممالک سے کتنی رقمیں حاصل کی ہیں اور ان این جی اوز کی کل تعداد کیا ہے؟ غور طلب امر یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے ایف سی آر اے شعبے نے جو ڈاٹا فراہم کیا ہے چونکانے والاہے۔ وزارت داخلہ نے این آئی اے کو بتایا ہے کہ ملک کی 250مسلم این جی اوز کو 337کروڑ روپئے 14سکھ این جی اوز کو 23 کروڑ روپئے، 250بدھ سٹ این جی اوز کو 504 کروڑ اور سب سے زیادہ 4700عیسائی مشنریز کو دس ہزار 617 کروڑ حاصل ہوئے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ معاملہ دہشت گردی کی چھان بین سے متعلق ہے، اس کے باوجود ملک کے اکثریتی طبقے کی این جی اوز کو اس دائرے میں نہیں لایاگیا ہے جب کہ این آئی اے کے پیش نظر2008 تا 2011 کے درمیان ملک میں آنے والے غیر ملکی عطیات کی تفصیلات ہیں۔ یہ وہی زمانہ ہے جب ہیمنت کرکرے نے پہلی بار ملک کے سامنے زعفرانی دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب کیا تھا اور مالے گاوں دھماکے سمیت دیگر معاملات میں ہندو شدت پسند تنظیموں کے شامل ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ پروہت اور پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، لیکن این آئی اے نے ہندواین جی اوز کی تفصیلات جاننے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ این آئی اے نے ایسا کیوں کیا یہ غور طلب امر ہے ۔ دوسری جانب ایک اور پہلو اس تحقیق سے کھل کر سامنے آیا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ عیسائی مشنریز سرگرم عمل ہیں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور غیر ملکی عطیات بھی عیسائی مشنریز سب سے زیادہ وصول کرتی ہیں۔ توجہ طلب امر ےہ ہے کہ عیسائی مشنریز کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کی بھی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ کن کن شعبوں میں اس رقم کا استعمال کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ این آئی اے نے مسلم اورسکھ این جی اوز کی تفصیلات جاننے کی غرض سے ےہ درخواست دی تھی۔ حاصل شدہ تفصیلات سے پتہ چلا ہے کہ مسلم اور سکھ این جی اوز مل کر بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والی این جی اوز کے برابر بھی عطیات نہیں حاصل کرپاتیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اعداد وشمار کی روشنی میں آر ٹی آئی کی مدد سے وزارت داخلہ کے ایف سی آر اے شعبے سے معلوم کیا جائےکہ متذکرہ بالا عرصے میں ہندو این جی اوز نے کتنی رقمیں حاصل کیں اور ان کی تعداد کیا ہے؟ نیز ملک میں سرگرم عیسائی مشنریوں کے دائرہ کار کی تفصیلات کیا ہیں؟ ےہ اعداد وشمار چونکانے والے ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ سال2008میں جب زعفرانی دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب ہوا تھا تو اس وقت ہیمنت کرکرے کو کچھ ایسے دستاویزات ہاتھ لگنے کی خبریں آئی تھیں جن میں نیپال سمیت دیگر ممالک سے دہشت گردوں کے روابط کی بات ظاہر ہوئی تھی لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی کی تحقیق کا ےہ باب مہاراشٹر کے سابق اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے کی موت کے ساتھ بند ہوگیا۔ یہ اچھا موقع ہے کہ ہندواین جی اوز کے رول اور ان کو ملنے والی غیر ملکی عطیات کومنظر عام پر لایا جائے۔ اگر یہ کام آر ٹی آئی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے تو اس میں پہل کرنی چاہئے۔
اس مضمون کو نوری نستعلیق میں پرھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک کلک کریں
http://dawatonline.com/Archive_Page3.aspx?sDate=28-dec-2012

1 تبصرہ کریں:

ashraf bastavi نے لکھا ہے کہ

اس مضمون پر آپکے تاثرات کیا ہیں

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔