حالات حاضرہ،تجزیے، تبصرے اور انٹر ویوز پر مبنی تحاریر

جمعہ، 24 اکتوبر، 2014

گجراتی ارب پتی ہیرا تاجر ساوجي بھائی ڈھولكيا کی خصوصیت پر ایک نظر


مزدوروں کے حقوق پر  تقریریں کرنے اور تحریر لکھنے والوں  کے لیے سبق ہیں ساوجي بھائی ڈھولكيا 


محض چوتھی  کلاس پاس بارہ برس کی عمر ہی میں گجرات کی ڈائمنڈ انڈسٹری میں قدم رکھنے والے ساوجي بھائی ڈھولكيا  گجرات کے سورت میں  ہیرے کے بڑے تاجر ہیں اس سال دیوالی پر انہوں نے اپنے 1200 ملازمین کو تحفے کے طور پر مکان، کاریں اور زیورات سے نوازا ہے  یہ خبر جیسے ہی میڈیا میں عام ہوئی  ہر  جانب  ڈھولکیا جی کی سخاوت کے قصے عام ہو گئے  گزشستہ دنوں ان سے این ڈی ٹی وی  کے سینئر اینکر رویش کمار نے ایک  خصوصی انٹر ویو لیا تھا  جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔ انٹرویو کے درمیان ایک دلچسپ  موڑ ایسا بھی آیا جب رویش نے ان سے جاننا چاہا کہکہیں آپ نے کا رل مارکس کو تو نہیں پڑھا ہے ، کیا میں ایک  کمیونسٹ مزاج  تاجر سے بات کر رہا ہوں ، یا صرف اور صرف کاروباری سے ؟ تو  وہ بے چارے اس کے جواب میں  بڑے ہی سادگی سے کہتے ہیں کہ آپ ایسے شخص سے بات کر رہے ہیں جو پڑھا ہوا تو نہیں ہے لیکن ہر روز کچھ نیا سیکھتا ضرور ہے  پھر اپنی بات دہراتے ہوئے بولے ہمیں تو خدانے نے ملازمین کی محنت کے صلے میں دیا ہے اس لیے ہم انہیں دے رہے ہیں بقیہ ہم کچھ نہیں جناتے  اس سے ان کی سادہ لوحی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ رویش کو پھر اطمینان نہیں ہوتا ہے وہ ایک بار پھر  پوچھتے ہیں کہ کہیں آپ کمیونسٹ تو نہیں ہیں ؟ اس کے جواب میں مسٹر ڈھولکیا بڑی سادگی سے کہتے ہیں " کمیونسٹ کا گجراتی بولو بھیا میں زیادہ ہندی نہیں جانتا" ان کے اس جواب سے ان کی سادگی اور اپنے کام کے تئیں انہماک کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے
1991 میں ڈھولکیا برادران نے مل کر ایک کروڑ سے کاروبار کی شروعات کی تھی جو اب 6 ہزار کروڑ تک پہونچ گیا ہے۔



رویش کے پہلے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا. میں نےکاروبار صفر سے شروع کیا تھا . خدا کی عنایت ہے کہ میں اس مقام تک پہنچا. انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملازمین کی ایمانداری اور محنت کے بدولت ہی  کامیابی کے اس مقام تک پہنچے ہیں. اس لیے  میں مکمل  منافع میں اکیلے نہیں ہضم کر سکتا. ساوجي بھائی  نے پچھلی دیوالی میں بھی 100 ملازمین کو کار تحفے کے طور پر دی تھی. انہوں نے کہا کہ جو بھی میرے پاس ہے وہ قدرت کی دین ہے. ابھی تک کا  میرا تجربہ یہ  ہے کہ دینے سے کم نہیں ہوتا ہے. یہ تو فطرت کا اصول ہے کہ ایک بیج کی روپائی  سے 100 دانے پیدا ہوتے ہیں۔

ویڈیو انٹر ویو دیکھیں 

آج تک ہم نے جو دیا ہے اس سے زیادہ ہی ملا ہے. ڈھولكيا نے کہا، 'میں نے تجزیہ کیا کہ آخر  مجھے 1 کروڑ سے 6 ہزار کروڑ تک پہنچا نے میں کس کا سب سے زیادہ کردار ہے؟ پھر ہم نے پایا کہ ہمارے 12 سو ملازمین کا سب سے بڑا کردار ہے. میں نے 6000 ملازمین میں سے 1200 سب سے  زیادہ محنتی ملازمین کا انتخاب کیا. میں نے اپنے بیٹے کو نیویارک سے ایم بی اے کرایا ہے. اس سے  اس پورے معاملے کی اسٹڈی کرائی کہ یہ پتہ لگائے کہ  ہمارے کاروبار کی وسعت میں کن کن کا  سب سے زیادہ رول ہے.  مسٹر'ڈھولكيا کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ملازمین کو بہت زیادہ  نہیں دیا ہے. جو بھی دیا ہے وہ بہت تھوڑا ہے. ان کی محنت کے اعتبارسے کچھ بھی نہیں ہے. میرا خیال ہے کہ اس سے میرے دیگر ملازمین کو  مثبت مسابقت کریں گے انہیں اس سے سبق ملے گی ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ 'میں نے تحفے دینے میں 50 کروڑ خرچ کئے ہیں،  پہلے سوچا کہ سب کوکار دوں. بعد میں  اسٹڈی سے پتہ چلا کہ 200 لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے اس کے بعد منصوبے میں تبدیلی کی گئی.جن کے پاس گھر بھی تھا اور گاڑی بھی ان کی بیویوں کو  زیورات دیے . 451 لوگوں کو کاریں دیں. میرا خیال ہے کہ اس سے دوسری کمپنیوں کو بھی ترغیب ملے گی. میں نے اپنے ملازمین کے لئے کرکٹ، والی  بال، ٹینس کورٹ، سوئمنگ پول اور جم کا بھی اہتمام کیا ہے۔'

میرے ملازم پڑھے لکھے تو نہیں ہیں لیکن وہ کسی پروفشنل انجنیئر سے کم بھی نہیں ہیں. انڈیا میں انجنیئر کی جتنی تنخواہیں  ہوتی ہیں اس سے کئی گنا زیادہ میں انہیں سیلری دیتا ہوں. میرے 1200 ملازمین نے 10 کروڑ کا ٹي ڈي ایس ٹیکس  بھرا ہے. اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی سیلری کتنی ہوگی.  وہ کہتے ہیں دیکھیے میں سوشل بجنس کر رہا ہوں. میرے ملازم ملک کے 21 ریاستوں کے 361 گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں. ان تمام کے والدین کو میں  ذاتی طور پر جانتا ہوں. اپنے ملازمین کے والدین کو عمرے کراتا، مذہبی مقامات کےاسفار پر بھیجتا ہوں. میرا کام کرنے کا طریقہ یہی ہے. میں  سوشل ذمہ داری بھی اٹھاتا ہوں. میرا خیال ہے کہ اس طرح کی حوصلہ افزائی  سے لوگوں کی ذمہ داری  اوربڑھ جاتی ہے نیز میں پہلےانہیں دیتا ہوں پھر ان سے توقع کرتا ہوں ، یہ میرا اپنا طریقہ ہے میں بہت مطمئن ہوں ۔

پیش کش : اشرف علی بستوی نئی دہلی 

1 تبصرہ کریں:

Asif Raza نے لکھا ہے کہ

چار جماعت پاس آدمی مزید کوئی خبر ہے یا معلومات ان کے متعلق میں بھی مستقبل میں ڈائمنڈ مارکیٹ میں دکان کھولنے کا ارادہ یا خواب ہے۔میں کس طرح ایسا کر سکتا ہوں۔کہ سب کیسے ہوتا ہے۔کچھ اور روشنی ڈالے گے اس بات پر؟؟؟

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔